کوہ سلیمان، کاغذی فلڈبند تباہی کی بڑی وجہ، سیلاب سے سالانہ اربوں کا نقصان 

کوہ سلیمان، کاغذی فلڈبند تباہی کی بڑی وجہ، سیلاب سے سالانہ اربوں کا نقصان 

  

راجن پور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)راجن پور میں کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلہ کشمور (سندھ) تک چلا جاتا ہے ضلع راجن پور میں سال 2010 سے 2014 تک پہاڑی سلسلے پر بارشوں سے زمینی علاقوں میں تباہی کا نوٹس لیتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے محکمہ انہار سے پہاڑی بارش کے پانی کو دریائے سندھ تک محفوظ پہنچانے کے لیے تجاویز مانگیں جس پر محکمہ انہار پنجاب نے تین تجاویز وزیر اعلی کو بھجوایں جن میں پہلے سے موجود سایفن سے بڑے ڈرین تعمیر کیے جائیں دوسری تجویز میں سایفن کا ون تھرڈ ڈرین تعمیر کیا جائے تیسری میں موجودہ سسٹم کی مرمت کی جائے وزیر اعلی پنجاب نے درمیانی تجویز منظور کی اور طیب ڈرین پر کام شروع کیا گیا اب المیہ یہ ہے کہ پی ٹی آی حکومت نے اس ڈرین کے فنڈز روک دیے جس کی وجہ سے یہ ڈرین ابھی تک نامکمل ہے دوسری وجہ زمینی علاقوں میں تباہی کی بڑی وجہ ڈرین کی کیپسٹی کم ہے جس سے اب یہ ڈرین متعدد جگہوں پر سیلاب کے پانی کا دبا برداشت نہیں کر سکی محکمہ انہار کے ذرائع کے مطابق کوہ سلیمان سے آنے والے اس بارش کے پانی کی تباہی کی وجوہات ہیں اس میں سیم نالوں کی کیپسٹی، مقامی افراد کی جانب سے زراعت کے لیے پانی لینے کے لیے پایپ کا استعمال ہے کوہ سلیمان کا بارش پانی کی دہائیوں سے آرہا ہے اور زیادہ پانی ہمیشہ نقصان پہنچاتا ہے حکومت پنجاب اگر اس وقت بچت کا نا سوچتی تو دس گنا زیادہ کیپسٹی کی ڈرین منظور کرکے مکمل فنڈز ریلیز کرتی تو شاید ضلع راجن پور میں یہ تباہی نا ہوتی دوسرا کچھی کینال جو ہیڈ تونسہ سے بلوچستان کو پانی فراہم کرنے کے لیے نکالی گئی ہے یہ کینال کوہ سلیمان کی پٹی سے گذر رہی ہے سیلاب نقصان میں یہ کینال بھی ایک وجہ ہے اس کے سایفن بہت کم سایز کے ہیں جس سے کوہ سلیمان کا پانی جمع ہو کر اس کینال کو شگاف ڈال کر زمینی علاقوں میں تباہی پھیلاتا ہیاس سیلاب سے تین ہزار افراد متاثر، تین سو سیزاید. مواضعات زیر آب آے ہیں چار بچوں سمیت چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے زیادہ تر اموات سیلاب کے پانی سے نہاتے ہوے ہوی ہیراجن پور کے پہاڑی سلسلے سے آنے والا سیلابی پانی اب زمینی علاقوں میں تباہی مچا رہا ہے تیز رفتار پانی کے آگے حکومتی فلڈ بند ریت کی دیوار ثابت ہوے متاثرین سیلاب خیمہ بستیوں کی بجائے سڑکوں پر پناہ لینے کو ترجیح دے رہے ہیں تفصیلات کے مطابق راجن پور کے پہاڑی سلسلے کوہ سلیمان سے آنے والا سیلابی پانی راجن پور کے زمینی علاقوں میں مسلسل نقصانات کررہا ہے فلڈ بند ٹوٹنے اور نہروں میں شگاف پڑنے کے واقعات رونما اور اس سے فصلات اور رہائشی بستیاں زیر آب آ رہی ہیں قطب سیم نالہ سیلابی پانی کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوا فاضل پور، کوٹلہ جندہ کے مقام پر ٹوٹ گیا جس سے سینکڑوں مواضعات اور درجنوں بستیاں زیر آب آگی اسی طرح فتح پور روڈ پر چک شہید کے مقام پر سیم نالہ ٹوٹنے سے اس پاس کے دیہات زیر آب آ گیے ہیں روجہان میں زمیندارہ بند ٹوٹنے سے چک صفدر آباد، شاہ والی، اوزمان اور قرب کے دیہات پانی میں ڈوب گیے سیلابی پانی کو نہروں سے گذرانے پر کچھی کینال، قادرہ کینال اور غونث بخش نہر ٹوٹ گی جس سے کپاس کی فصل تباہ ہو گئی جبکہ کچھی کینال جو ہیڈ تونسہ سے بلوچستان کو پانی فراہم کررہی ہے وہ سیلابی پانی سے لبا لب بہہ رہی ہے اس کینال کے ٹوٹنے سے علاقہ پچادھ کے علاقے محمد پور گم والا و دیگر میں مزید پانی پھیل جائے گا خدشہ ہے دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے ریلیف کیمپ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکات پر موجود سیلاب متاثرین کو خیمے اور پکا کھانا فراہم کرنا شروع کر دیا ہے مگر متاثرین سیلاب کی کثیر تعداد انتظامیہ کی عدم توجہی کی شکایت کررہی ہے

   ڈیرہ غازیخان(سٹی رپورٹر)کوہ سلیمان پر حالیہ بارشوں کے باعث چار خواتین سمیت سات افراد جاں بحق،31 زخمی ہو گئے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیاڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122ڈیرہ غازیخان ڈاکٹر نیئر عالم نے بتایا کہ ریسکیو ریلیف آپریشن ریجنل ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر ناطق حیات کی نگرانی میں جاری ہے کوہ سلیمان پر حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے مختلف علاقے زیر آب آ گئے ہیں اور پل قمبر، بستی احمدانی، بستی لاشاری، زندہ پیر موڑ، چوکی والا، مکول اور انڈس ہائی وے کے علاقوں میں 112 ریسکیورز چودہ کشتیوں کے ساتھ ریلیف آپریشن کر رہے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک سیلاب میں گھرے 421 افراد کو ریسکیو کیاگیا 720 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا اسی طرح بیس مویشیوں کو بھی ریسکیو کیاگیاجبکہ پانچ افراد خلیل احمد،محمد حسین،آمنہ بی بی،رشیدہ بی بی، پروین بی بی،نسیم بی بی اور ایک تین سالہ نامعلوم بچہ جاں بحق ہو گئے جبکہ 25 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد،6 افراد کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔ریجنل پولیس آفیسر محمد سلیم کے احکامات پر ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے پولیس لوگوں کی مدد کرنے اورانہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنیمیں مصروف عمل ہے۔آر پی او کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی سربراہان کی زیرنگرانی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی جان ومال  اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔متاثرہ  علاقوں میں پولیس لوگوں کو بروقت آگاہ کرنے اور ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلیے  دیگر اداروں کے ساتھ مل کر دن رات کام کررہی ہے۔ فلڈریلیف کمیپ میں موجود متاثرین اور ان کی املاک کے تحفظ کے لیے پولیس کی جانب سے موثراقدامات کیے گئے ہیں۔سیلاب زدہ علاقوں میں سٹرکوں کی بندش کے پیش نظر گاڑیوں کو  متبادل راستہ سے گزارنے کیلیے پولیس کی جانب سے مسافروں ٹرانسپورٹر حضرات کو بروقت آگاہ کیاجارہا ہے۔آر پی او کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیلاب زدہ  علاقوں میں ہمہ وقت الرٹ رہنے کی سخت ہدایت جاری کردی ہیں۔امدادی سرگرمیوں اور سیکورٹی کا جائزہ لینے کیلیے آر پی او  آفس میں ایمر جنسی کنٹرول روم قائم ہے۔کسی بھی ایمرجنسی میں 15یا کنٹرول روم   0649260479 پر رابطہ کرسکتے ہیں  بارشوں اور رودکوہیوں کے سیلابی پانی کی تباہ کاریوں کے بعد امدادی کام جاری ہے متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی کا عمل بھی جاری ہے. ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سمیت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز،اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام محکموں کے افسران متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم ہیں.ریلیف کیمپوں میں سہولیات کی فراہمی کے بعدسڑکوں اور اونچی جگہوں پر پناہ لینے والے متاثرین اور ان کے مال مویشیوں کیلئے ترپالوں کی فراہمی اور ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے. جبکہ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام متاثرہ علاقوں میں خیمے بھی لگا دیئے گئے ہیں اسی طرح گزشتہ رات بھی خدمت خلق کا مشن جاری رہا ڈی جی خان کے مصیبت زدہ بے گھر خاندان پنجاب حکومت کے مہمان بنے اورڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد انور بریار نے خلوص دل سے سیلاب زدگان کی میزبانی کی. تونسہ تحصیل کے سیلاب زدگان کیلئے ریلیف کیمپس میں ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں اورفلڈ ریلیف کیمپس میں بجلی کے متبادل انتظام کیلئے جنریٹرز اور وافر مقدار ایندھن فراہم کیا گیا.ریلیف کیمپس میں مقیم خاندانوں کیلئے پنکھے اور تیار خوراک فراہم کی گئی ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے خود سیلاب زدگان میں کھانا تقسیم کیا. سول ڈیفنس،ہیلتھ،ریونیو اور دیگر محکموں کے ملازمین فلڈ ریلیف کیمپس میں تعینات تھے. ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ مصیبت میں گھرے سیلاب زدگان کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،فلڈ ریلیف کیمپس میں گھر جیسی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہرممکن اقدامات کریں گے، پہلے دن کی خامیوں کو اگلے دن نہیں دہرایا جائے گا،کم وقت میں زیادہ وسائل اور سہولیات کی فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں. کمشنر ڈیرہ غازیخا ن ڈویژن محمد عثمان انورنے مظفرگڑھ کا دورہ کیا.  انہوں نے محرم الحرام کے روٹس کاجائزہ لینے کے ساتھ اربن فلڈنگ، حفاظتی بند، ڈینگی اور دیگرمعاملات کا جائزہ لینے کیلئے علاقوں کادورہ کیا. ڈپٹی کمشنر آفس میں امن کمیٹی کے اراکین اور افسران کے اجلاس کی صدارت کی . کمشنر نے محلہ روالے والا کا دورہ کرتے ہوئے سیوریج مسائل دیکھے اور سی او رانامحبوب کو فوری طور پر نکاسی آب کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی.ا نہوں نے امام بارگاہ امامیہ سے تباخیاں چوک اوردیگر علاقوں میں محرم الحرام کے روٹس کا بھی معائنہ کیا. روٹس کی صفائی، پیچ ورک اوردیگر امور کی ہدایات جاری کیں. کمشنر نے روٹس سے سیوریج پانی کی نکاسی اور صفائی کی ہدایات جاری کیں. سیکرٹری آبپاشی پنجاب شہریار سلطان نے ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار کے ہمراہ سائفن  آر ڈی ڈیرہ غازی کا دورہ کیا اور سیلابی پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پر محکمہ آبپاشی کے افسران اور ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے سیکرٹری کو بریفنگ بھی دی۔سیکرٹری آبپاشی شہریار سلطان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب سیلابی پانی کی نکاسی کیلئے بھرپور وسائل فراہم کرے گی،پانی کی نکاسی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے،پانی کی آمد اور اخراج کی صورتحال پر کڑی نگاہ رکھی جائے،شہریار سلطان نے کہا کہ مقامی آبادیوں کو سیلابی پانی  سے بچانے کی بھرپور کاوشیں کی جائیں،سیلابی پانی نے کئی علاقوں میں تباہی مچائی ہے اس کے نکاس کے بعد نقصانات کا اندازہ لگایا جائے گا اور متاثرین کی امداد بھی کی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے حکومت کے ساتھ ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ڈیرہ غازی خان کی ضلعی انتظامیہ عوامی ریلیف کے کاموں پر توانائیاں مرکوز کیے ہوئے ہے،رود کوہیوں کے پانی کی آمد اور اخراج کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے جب کہ سیلاب متاثرین کی ہر لحاظ سے مدد بھی کی جارہی ہے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وڈور پل سے براستہ سائفن سیلابی پانی کا بروقت اخراج ممکن بنایا گیا ہے،موجودہ  رودکوہیوں کے سیلابی ریلے سے سائفن میں 14 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -