لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں کو مبینہ غفلت زچہ و بچہ دونوں جاں بحق

لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں کو مبینہ غفلت زچہ و بچہ دونوں جاں بحق

  

      کوھاٹ (بیورو رپورٹ) لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت زچہ و بچہ دونوں جاں بحق ہنگو سے تعلق رکھنے والی خاتون خون کی کمی کی بدولت بچے سمیت انتقال کرگئی لواحقین کے مطابق خون کے بیگ موجود ہونے کے باوجود سٹاف موبائل پر مصروف تھے ایم ایس نے اعلیٰ افسران سے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔ لواحقین نے پولیس رپورٹ نہ کرنے اور ڈیپارٹمنٹل انکوائری کا مطالبہ کرکے لاش کو بغیر پوسٹ مارٹم کے آبائی علاقہ روانہ کر دیا۔تفصیلات کیمطابق جمعہ کے روز ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے آصف خان نے اپنی بھابھی جس کا شوہر لوکل گورنمنٹ میں نائب قاصد کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہا ہے کو ڈیلیوری کیلئے لیاقت میموریل ہسپتال کوہاٹ لے آیا جہاں لیڈی ڈاکٹر نے معائنہ کرکے لیبر روم بھیج دیا اور ورثاء کو معمولی مسئلہ کا بتاتے ہوئے خون کی فراہمی کا کہا جو کہ ورثاء کے مطابق فوری طور پر متعلقہ خون کے بیگز کا بندوبست کرکے سٹاف کے حوالہ کیا میڈیا کو بتاتے ہوئے آصف خان نے کہا کہ میری بہن جو کہ لیبر روم میں مریضہ کے ہمراہ تھی بار بار سٹاف کو خون لگانے کی عرضی کرتی رہی جس پر موبائل میں مصروف سٹاف نے انہیں بتایا کہ خون لگا دیا ہے کوئی مسئلہ نہیں حالانکہ خون اسی طرح پڑا تھا اور صرف نیڈل مریضہ کے ہاتھ پر رکھ کر اسے ٹرخا دیا اور بار بار پوچھنے پر سٹاف آپے سے باہر ہوکر برا بلا کہنے لگیں اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے دی 3گھنٹوں بعد ورثاء کو بتایا کہ زچہ و بچہ دونوں جاں بحق ہوگئے ورثاء  نے احتجاجاً ایم ایس لیاقت ہسپتال کو کال کرکے ان کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروایا۔انہوں نے شعبہ صحت کے اعلی حکام سے  فوری انصاف کی اپیل کا مطالبہ کیا اور رپورٹ درج نہ کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ بد اخلاق سٹاف کے خلاف ڈیپارٹمنٹ انکوائری کیلئے ایم ایس کو درخواست دے دی ایم ایس نے میڈیا کو اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے اور اس کی شفاف انکوائری ہونی چاہئے انہوں ہائی اتھارٹی سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ فرائض میں کوتاہی کرنے والے متعلقہ سٹاف کو فوری طور پر معطل کرکے متبادل سٹاف دیا جائے اور ان کے خلاف صاف اور شفاف محکمانہ کاروائی کرکے سزا دی جائے انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے بھی درخواست کی اور اے سی کی نگرانی میں واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔ تاک  متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -