صوبے میں کم از کم اجرت 26ہزار روپے عملدرآمد یقینی بنایا جائے: فضل شکور خان 

صوبے میں کم از کم اجرت 26ہزار روپے عملدرآمد یقینی بنایا جائے: فضل شکور خان 

  

        پشاور (سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر محنت و ثقافت و چیئرمین صوبائی ٹاسک فورس کمیٹی برائے تحفظ انسانی حقوق، شوکت یوسفزئی کی زیر صدارت کمیٹی کا پہلا اجلاس سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس میں صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان، سیکرٹری قانون مسعود احمد، سیکرٹری لیبر روح اللہ، ایڈیشنل سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ محمد جاوید، ایڈیشنل سیکرٹری قانون تبسم، ڈائریکٹر لیبر عرفان خان، ڈپٹی سیکرٹری لاء احسان اللہ، ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن آفتاب آفریدی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کمیٹی کے قیام، تفتیشی عنوانات، مقاصد اور انسانی حقوق کے تحفظ اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی۔صوبائی وزیر و چیئرمین کمیٹی شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد انسانی حقوق کے تحفظ کو مزید بہتر بنانا اور اس حوالے سے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا اور ان کو جائز حقوق کی فراہمی ہے۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کو ہدایت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبے میں اضلاع کی سطح پر ٹال فری نمبرز اور شکایت بکس رکھوائے جائیں تاکہ لوگ اپنی شکایات کو آسانی سے صوبائی حکومت کو پہنچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جائے اور لوگوں کو اس کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس کے صحیح استعمال سے مستفید ہو ں۔ چیئرمین صوبائی ٹاسک فورس کمیٹی برائے تحفظ انسانی حقوق شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تمام  اضلاع میں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کمیٹیاں بنائی جائیں اور یہ کمیٹیاں ہر ماہ انسانی حقوق کے حوالے سے اجلاس بھی منعقد کیا کریں۔انھوں نے مزید ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے صوبے کے تمام اضلاع کی کارکردگی جانچنے کے لئے ہرتین ماہ کے بعد رپورٹ محکمے کو جمع کروائیں تاکہ جمع کردہ رپورٹ کی روشنی میں ان اضلاع میں انسانی حقوق کی مزید بہتری پر کام کیاجا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دس سے پندرہ دن کے اندر اندر ہم نے اس کمیٹی کی بنیاد پر پورے صوبے میں انسانی تحفظ کے حقوق میں واضح بہتری لانی ہوگی۔وزیر محنت و ثقافت نے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں میں سیاحوں سے زیادہ کرائے کی وصولی، ہوٹلوں میں مزدور کو کم اجرت دینا اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی مکمل مانیٹرنگ کرے اور اس سلسلے میں خلاف ورزی کے مرتکب لوگوں کو قانونی تقاضوں کے مطابق سزا دی جائے تاکہ عوام کو احساس ہو کہ حکومت عوام کے حقوق کی محافظ ہے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون فضل شکور خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلوں کو صوبے کے تمام اضلاع میں لاگو کرنا ہے تاکہ صوبائی حکومت کی طرف سے اس ضمن میں مقرر کردہ قوانین کی بالادستی ہو۔ صوبائی وزیر قانون نے حکام کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پورے صوبے میں کسی بھی مزدور کو 26 ہزار سے کم اجرت نہ دی جا رہی ہو اور نہ ہی ان سے آٹھ گھنٹوں سے زیادہ کام کروایا جا رہا ہو۔ اگر کوئی بھی ادارہ چاہے سرکاری، نیم سرکاری یا غیرسرکاری ہو اور وہ اس قانون کی خلاف ورزی کرے تو  اس کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -