بجلی کے بلوں میں جبری ٹیکس کسی صورت میں قبول نہیں،عامر غوری 

بجلی کے بلوں میں جبری ٹیکس کسی صورت میں قبول نہیں،عامر غوری 

  

سکھر (ڈسٹرکٹ رپورٹر)سکھر چیمبر اف کامرس کے صدر عامر غوری نے کہا ہے کہ بجلی کے بلوں میں جبری ٹیکس کے نام پر تاجروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مظالم تاجروں کے خلاف بڑھتے جارہے ہیں اب ہم خاموش نہیں رہیں گے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیئے جائیں گے اور حکومت کو شٹر کی پاور دکھائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نیچیمبر اف کامرس ہال میں متعدد۔تاجر تنظیمات کے وفد سے  خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کی فراہمی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی شرح بڑھاکر تاجروں اور عوام کو کیا پیغام دیا جارہا ہے۔ پاکستان کی عوام کو پاکستان سے محبت اور حب الوطنی کی سزا دی جارہی ہے حکومت نے بجلی کے بلوں پر فکس ٹیکس عائد کرکے ایک غیر مقبول فیصلہ کیا اور غلط روایت ڈالنے کی کوشش کی تاجر پہلے ہی بجلی کے بلوں میں جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکس ادا کرتے آرہے ہیں اب فکس ٹیکس عائد کرکے کاروباری طبقے کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ہم نے حکومت سے مطالبات کیے اور کوشش کی کہ احتجاج کا راستہ اختیار نہ کیا جائے حکومت نے ہمیں احتجاج کرنے پر مجبور کردیا ہے اب تاجر برادری خاموش نہیں بیٹھے گی اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر آئیں گے احتجاج بھی کریں گے مظاہرے بھی کریں گے اور دھرنے بھی دیں گے جب تک حکومت بجلی کے بلوں پر لگائے گئے اضافی فکس ٹیکس سپر ٹیکس اور دیگر نئے ٹیکسز کو ختم نہیں کرتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں ٹیکس ادا کیے ہر قسم کے ٹیکسوں کی ادائیگی کے باوجود کبھی ٹیکسوں کی ادائیگی سے انحراف نہیں کیا جائز ٹیکس ادا کرتے آرہے ہیں مگر حکومت کی زور زبردستی ہٹ دھرمی زد اور انا اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ قومی معیشت کو تباہ و برباد کرنے کے بعد اب چھوٹے دکانداروں کے پیچھے پڑ چکی ہے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -