سازشوں کی ریل پیل 

  سازشوں کی ریل پیل 
  سازشوں کی ریل پیل 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسحٰق ڈار نگران وزیر اعظم بنیں نہ بنیں میڈیا ضرور ان پر نگران اعلیٰ بنا ہوا ہے، ایک حلقے کی جانب سے سرتوڑ کوشش کہ اسحٰق ڈار کو روکا جائے، اب سنیئر صحافی نصرت جاوید کا کالم یاد آتا ہے جس میں انہوں نے اسلام آباد سے چند صحافیوں کے یورپی یونین جانے کا تذکرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ شنید ہے کہ ان لوگوں کو انتخابی نتائج متنازع بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے، اگرچہ اس پر جناب حامد میر کی وضاحت بھی آگئی تھی مگر جس طرح اسحٰق ڈار صاحب کا نام گردش میں لایا گیا (جس صحافی نے ان کے نگران وزیر اعظم بننے کی خبر دی وہ یورپی یونین جانے والوں میں شامل بھی تھے) اور پھر اسے بحث کا موضوع بنا کر ان کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جارہی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوچنے والوں نے بہت کچھ سوچ رکھا ہے۔ وہ نگران حکومت کی تقرری سے انتخابات کے نتائج تک ہر ایک مرحلے پر ایسا کنفیوژن پھیلائیں گے جس کا مقصد نون لیگ کو دیوار سے لگائے رکھنا ہے اور کسی نہ کسی طرح عمران خان کے لئے انتخابی مراعات حاصل کرنا ہے۔ عین ممکن ہے اسٹیبلشمنٹ پر بھی ایسا ہی پریشر ہو اور وہ عمران خان کو نااہلی کی تلوار کے نیچے لے جانے کے لئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے پر مجبور ہو۔ پاکستان میں اب مقامی نہیں بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی کھیل رہے ہیں، چین اورامریکہ کے مفادات کھیل رہے ہیں، مڈل ایسٹ اور ویسٹ کے فنڈ کھیل رہے ہیں، پاکستان میں روپے کی ریل پیل ہو نہ ہو، سازشوں کی ریل پیل ضرور لگی ہوئی ہے، یہاں کئی مقامی ’کردوغلو‘ سلمان شاہ کی جان کے درپے اور ارطغرل کے حق اقتدار کے خلاف سرگرم ہیں جن کو صلیبیوں کی جانب سے اشرفیوں کے صندوق ملے ہوئے ہیں۔ 


پاکستان میں انتخابات ہمیشہ متنازع رہے، حتیٰ کہ خود پاکستان متنازع ہو گیا اور پھر اس میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا، ہوگیا یا کیا گیا ہم ابھی تک اس بحث کا نتیجہ نہیں نکال سکے اور علیحدہ ہونے والوں نے اپنا راستہ پکڑا اور آج ان کی ایکسپورٹس ہمارے لئے شرم کا مقام بنی ہوئی ہیں، ہم سانپ کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں کیونکہ ہمارے دشمن ایسی ہی لکیر کبھی جناح پور کی شکل میں ڈال دیتے ہیں تو کبھی گریٹر بلوچستان کے نام پر ڈال کر تماشا دیکھتے ہیں اور ہماری فوج ان لکیروں پر لشکر کشی میں جتی ہوئی ہے، ہمیں باہر سے نہیں اندرہ سے خطرہ ہے بلکہ اندر کے بھی اندر سے خطرہ ہے کیونکہ ہمارے لوگ کھیل تماشے کے عادی ہیں، ٹھٹھہ لگانے، اوئے اوئے کرکے تالیاں بجانے اور موقع لگنے پر پوری دیگ ہی اٹھا کر بھاگ جانے والے لوگ ہیں۔ ان کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں اور مطمئن ایسے ہیں جیسے ہوا کچھ بھی نہیں!
اگلے عام انتخابات ہوں یا  اگلے نگران وزیر اعظم کا انتخاب، میڈیا کا ایک حلقہ جانے کس کو وزیر اعظم چاہتا ہے، دوسرا تو صرف یہ دیکھ رہا ہے کہ جو کچھ پہلا حصہ چاہتا ہے وہ کچھ حاصل کرسکے گا یا نہیں، یار لوگ حکومت کے ہر قانون اور ہر کام میں کیڑے نکال رہے ہیں اور کیڑے نکالنے کو صحافت کا نام دیئے ہوئے ہیں، معلومات دینے کی بجائے انہیں توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا نام صحافت رکھ دیا ہوا ہے، ان سے کوئی پوچھے تو آزادی صحافت کا ڈنڈا لے کر نکل آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاستدانوں نے اب صحافیوں کو بھی ناپسندیدہ کی فہرست میں ڈال کر نگران وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے ان کا پتہ صاف کردیا ہے۔ یہ لوگ 2013میں عمران خان کی تصویر والی ٹی شرٹس پہن کر اور پہنوا کر پروگرام کرتے پائے جاتے تھے، 2018کے انتخابات میں نوازشریف کے خلاف چور ڈاکو کے پراپیگنڈے کا حصہ بنے ہوئے تھے اور اب 2023میں عمران خان کے بغیر انتخابات کو متنازع بنانے کا جتن کر رہے ہیں، ان کو عمران خان سے نہیں اپنے مفادات سے پیار ہے، بلکہ مفادات کے مفاد سے پیار ہے، ان کو نواز شریف سے مسئلہ ہے اور عالمی طاقتوں کو بھی کوئی ایسا لیڈر چاہئے جو نواز شریف سے زیادہ مغرب کو جانتا ہو اور مزید جاننے کی خواہش رکھتا ہو، جسے اسرائیل اور انڈیا سے پارٹی فنڈ لینے میں بھی تردد نہ ہو اورجو ملک بھر کی سیاسی برادری کو اپنی تقاریر کے ذریعے روز ننگا کرکے تماشہ لگاتا ہو۔ 


کیا کیجئے کہ اس صورت حال کا حل بھی انتخابات کے بروقت انعقاد میں ہی ہے، عوام کو اظہار رائے کا موقع مل جائے تو معاملہ سدھر سکتا ہے لیکن وہاں بھی خطرہ ہے کہ کہیں رائے عامہ کو معتوب نہ کرلیا جائے اس لئے ملک کے بڑے چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور چاہتے ہیں کہ اگر شہباز شریف کو مزید ایک سال نہیں مل سکتا ہے تو نگران سیٹ اپ کو ضرور ملنا چاہئے تاکہ انہوں نے جس عالمی سازش کو ناکام بنایا ہے، اس کے اثرات سے نپٹا جا سکے۔ اس کے لئے انہیں کبھی آئی ایم ایف سے لڑنا پڑتا ہے تو کبھی امریکہ کوسننا پڑتا ہے لیکن ہمارے اپنے لوگ گھر کو آگ لگا کر تماشہ دیکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ 9مئی کے سانحے کا تذکرہ کرنا بھی غیر ضروری سمجھتا ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ کبھی اس قدر تنہا نہ ہوئی ہوگی جتنی اب دکھائی دیتی ہے، ابھی تک پچھلی اسٹیبلشمنٹ کی باقیات ٹی وی چینلوں سے چمٹی ہوئی ہیں اور انہی کے لئے رطب اللسان ہے، ان کا بس چلے تو موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں وہ باتیں سرعام کریں جو وہ اپنی نجی محفلوں میں کرکے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، آئندہ عام انتخابات اتنے بھی عام نہ ہوں گے کہ لوگ اپنی مرضی کر سکیں، اس مرتبہ داخلی نہیں خارجی اسٹیبلشمنٹ ان کا مینڈیٹ چھینے گی  اور چھین نہ سکی تو متنازع بنادے گی!

مزید :

رائے -کالم -