حرفے چند با سیاست کارانِ پاکستان

  حرفے چند با سیاست کارانِ پاکستان
  حرفے چند با سیاست کارانِ پاکستان

  

 آج کے کالم کا عنوان میں نے علامہ اقبال کی ایک فارسی کتاب ”پس چہ باید کرد اے اقوامِ مشرق“ سے لیا ہے جس کا اردو ترجمہ ہے، ”مشرق میں آباد قوموں کو کیا کرنا چاہیے“۔ یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے جو صرف 86صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک نظم کا کیپشن یہ ہے۔ (لفظ Caption ہر چند کسی شعری نظم کا عنوان نہیں بن سکتا…… عنوان گویا کسی پارۂ نظم و نثر کے اوپر کا سرنامہ ہوتا ہے جبکہ کیپشن کسی تصویر کے نیچے کی تحریر ہوتی ہے جو خاموش تحریر کو گویا تابِ گویائی عطا کرتی ہے۔)

اقبال کی اس نظم کا عنوان ”حرفے چند باامتِ عربیہ“ ہے۔ اس کے 39 اشعار ہیں اور ایک ایک شعر میں حکمت و دانائی کے بے شمار گوہر چھپے ہوئے ہیں۔ اقبال نے اس نظم میں عربوں کو جو نصیحتیں کی ہیں ان کو عربوں کی گوشمالی اور سرزنش کا نام دینے میں کوئی ہرج نہیں۔ لیکن میں نے اس کالم میں عربوں کی بجائے پاکستانی سیاست کاروں سے خطاب کیا ہے اور نثر میں کیا ہے۔

میرے تجزیئے کے مطابق پاکستانی سیاست دانوں نے ایک دوسرے کو اپنا ذاتی اور جماعتی دشمن سمجھ رکھا ہے۔ سیاسی دشمنی کو ذاتی یا جماعتی دشمنی سمجھ لینا ہمارے سیاستدانوں کا طرۂ امتیاز ہے اور اسی دستار کے طرّے سے ہزار شکن اور صدر ہزار سلوٹیں پھوٹتی ہیں جن کو بہ نگاہِ غائر دیکھنا چاہیے۔

نون لیگ کو کل سپریم کورٹ کی طرف سے بدترین سیاسی شکست کا سامنا ہوا۔ عدالت عظمیٰ نے بعض مائیکرو معاملات کو بھی اپنے فیصلے کا حصہ بنایا۔ مثلاً یہ کہ حمزہ شہباز آج ہی اپنا دفتر اور سرکاری رہائش گاہ چھوڑ دیں، پرویز الٰہی آج ہی ساڑھے گیارہ بجے شب حلف اٹھائیں (جو دو بجے صبح تک چلا گیا) اور اگر گورنر پنجاب حلف نہ دلوا سکیں تو صدر پاکستان یہ کام کریں وغیرہ وغیرہ۔

سپریم کورٹ ایک ایسی عدالت ہے جس کے اوپر کوئی اور عدالت نہیں اور اگر ہے بھی تو وہ خود ہے۔ اسی کو نظرثانی کا حق حاصل ہے۔ 10اپریل (2022ء) کو اس سپریم کورٹ کے اسی بنچ نے عمران خان کو بطور وزیراعظم چلتا کیا۔ اس کے بعد 10اپریل تا 26جولائی جو کچھ پاکستانی عوام نے دیکھا وہ بڑا سبق آموز تھا۔ مجھے نون لیگ کے قائدین میں دو ایسی نفسیاتی بیماریاں نظر آتی ہیں جن کا علاج ہونا چاہیے۔۔۔۔ اور جلد ہونا چاہیے۔ 

ان میں ایک کو ”تکبر“ کہا جاتا ہے اور دوسری کو ”حسد یا انتقام“ کا نام دیا جا سکتا ہے۔

تکبّر کا عالم یہ تھا کہ جن لوگوں کو وزارتیں سونپی گئیں انہوں نے اپنی اخلاقی چادر سے بار بار پاؤں باہر نکالے۔ 25مئی کے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے خلاف جو کچھ کیا گیا، اس کو ناقابل یقین حد تک رذیل اور ذلیل کہا جا سکتا ہے۔ اس کی تفصیل ہم سب پاکستانیوں کو معلوم ہے۔  اس کے بعد سب وزرائے کرام نے آتے ہی ایسے اقدامات کئے  جن کا کوئی جواز نہ تھا۔ اگر عمران خان کی پی ٹی آئی نے اپنے دور میں غلطیاں یا غلطان کئے تھے تو ان کا اس قدر عجلت سے جواب نہیں دیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن نجانے نون لیگ کو کیا جلدی تھی کہ ہر صبح کے طلوع سے غروب تک ایسے عاجلانہ فیصلے کئے گئے جو عاقبت نا اندیشانہ کہے جا سکتے ہیں۔ خدا جانے ان حضرات کو اتنی جلدی کیا تھی۔ مرد و زن اور پیرو جواں میں کوئی تفریق 25مئی کو نہ رکھی گئی۔ سب کچھ ٹیلی ویژن پر آ رہا تھا لیکن ساری کابینہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ پھر جب 20حلقوں میں ضمنی الیکشن ہوئے تو وزیر داخلہ نے ببانگِ دہل فرمایا کہ: ”پی ٹی آئی کی 5،7 نشستیں ہی زیادہ ہیں ناں۔ ان کو اِدھر اُدھر کرنا کیا مشکل ہے؟۔۔۔“ رانا ثناء اللہ کا یہ جملہ اتنا عاقبت نااندیشانہ تھا کہ اسے پاکستان کے ہر صاحبِ ہوش نے محسوس کیا اور ان کی دانش و منصب کے افلاس کی ”داد“ دی۔ نون لیگ کے اونچے برجوں سے یکے بعد دیگرے ایسے بیانات لاؤڈ سپیکروں پر نشر ہوتے رہے جو اگر نہ ہوتے تو کہیں بہتر ہوتا!

پی ٹی آئی کے زعماء نے ان بیانوں کا جواب ضرور دیا لیکن یہ جواب مبنی بر دلائل تھا اور ان کی آہستہ روی اور شائستگیء فکر و نظر کا غماز بھی تھا۔ موجودہ حکومت کے آج 106دن پورے ہو رہے ہیں۔ ان ایک سو چھ دنوں میں نون لیگ کے قائدین نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ اب اقتدار 106 ماہ تک ان کے پاس رہے گا۔ حسد اور انتقام کی بھی حدود مقرر ہیں۔ اگر پی ٹی آئی نے اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ اقتدار میں نون لیگ یا پی ڈی ایم کی دوسری جماعتوں کے ساتھ ناانصافیاں اور زیادتیاں کی تھیں تو ان کا جواب اگر رحمدلی اور شریفانہ اوصاف کا اظہار کرکے دیا جاتا تو پاکستانی عوام میں نون لیگ کا قد نسبتاً اونچا ہو جاتا۔۔۔۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کو دیکھئے۔۔۔۔ ان کے چیئرمین نے چیری بلاسم، ڈیزل، ککڑی اور آکاش وانی کی گردان اس شد و مد اور تواتر سے کی کہ تحریک انصاف کے بعض مدبرین اور سیاستدانوں نے بھی اس کا بُرا منایا اور خان صاحب کو مشورہ دیا کہ عوامی جلسوں اور ریلیوں میں ان ناپسندیدہ، ناہنجار اور نابکار القابات سے گریز کریں۔ یہ فعل ایک آدھ بار قابلِ معافی فعل گردانا جا سکتا ہے لیکن ہر جلسے میں ان کا استعمال سستی شہرت اور نامطلوب ہر دلعزیزی کا باعث سمجھا جائے گا۔ مانسہرہ کے ایک جلسے میں خان صاحب نے واشگاف انداز میں یہ بھی کہا کہ مجھے جنرل باجوہ نے یہاں آتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل نہ کہوں۔۔۔۔ ان کی طرف سے آرمی چیف کا نام لے کر ”ڈیزل“ کی تکرار غیر ضروری تھی۔ اگر وہ اس وقت یہ کہہ دیتے کہ آئندہ میں ’ڈیزل‘ نہیں کہوں گا تو ان کا سیاسی قد اور اونچا ہو جاتا۔ لیکن اس جلسے کے بعد دوسرے درجنوں جلسوں میں عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کو جن ”خود اختراع کردہ“ القابات سے یاد کیا، وہ ان کی قد آور شخصیت کے شایانِ شان ہرگز نہ تھا۔ ان کے دوسرے رفقائے کار مثلاً اسد عمر، شیخ رشید، حماد اظہر، چودھری فواد اور شیریں مزاری وغیرہ نے کبھی ان القابات سے نون لیگ کے کسی لیڈر کو نہ نوازا۔ البتہ خان صاحب کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے اپنی طلاقتِ لسانی کا خوب خوب استعمال کیا۔ ان کا لب و لہجہ اور پنجابی روزمرہ والے محاوروں کا استعمال بھی اگرچہ جوابِ آں غزل کے طور پر دیا گیا تاہم میری نظر میں ان کی ٹون (Tone) دھیمی رکھی جا سکتی تھی۔

ان ایام میں وزیراعظم شہباز شریف کا لب و لہجہ خاصا نستعلیق رہا۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں عمران خان جیسی گھن گرج اور بلند آہنگی نہیں تھی۔

مریم نواز اور مریم اورنگزیب کا طرزِ گفتار لاکھ نا مطلوب ہوگا لیکن ان کے بیانیے پر تنقید کی جا سکتی ہے، زبان و اندازِ بیان پر نہیں۔ البتہ ان دونوں خواتین کے بیانیوں میں تکبّر اور انتقام کی ”ادائیں“ ہر سننے والے کو چیں بہ جبیں ہونے کی دعوت دیتی ہیں۔

پاکستان کے عوام اب خاصے سمجھدار اور گفتار شناس ہو چکے ہیں۔ جوں جوں دن گزر رہے ہیں عوام کے اس وصف کا گراف اوپر جا رہا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ اس ’تبدیلی‘ کا احساس کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ اپنے مخالف کی ہر غلط بلکہ غلیظ عادات کا جواب بھی انہی سکّوں میں لوٹائیں۔ مغرب کی جمہوری روایات سے سبق سیکھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ کسی مغربی سیاستدان نے ایسے ”اسمائے صفت“ اپنی سیاسی تقاریر یا جوابی سیاسی تقاریر میں استعمال کئے جیسا کہ ہم ہر روز سننے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔۔۔ میثاقِ جمہوریت، میثاقِ معیشت کے ساتھ ساتھ میثاقِ گفتار کو بھی ایک ضابطے کے تحت لانے کی ضرورت ہے۔ عوامی ہردلعزیزی کا مطلب پھکڑپن نہیں!

مزید :

رائے -کالم -