ریٹیلرز سیلر ٹیکس:بھاری بجلی بل وصول، تاجروں کا ملک گیرتحریک چلانے کا اعلان 

ریٹیلرز سیلر ٹیکس:بھاری بجلی بل وصول، تاجروں کا ملک گیرتحریک چلانے کا اعلان 

  

 ملتان،بوریوالا،کوٹ ادو،وہاڑی(نیوز رپورٹر،تحصیل رپورٹر، بیورورپورٹ، نمائندہ خصوصی)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بجلی بلوں میں بھاری ٹیکس شامل کرنے پر ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔تاجر بجلی کے بھاری اور غیر قانونی بل ادا نہیں کریں گے۔حکومت بھاری ٹیکس اور بجلی کی قیمت میں اضافہ جیسے اقدامات کرکے قوم بالخصوص تاجروں کو سول نافرمانی (بقیہ نمبر48صفحہ6پر)

کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، مرکزی سنیئروائس چیئرمین شیخ اکرم حکیم، جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، ضلع ملتان کے صدر سید جعفرعلی شاہ، ملتان کے صدر خالد محمود قریشی،نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اتوار کو ملتان سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔مطالبات تسلیم نہ ہونے پر غیر معینہ مدت کی ہڑتال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔مرکزی و مقامی عہدیداروں، جاوید اختر خان، حاجی ندیم قریشی،مرزانعیم بیگ، ملک عمران قیوم بھٹہ، کاشف رفیق، چوہدری ارشاد، حکم علی قریشی، حافظ عمران سجادقریشی، ملک قیصر اقبال، شاہد محمود انصاری، شیخ الطاف، اکمل خان بلوچ،شیخ محمدشفیق،خواجہ احمد فراز صدیقی،ملک کامران بھٹہ،حاجی عبدالغفور، قمرزمان خان، سید خضر شاہ،حاجی طارق سمیت تاجر عہدیداروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر قرضہ ملنے کی توقع پر ملک و قوم کو گروی رکھ دیا گیا۔مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر چلی گئی ہے۔ بجلی کی قیمت میں ہفتہ وار بنیادوں پر اضافہ کیا جا رہا ہے۔صارفین بالخصوص کمرشل و تجارتی صارفین کو ملنے والے بلوں میں اس قدر زیادہ رقم ڈال دی گئی ہیں کہ سفید پوش افراد کے لئے  بلوں کی ادائیگی ناممکن ہے۔بجلی بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے ٹیکس در ٹیکس سے صارفین کو بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کرائے کی دکانوں میں کاروبار کرنے والے تاجر کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔حکومت کی عوام دشمن ' تاجر دشمن پالیسیوں نے ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کردیا ہے۔ملک کے حالات مزید دو ماہ تک اسی طرح رہے تو خدانخواستہ صورتحال سری لنکا جیسی ہو جائے گی۔حکومت کی جانب سے بجلی بلوں میں عائد کیے گئے نئے ٹیکس بلا جواز غیر قانونی ہیں۔ان کی ادائیگی نہیں کریں گے۔حکومت نے آئی ایم ایف کے دبا پر ایسے ٹیکس لاگو و نافذ کردیئے ہیں جن کی وضاحت ایف بی آر اور اور واپڈا کے پاس بھی نہیں ہے۔یہ غنڈہ ٹیکس اور بھتہ خوری کی ہے۔حکومت کی معاشی و اقتصادی ٹیم ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ملکی معیشت میں تاجر برادری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔تاجر بجلی بلوں میں پہلے ہی 16 مختلف قسم کے ٹیکس دے رہے ہیں۔بجلی بلوں میں شامل کئے گئے تین ہزار روپے سے بیس ہزار روپے تک کے ٹیکس ماورائے قانون ٹیکس ہیں جن کے خلاف تاجر برادری قانونی چارہ جوئی کا حق بھی رکھتی انجمن تاجران فیضی روڈ چوک لکڑ منڈی کے صدر طیب خان،سنیئر نائب صدر جنوبی پنجاب رانا اویس کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں ناجائز سیل ٹیکس واپس لیا جائے جو چھ ہزار سے لے کر تیس ہزار روپے تک صارفین پر لگایا گیا ہے جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں،طیب خان،رانا اویس نے کہا کہ کہا کہ تاجر برادری پہلے ہی پریشان ہیں اوپر سے یہ ناجائز سے ٹیکس لگا کر تاجر برادری  سے جینے کا حق چھین لیا ہے آئے روز پٹرول بجلی اور بجلی کے بلوں میں اضافہ نے تاجروں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ سیل ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو تاجر برادری شٹر ڈاون کرنے پر مجبور ہوں گی اور حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی،مظاہرہ میں تاجروں نے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور بجلی کے بلوں کو آگ لگائی، مظاہرہ میں محمد بلال، محمد یاسر، محمود احمد د، عبدالرشید، احمد علی، اصغر، علی احمدو دیگر تاجر رہنما شریک تھے۔ملتان۔انجمن تاجران فیضی روڈ چوک لکڑ منڈی کے صدر طیب خان،سنیئر نائب صدر جنوبی پنجاب رانا اویس کی قیادت میں بجلی کے بلوں میں ناجائز سیل ٹیکس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے،دوسری جانب بجلی کے بلوں کو آگ لگائی جارہی ہیوفاقی حکومت کی جانب سے دکانداروں پر 6ہزارروپے جبری رٹیلر ٹیکس عائد کرنے کے خلاف کوٹ ادو کے دوکانداروں کوٹیکس لگے بجلی کے بھاری بل موصول ہوگیے،تاجر برادری سراپا احتجاج بن گئی  تفصیل کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے تاجروں پر 6ہزارروپے ٹیکس لگانے کے بعدکوٹ ادو کے تاجروں کو ٹیکس والے بجلی کے بل موصول ہوگئے ہیں،بجلی کے بھاری بلوں نے چھوٹے دکانداروں کے ہوش اڑادئیے،تاجر برادری نے جبری ٹیکس کو مستردکردیا،اس حوالے سیانجمن تاجران تاجر اتحاد کے صدر محمد عثمان شیخ، مین بازارکے صدر حاجی عبدالکریم،عبدالوہاب ہنی،صدر صرافہ ایسوسی ایشن محمد ریاض شیخ، چئیرمن چوہدری شفیق الرحمن،شیخ محمد ندیم،صدر نورشاہ روڈ حاجی بلال احمد،نعیم جاوید چوہدری،آصف شہزاد خان،شیخ فیاض احمد،صدر بسم اللہ مارکیٹ سعید الدین راضی،حاجی ظہیر احمد،مرزا فیصل،صدر ملک واجد سعید،صابر،رحمانی،چوہدری عبداللہ مرزا عبدالغفارمحمد طارق عزیز،چوہدری محمود،اسرار خان شیخ امجد رشید، انڈسٹریل اسٹیٹ کے صدر فخرعالم مغل،بخاری روڈ کے صدر عاشق حسین سمیت شہر بھر کے چھوٹے بڑے تمام دوکانداروں نے بجلی بلوں پر 6ہزار روپے  ریٹیلرٹیکس کے نفاذ کو مسترد کردیا ہے اور وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے مذکورہ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ کوئی بھی ٹیکس عائد کرنے سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے ضرور مشاورت کی جائے،تاجر رہنماوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباروں، دکانوں پر جبرا ٹیکس عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے بالخصوص ایسے وقت میں جب روپیہ مسلسل گر رہا ہے اور ڈالر بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے کاروباری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوگیاہے اور تاجر برادری کے لیے کاروبار کرنا انتہائی دشوار ہوتاجارہا ہے،انہوں نے زائد یوٹیلیز چارجز کو بھی لاگت میں اضافے کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاجربرادری مہنگی بجلی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہے اور اب بجلوں بلوں پر 6 ہزار روپے ٹیکس عائد کرنا چھوٹے تاجروں اور کاروباروں کو ختم کردے گا جس کے نتیجے میں لاکھوں ورکرز بے روزگار ہوجائیں گے،تاجر برادری نے وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تاجروں پر حد سے زیادہ بوجھ نہ ڈالیں اور معیشت کے بہتر ترین مفاد میں چھوٹے کاروباروں، دکانوں پر 6 ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ واپس لیں دوسری صورت میں نہ کاروبار بچے اور نہ ہی معیشت بلکہ ہم ایسے دوراہے پر پہنچ جائیں گے جہاں معیشت کو دوبارہ بحال کرنا شاید ممکن نہ رہے پاکستان کسان اتحاد(چوہدری انور گروپ) کے تحصیل صدر محمد اجمل اعجاز چٹھہ،جنرل سیکرٹری مہران علی،ضلعی سینئر نائب صدر چوہدری ندیم سجاد،محمد رمضان خونی،نور احمد جملیرا اور دیگر عہدیداران کی قیادت میں بجلی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور ایف پی اے ٹیکس کے خلاف دیگر مطالبات کے حق میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو بالمقابل کچہری کالج گراونڈ سے شروع ہوئی اور ریلی میں شریک ٹریکٹر ٹرالیوں پر سوار سینکڑوں کسانوں نے دہلی ملتان روڈ پی آئی لنک پل پر جاکر روڈ مکمل بلاک کردیا جس قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں کسانوں نے احتجاجی دھرنا دے دیا احتجاجی مظاہرے اور دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے اجمل اعجاز چٹھہ،چوہدری مہران علی،چوہدری ندیم سجاد اور دیگر راہنماوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ ایک دو ماہ کے دوران بجلی،پیٹرول،ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور بجلی کے بلوں میں ہر بل کے ساتھ ہزاروں روہیایف پی اے ٹیکس عائد کرنے کے علاوہ زرعی شعبہ کو ریلیف دینے کی بجائے اس شعبہ کی ترقی کے لئے کوئی کام نہیں کیا جس سے ہمارے ملک کا کسان اور مزدور بدترین معاشی تباہی سے دوچار ہوچکا ہے زراعت کے شعبہ سے وابستہ ادارے اپنا کام کرنا گناہ سمجھتے ہیں اگر حالات یہی رہے تو کسان اور ملکی زراعت دفن ہوجائے گی مقامی انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر کسانوں سے مذاکرات کئے اور انکے تمام جائز مطالبات حکومت کو بھجوانے اور حل کروانے کی یقین دہانی کروائی جسکے بعد مظاہرین منتشر ہوگئے۔پل شہیدی لعل لوہا مارکیٹ کے رہائشی وتاجروں کا بجلی مہنگی کرنے اور ظالمانہ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ٹائر جلاکر احتجاجی مظاہرہ کیا احتجاجی مظاہرے میں شرکانے بجلی کے بلوں اور ٹائر وں کو نذر آتش کر کے اپنے غصے کا اظہار کیا اور روڈ بند کرکے حکومت اور واپڈا کے خلاف نعرے بازی کی احتجاجی مظاہرے میں محمد عثمان،مصطفی بٹ،محمد رفیق،عرفان چوہان،سلمان بٹ،محمد راجو واہلیان علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کاروبار بارشوں اور مہنگائی کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں مہنگائی سے ستائے شہری بجلی کے ظالمانہ ٹیکس کو مسترد کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکمران بجلی کے بلوں میں اضافہ فوری واپس لیں۔ ملتان: پل شہیدی لعل لوہا مارکیٹ کے رہائشی وتاجر بجلی مہنگی کرنے اور ظالمانہ ٹیکس کے نفاذ کے خلاف ٹائر جلاکر احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں جنرل سیکرٹری تنظیم مغلیہ و تاجر حاجی محمد یسین مغل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں پر3ہزار سے50ہزار تک ظالمانہ ٹیکس کو مسترد کرتے  ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15سے 20ہزار ماہانہ کمانے والا مزدور کس طرح12سے15ہزار بل دے گا جبکہ کمرشل بلوں پر ٹیکس نے دوکانداروں تاجروں کے کاروبار پر بہت برے اثرات مرتب کئے ہیں اس وقت عام آدمی دال روٹی مشکل سے کما رہا ہے بھاری ٹیکس والے بل کس طرح ادا کرے گا حکومت نے عوام کو سستی بجلی کا وعدہ کیا لیکن ریٹ بڑھانے کے ساتھ ساتھ بھاری ٹیکس عائد کر دیئے دو ہزار والا بل پانچ ہزار جبکہ پانچ ہزار والا بل پندرہ ہزار روپے آ رہا ہے اس طرح عام چھوٹی دکان کا بل پانچ ہزار سے بڑھ کر بیس ہزار جبکہ دس ہزار والا بل پچاس ہزار روپے آ رہا ہے جو کہ ظلم ہے ہم ظالمانہ ٹیکس کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں حکومت بل تین ماہ قبل والی صورتحال پر واپس لائے اور  عوام کو ریلیف دے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -