ملکی ذخائر جلد ختم، حکومت کا پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرنیکا فیصلہ 

ملکی ذخائر جلد ختم، حکومت کا پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرنیکا فیصلہ 

  

بہاولپور، نورپورنورنگا (ڈسٹرکٹ رپورٹر،نامہ نگار)چند ماہ میں گندم کے شدید بحران کا اندیشہ ہے،کیونکہ حکومت ستمبر میں جو گندم گوداموں سے ریلیز کرتی تھی اسے اس نے ماہ جون سے ہی جاری کرنا شروع کر دیا ہے جسکی وجہ سے جنوری میں گندم کے ملکی ذخائر ختم ہونے جا رہے ہیں اور گندم کا سارا دارومدار امپورٹ گندم پر ہو گا، اب تک ادارے گندم کی ملکی کھپت کے حقیقی اعداد و شمار حاصل نہیں کرسکے، موجودہ گندم کا(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

 اوپن مارکیٹ ریٹ 3200 روپے فی من کے قریب ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے،گندم کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے حکومت نے فی الحال 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ کل 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرنے کا ہدف ہے جس میں سے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کا پہلا جہاز 5 جولائی کو پاکستان پہنچ چکا ہے باقی تین جہاز بھی اسی ماہ یا اگست کے مہینے میں لنگر انداز ہو جائیں گے،چار جہاز پاکستان پہنچنے کے بعد 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا ہدف پورا ہو جائے گا اور باقی 25 لاکھ میٹرک ٹن گندم مزید منگوانا پڑے گی۔دلچسپ اور interesting بات یہ ہے کہ حکومت کو یہ گندم دیگر اخراجات سمیت 4800 روپے فی 40کلوگرام پڑ رہی ہے جبکہ حکومت نے اپنے کسانوں سے یہ گندم 2200 روپے فی من خریدی ہے جو کہ ملکی زرعی معیشت پر ظلم کے مترادف ہے نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے آئندہ  سال کیلئے گندم کی نئی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لئے صوبوں سے مشاورت مانگ لی ہے تاکہ اگست یا ستمبر تک آئندہ کے لئے گندم کی امدادی قیمت کا تعین کیا جا سکے۔گندم کی نئی امدادی قیمت کم از کم 3000 روپے فی من تک ہونی چاہئے لیکن اس کے آثار کم ہی نظر آتیہیں جس کی وجہ سے رواں سال گندم کی کاشت میں کمی کا اندیشہ ہے کیونکہ 15000کی ڈی اے پی اور 2400کی یوریا اور مہنگے ڈیزل نے پیدواری اخراجات میں 100گنا اضافہ کردیا ہے،جس کی وجہ سے بہتر قیمت مقرر نہ ہونے سے کاشتکار گندم کی کاشت کی بجائے دیگر نفع بخش فصل کاشت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے،جس سے نئے سال میں گندم کی قلت کا پھر خطرہ کھڑا ہو جائے گا۔اگر ملک کوگندم میں خود کفیل کرنا ہے تو کم ازکم ریٹ 3000 روپے فی من تک ہونا ضروری ہے ورنہ دیکھا جائے تو 3000 روپے فی من بھی پیدواری اخراجات کی مناسبت سے کم ریٹ ہے۔ کیونکہ اس وقت4800 روپے فی من گندم باہر سے خریدی جا رہی ہے اور ڈالر میں اس کی ادائیگی کرکے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی لائی جارہی ہے،اور اپنے کسانوں کو فائدہ دینے کی بجائے باہر کے کسان کو فائدہ دیا جارہا ہے،روس اور یوکرائن کے حالات پھر سے کشیدہ ہو گئے ہیں اور تمام راستے بند کر دینے کی دھمکیاں سننے کو مل رہی ہیں۔اگر ایسا ہو گیا تو بقایا 25 لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرنے کا منصوبہ دھرے کا دھرا  رہ جائے گا جس سے ملک میں غذائی بحران شدت اختیار کر جائے گا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -