لڑکی سمیت دو قتل، حادثے، دوافراد جاں بحق، خالی پلاٹ سے لاش برآمد 

لڑکی سمیت دو قتل، حادثے، دوافراد جاں بحق، خالی پلاٹ سے لاش برآمد 

  

   ملتان،رحیم یارخان، مظفر گڑھ، کچا کھوہ، وہاڑی ( وقا ئع  نگار، بیورو رپورٹ، تحصیل رپورٹر، نمائندہ خصوصی،نمائندہ پاکستان)   تھانہ صدر کے علاقے بستی لنگڑیال میں 20 سالہ حماد مردہ حالت میں پایا گیا جبکہ اس کے ساتھ 21 سالہ عاقب زخمی حالت میں ملا، ابتدائی طور پر پولیس اس واقعہ کو نامعلوم افراد کی فائرنگ گردانتی رہی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملہ نیا رخ اختیار کرتے ہوئے باہمی چپقلش (بقیہ نمبر53صفحہ7پر)

کا شاخسانہ نظر آنے لگا، مقتول کے ورثا نے تھانہ صدر کے باہر پولیس کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، ورثا کے مطابق عاقب نے فائرنگ کر کے حماد کو قتل کیا اور خود کو گولی مار کر معاملہ کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی اور اب پولیس بھی ملزم کے بااثر ہونے کی وجہ سے کاروائی نہیں کر رہی، تھانہ صدر کے باہر احتجاج کے بعد پولیس بھی حرکت میں آ گئی اور مقدمہ کا اندراج شروع کر دیا، پولیس کے مطابق حماد اور عاقب دوست تھے، ان کا آپس میں تنازعہ ہوا تو انہوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا تاہم عاقب تاحال بے ہوش ہے، مقدمہ کی تفتیش میں قتل کی اصل وجوہات سامنے آئیں گیجھنگ موڑ پر پولیس پٹرول پمپ کے قریب خالی پلاٹ میں موجود نامعلوم شخص کی لاش دیکھ کر مقامی لوگوں نے پولیس کو دی،پولیس نے مذکورہ جگہ سے شواہد اکٹھے کیے اور لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی،ریسکیو نے لاش کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا.پولیس کیمطابق مرنے والے شخص کی شناخت اور موت کی وجہ جانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں.کچاکھوہ کے نواحی گاں 23دس آر کا رہائشی مدیخان اپنی  سائیکل پر سامان فروخت کر رہا تھا کہ کچاکھوہ نیشنل ہائی وے پر صابر چوک کے قریب یو ٹرن لیتے ہوئے لاہور کی طرف سے آنے والی بس کی زد میں آگیا جس کی وجہ سے مدے خان شدید زخمی ہو گیا زخمی کو کچاکھوسول ہسپتال  میں لایا گیا جہاں پر حالت نازک ہونے کے پیش نظر ملتان نشتر ہسپتال ریفر کر دیا گیا جہاں پر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا پولیس تھانہ کچاکھوہ نے ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثاکے حوالے کردی۔لڈن کے علاقہ کچی پکی   نہر میں  نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ریسکیو 1122 کے جوانوں نے بروقت رسپانس کرتے ہوئے سرچ آپریشن شروع کر دیا نہر کی چوڑائی تقریبا 100 فٹ اور گہرائی تقریبا 10  فٹ تھی۔ ریسکیو 1122 کے جوانوں نے بوٹ کے ذریعے  2 گھنٹوں آپریشن کرتے ہوئے 18 سالہ نوجوان کی نعش کو نکال لیا۔نوجوان کی شناخت محمد شہباز ولد محمد فضل کے نام سے ہوئی ہے تھانہ کوٹ سمابہ کی حدود بستی شاہ دہ کھو موضع ترنڈہ محمد ابراہیم خاں کی رہائشی 18سالہ ثمینہ بی بی عرف شمع پروین جوکہ ایک ماہ قبل چک 77 این پی کے رہائشی محمد جمشید کمبوہ کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی تھی جس کو دس روز معززین علاقہ نے مداخلت کرکے گھر واپس لائے جس کا اسکے والد اور بھائیوں کو رنج تھاملزمان والد مرید حسین اور دونوں بیٹوں نے ہم صلاح ہوکر گھر میں موجود ثمینہ بی بی کو قتل کرنے کی نیت رکھنے کی اطلاع پر سب انسپکٹر جام فیاض موقع پر پہنچا جہاں پر لڑکی کے والد ملزم مرید حسین ندیم عباس راشد حسین نے اس کو 12 بور پسٹل کا فائر مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہو گئے پولیس نے لاش قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کیا اور سب انسپکٹر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے کاروائی شروع کر دی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -