پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مفاد عامہ میں صرف مالی معاملات دیکھ سکتی ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مفاد عامہ میں صرف مالی معاملات دیکھ سکتی ہے: اسلام آباد ...

  

    اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پبلک ڈومین میں وہی درخواست دیکھ سکتی ہے جو فنانس سے متعلقہ ہو، ہر ادارے کی اپنی عزت ہے پارلیمنٹ ہو یا عدلیہ، لاہور ہائیکورٹ کی ججز اور وکلا کی لائبریری ہمارے ہاں سے بہتر ہے۔۔ عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر درخواستیں قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے قائم مقام چیئرمین نیب کی درخواست پر بھی سیکرٹری قومی اسمبلی و دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے طلبی کے لیے بلانے پر کوئی تادیبی کارروائی نہ کرنے کے حکم میں آئندہ سماعت تک توسیع کردی۔ عدالت نے چیئرمین نیب، ڈی جی نیب کی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے اور طیبہ گل ہراسگی درخواست سننے کے پبلک اکاونٹس کمیٹی کے دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں طلبی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پی اے سی فنڈنگ اور فنانس سے متعلق بلائے تو کوئی ایشو نہیں، سوال صرف اتنا ہے کہ اس معاملے میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کا دائرہ اختیار ہے؟ یہ کورٹ یہ پٹیشن سنتے ہوئے کیا کسی کو سزائے موت دے سکتی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مفاد عامہ میں کوئی درخواست آئے تو پبلک اکاونٹس کمیٹی دیکھ سکتی ہے، جس پر قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی پبلک ڈومین میں وہی درخواست دیکھ سکتی ہے جو فنانس سے متعلقہ ہو، ہر ادارے کی اپنی عزت ہے پارلیمنٹ ہو یا عدلیہ۔ڈی جی نیب کے وکیل نے کہا کہ میرے کلائنٹ کو پی اے سی کے سامنے پیش ہونے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ عدالت گزشتہ اجلاس کے میٹنگ منٹس پیش کرنے کی اجازت دے، عدالت دیکھے کہ انہوں نے کس طرح سے جواب دیے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ کل سپریم کورٹ میں جو پٹیشن منظور ہوئی، اس میں، میں بھی وکیل تھا۔ کل کی پٹیشن کے بعد سپریم کورٹ سے قابل سماعت کا معاملہ طے ہوگیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ نیب کو فنڈنگ کے معاملات میں اگر بلایا جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن جہاں دائرہ اختیار کا ایشو ہو تو عدالت نے دیکھنا ہے۔  اکاونٹس کے علاوہ جو کر رہے ہیں کیا یہ ان کا دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں، قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کی ججز اور وکلا کی لائبریری ہمارے ہاں سے بہتر ہے۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -