ملکی بحران کا واحد حل غیر متنازعہ الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات: عمران خان، وفاقی حکومت کیخلاف جارحانہ حکمت عملی تیز کرنے کا فیصلہ 

ملکی بحران کا واحد حل غیر متنازعہ الیکشن کمیشن کے تحت شفاف انتخابات: عمران ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا ایک ہی راستہ وہ ہے شفاف انتخابات،اگرصاف شفاف الیکشن نہیں ہونگے تو بحران اور انتشار مزید بڑھے گا، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورتحال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں، عمران خان نے کہا صاف و شفاف انتخابات کیلئے ایسا الیکشن کمیشن تشکیل دینا چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو۔ملک کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی لیکن اسے الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں، موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں، ای وی ایم لانے کی کوشش کی تو چیف الیکشن کمشنر نے اس کی مخالفت کی، جسٹس ناصر الملک کی قیادت میں دھاندلی سے متعلق کمیشن بنا تھا، کمیشن رپورٹ کے مطابق دھاندلی اس وقت ہوتی ہے جب پولنگ ختم ہوتی ہے، ای وی ایم کے ذریعے پولنگ ختم ہوتے ہی بٹن دبانے سے نتیجہ آ جاتا ہے، چیف الیکشن کمشنر نے پوری سازش کی اور ای وی ایم لانے کی اجازت نہیں دی۔ ہمیں سب سے پہلے ایک بااعتماد الیکشن کمیشن چاہیے جس پر سب کو اعتماد ہو، حالات بگڑتے جا رہے ہیں اس صورتحال سے ہم قوم بن کر ہی نکل سکتے ہیں۔ قوم فیصلہ کر لے ہم نے قرضے اْتارنے ہیں تو قوم یہ کر سکتی ہے، قوم فیصلہ کرلے ہم نے ٹیکس دینا ہے تو قوم یہ کر سکتی ہے، قوم مل جائے تو دس سال میں پھرسے اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکتی ہے، قوم بن کر مسائل کا مقابلہ نہیں کرتے تو حل نہیں کر سکتے۔ عوام سے خطاب کر تے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا میرے پاکستانیو آج سب کو مبارکباد دیتا ہوں، تین ماہ پہلے ہماری حکومت ہٹا کر کرپٹ لوگوں کو مسلط کیا گیا، ان لوگوں کو مسلط کیا گیا جو تیس سال سے کرپشن کر رہے تھے، قوم کی توہین کی گئی، عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھا گیا، کسی کو بھی مسلط کردو کہ قوم خاموش ہو کر برداشت کریگی، ہماری حکومت ہٹانے کے بعد ہماری جماعت کو دبا نے کا پروگرام بنایا گیا، 25 مئی کو بیرونی سازش اور امپورٹڈ ٹولے کیخلاف پر امن احتجاج کی کال دی، پی ٹی آئی کی توڑ پھوڑ کی تاریخ ہی نہیں، لیکن 25 مئی کو ظلم کیا گیا، خواتین اور بچوں پر تشدد کیا گیا،آج بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سمجھ رہے تھے قوم خاموش ہو کر گھروں میں بیٹھ جائیگی، ایسا نہیں ہوا، عوام ایک قوم بن رہی ہے اور گھروں سے نکل ر ہی ہے، 2018ء کے الیکشن میں بھی عوام کو اس طرح نکلتے نہیں دیکھا، ضمنی الیکشن میں جس طرح عوام نکلے اس کی مثال نہیں ملتی، تشدد کر کے سمجھا گیا ہمیں کچل دینگے، پہلی مرتبہ قوم بنتے دیکھ رہا ہوں، حمزہ شہباز کو غیر قانونی طور پر بیٹھایا گیا، حکومتی وسائل استعمال کیے گئے، الیکشن کمیشن کیساتھ مل کر ہمیں الیکشن ہرانے کی پوری کوشش کی گئی، زندہ قوم کھڑی تھی، زندہ قوم نظر آئی اسلئے یہ لوگ ناکام رہے، زندہ قوم نے جس طرح الیکشن لڑا سلام پیش کرتا ہوں، جس طرح آپ نے الیکشن لڑا اس پر آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔ہمارے سارے معاشی اشاریے درست راستے پر چل رہے تھے، موجودہ حکومت نے اقتصادی سروے رپورٹ جاری کی، رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت 6 فیصد گروتھ کر رہی تھی، 17 سال بعد پاکستان کی معیشت میں اس قسم کی ترقی ہو رہی تھی، مشرف دور میں ڈالرز آرہے تھے اسلئے ترقی ہو رہی تھی،ہم پاکستان کو پہلی بار فلاحی ریاست کی طرف لے جا رہے تھے، پاکستا ن میں صحت کارڈ متعارف کروایا، غریب لوگوں کو ہیلتھ انشورنس دی، بڑے ممالک ایسے ہیں جہاں صحت کارڈ یا ہیلتھ انشورنس کی سہولت نہیں، صحت کارڈ شروع کرنے پر دنیا نے ہما ری پالیسی کی تعریف کی، صحت کارڈ سے پہلی بار غریب لوگ پرائیویٹ ہسپتال سے علاج کروا رہے تھے۔عمران خان نے کہا کہ کراچی میں بنڈل آئی لینڈ پرایک ماڈرن سٹی بنا رہے تھے،زرداری نے متاثر کیا، بنڈل آئی لینڈ کیلئے بڑے سرمایہ کار آ گئے تھے، پیپلز پارٹی نے روک دیا، اوورسیز پاکستانیوں کو زمینوں میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کر رہے تھے، سندھ حکومت نے این او سی دیکر واپس لے لیا، راوی سٹی سے متعلق بھی بہترین سرمایہ کاری آ رہی تھی، راوی سٹی پر ایک سال کا سٹے آرڈر لے لیا گیا، سرمایہ کاری رک گئی، بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے پیکیج تیار کر رہے ہیں، جس سے ملک کو فائدہ ہو گا، بیرون ملک پاکستانیوں کا پیسہ ملک میں سرمایہ کاری میں لگائیں گے، بیرون ملک پاکستانی موجودہ حکمرانوں پر بالکل یقین نہیں کرتے، یہ بیرون ملک پاکستانیوں کو کہتے ہیں پیسہ ملک لائیں اور خود باہر لے جاتے ہیں، تاریخ میں کبھی بیرون ملک پاکستانی ایسے احتجاج کے لیے نہیں نکلے تھے، پہلی بار اوور سیز پاکستانی امپورٹڈ حکومت کیخلاف ا حتجاج کیلئے نکلے تھے، یہ لوگ سب سے بڑا خسارہ 2018ء میں چھوڑ کر گئے تھے، دوست ممالک کے پاس قرضہ مانگنے گیا تو بہت شرمندہ ہوتا تھا، کسی ملک سے پیسہ مانگتے ہیں تو پاکستانیوں کیلئے برا ہوتا ہے، ہم دوبارہ اقتدار میں آئے تو اوور سیز پاکستانیوں سے پیسہ جمع کریں گے، ہر معاشرے کی بنیاد قانون انصاف ہے، مطلب قانون کی حکمرانی ہے۔

عمران خان

اسلا م آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وفاقی حکومت کیخلاف جارحانہ حکمت عملی کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی کے مرکزی رہنما شریک تھے۔ اجلاس میں پنجاب کابینہ کی تشکیل سمیت اہم امور پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں (ن) لیگ کی جانب سے گورنر راج لگانے کی دھمکی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران عمران خان اور دیگر قیادت کی جانب سے اہم فیصلے کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا وفاقی حکومت کیخلاف جارحانہ حکمت عملی کو تیز کیا جائیگا۔پنجاب کے بعد اب عمران خان کا اگلا ہدف وفاقی حکومت ہوگی، اس حوالے سے عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں سے مختلف امور  پر تجاویز بھی لیں اور پارٹی رہنماؤں کو عام انتخابات کی تیاریوں کی ہدایت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا چوروں کے ٹولے نے ملک کو تباہ کر دیا، عوام جاگ چکی ہے، کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے، قوم کو پتہ چل چکا ہے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا، سپریم کورٹ نے آئین و قانون کی مطابق سچ کا ساتھ دیا، قوم کو آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کرو ں گا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب پرویز ا لٰہی کی بنی گالا میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ملاقات ہوئی،اس دوران ق لیگ کے رہنما مونس ا لٰہی بھی موجود تھے۔نومنتخب وزیراعلیٰ پرویز ا لٰہی نے ایک بار پھر عمران خان کیساتھ چلنے کے عزم کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران سبطین خان کو سپیکر پنجاب اسمبلی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ پرویز الٰہی نے کہا عمران خان پنجاب اسمبلی توڑنے کا کہہ دیں تو ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا۔دوسری جانب پنجاب کابینہ کی تشکیل پر بھی مشاورت جاری ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو بھی نئی کابینہ میں شامل کرنے پر غور شروع کردیا۔ ابتدائی طور پر سابق گورنر کو صوبائی وزارت داخلہ میں کام کرنے کی آفر کی گئی تاہم عمر سرفراز چیمہ نے تاحال عہدہ لینے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

پی ٹی آئی اجلاس

مزید :

صفحہ اول -