تعلیمی اداروں کو نئی نسل کی تباہی کے مراکز بننے سے روکیے!

تعلیمی اداروں کو نئی نسل کی تباہی کے مراکز بننے سے روکیے!
تعلیمی اداروں کو نئی نسل کی تباہی کے مراکز بننے سے روکیے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اہل ِ پاکستان تعلیم اور تعلیمی اداوں کے بنیادی فلسفے سے دور ہوتے جا رہے ہیں،تعلیمی ادارے تجارتی منڈیاں بن گئے؟تعلیم اور تعلیمی اداروں کی بنیادی تعریف ہی بدل گئی ہے؟ استاد کا مقام تعلیمی اداروں کا تقدس اور مقام بھلا دیا گیا ہے؟استاد جسے روحانی باپ قرار دیا جاتا ہے ڈھونڈنے سے نہیں مل پا رہے۔ پاکستان کی تاجر برادری کو تعلیمی ادارے بنانا ان کی کروڑوں روپے کی ادائیگی کے بعد فرنچائز حاصل کرنا منافع بخش کاروبار لگنے لگا ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا فرق ہر آنے والے دن میں اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سرکاری ادارے نہ صرف اپنی افادیت کھو رہے ہیں بلکہ امیر تو دور کی بات غریب بھی اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
سکولوں کے بعد کالجز اور یونیورسٹی میں ہم نے بھی تعلیم حاصل کی ہے ہمارا دور سرخ ہے، سرخ ہے اور سبز  ہے، سبز کی واضح تفریق کے ساتھ موجود تھا، سکولوں میں بزم پیغام اور یونیورسٹیز میں اسلامی جمعیت طلبہ کو اسلامی غنڈہ گردی، بدمعاشی اور کیا کیا قرار دینے والوں کی زبان سے میں نے جب سنا اسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹیوں کے لئے ایک نعمت ہے یہ فقرات اس نامور شخصیت کے ہیں جس کا نام حسن نثار ہے۔ یونیورسٹی دور میں سرخوں کا نمائندہ تھے وہ خود سوشل میڈیا پر فرماتے ہیں جب یونیورسٹی میں کسی کی بیٹیوں کا  سوچتے تھے ہمارا موقف اور تھا اور جب ہماری اپنی بیٹیاں اس یونیورسٹی میں گئیں تو ہمارا موقف بدلہ۔


تمہید میں بات دوسری طرف چلی گئی، آج کا کالم بڑے دردِ دِل اور دُکھی دِل کے ساتھ لکھ رہا ہوں یقینا میری آواز لاکھوں والدین کی آواز ہے جن کی بہو بیٹیاں کالجز اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، کسی ایک یونیورسٹی کا ذکر کرنا مقصود نہیں ہے،تعلیمی اداروں کے تدریسی عمل کی بات بھی نہیں کرنی۔ گزشتہ چند ہفتوں سے دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بننے والی اسلامیہ یونیورسٹی اور گومل یونیورسٹی کے دلدوز واقعات ہیں جن کا ذکر بڑے دردِ دِل اور عقیدت کے لئے کرنا ہے۔گومل یونیورسٹی کے اسلامیات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کی عیاشیاں اور بلیک میلنگ کی کہانیاں سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں اور اب اسلامیہ یونیورسٹی کے سکیورٹی سٹاف،مقامی ایم این اے کے صاحبزادے، یونیورسٹی کے اساتذہ  اور اہلکاروں کی کہانیاں منظر عام پر آئی ہیں تو بچیوں کے والدین سر پکڑے بیٹھے ہیں، مائیں گھروں میں نوح کناں ہیں آج ہی میں دیکھ رہا تھا اسلامیہ یونیورسٹی کے چیف سکیورٹی کی نگرانی میں یونیورسٹی کے مختلف حصوں اور خفیہ مقامات پر بننے والی5500 ویڈیو سامنے آئی ہیں جن کو بنیاد بنا کر مافیا مکروہ دھندہ کررہا تھا اور جامع کے تقدس کو پامال کرنے کے ساتھ دور دراز سے آنے والی بچیوں کو بلیک میل کر کے ان کی عزت کو تار تار کرنے سمیت اُنہیں زبردستی نشے کا عادی بنا رہا تھا۔


اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی برطرفی اور چیف سکیورٹی افسر اعجاز شاہ کی گرفتاری کے بعد افسوسناک پہلو جو سامنے آیا ہے سیاسی پنڈت اپنا اثرو رسوخ استعمال کر کے اس کیس کو معاشرے اور دیگر یونیورسٹیوں کے لئے عبرت بنانے کی بجائے ان افسوسناک واقعات کو محدود کرنے اور تحقیقات بند کرنے میں مصروف ہیں اِس میں افسوسناک پہلو جس کا میں خود کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہوں، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا ان واقعات کا بلیک آؤٹ کر رہا ہے ابھی تک ان گہناونے واقعات کو صرف سوشل میڈیا نے اُچھالا ہے، مجھے پتہ چلا ہے بااثر حکومتی شخصیات سوشل میڈیا اور یو ٹیوبر کو بھی دباؤ میں لانے میں مصروف ہیں، مقتدر قوتوں اور آرمی چیف سے درخواست کرنی ہے ہمارے پولیس اور دیگر حکومتی ادارے اپنی افادیت کھو چکے ہیں، ہمارا مستقبل ہماری نئی نسل شدید خطرات میں ہے ان کو سازش کے ذریعے آئس اور دوسرے مہلک نشوں میں مبتلا کرنے کے لئے ہمارے تعلیمی اداروں کو ہدف نبایا گیا ہے، طاقتور مافیا کا گٹھ جوڑ ہماری پولیس اور بااثر سیاست دانوں کے ساتھ لالچ اور دباؤ میں کالجز اور یونیورسٹی کے اساتذہ اور اہلکار بھی اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔آرمی چیف کو اپنے اختیارات کے ذریعے تعلیمی اداروں کو تباہی سے بچانے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا۔اسلامیہ یونیورسٹی اور گومل یونیورسٹی کے واقعات تو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آگئے ہیں، درجنوں یونیورسٹی اور سینکڑوں  کالجز و دیگر فحاشی عریانی اور بدمعاشی کی بھینٹ چڑ رہے ہیں وہاں کے معصوم طلبہ و طالبات کو مخصوص سازش کے ذریعے نشے کا عادی بنایا جا رہا ہے، مفید نوجوان نسل انٹرنیٹ اور موبائل جیسے فتنہ کی وجہ سے آسانی کے ساتھ اس کا حصہ بن رہی ہے،صحافی طالب علم کی حیثیت سے میں ایک ایک یونیورسٹی اور کالج کا احوال لکھ سکتا ہوں آگ ہے چاروں طرف لگی ہوئی،ہماری اپنی بچیاں اور بچے اس آگ میں خود کود رہے ہیں،نئی نسل ہمارا مستقبل ہیروئن اور آئس کے ذریعے تباہ و برباد ہو رہا ہے اِن حالات میں ارکان اسمبلی اور حکومت کی طرف سے پانچ کلو ہیروئن پکڑے جانے پر سزائے موت کی بجائے عام قید کی سزا تجویز کرنے اور اسمبلی سے بل پاس کرانے نے عوام الناس کو اور دُکھ اور پریشانی دے دی ہے۔ ارکان اسمبلی کی طرف سے اسمبلی اور سینیٹ میں پیش ہونے والے بلز کو پڑھے بغیر پاس کرنے اور پارٹی فیصلہ قرار دیتے ہوئے ہاں میں ہاں ملانے، نے جمہوری عمل پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔مقتدر قوتوں کو نام نہاد اسمبلی کی طرف سے ایسی قانون سازی نہ روکنا بھی سوالیہ نشان ہے۔ آخر میں تعلیمی اداروں،وہ یونیورسٹی ہو یا کالجز، ان میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کو غیر نصابی سرگرمیوں کی طرف لانا ہو گا، طلبہ و طالبات کو مضمون نویسی، تقریری مقابلہ، مباحثوں، کھیلوں کے مقابلوں کی طرف لانا ہو گا۔اس کے لئے بحث برائے بحث کی بجائے تعلیمی اداروں کو جمہوریت کی نرسری کے طور پر سبق یاد کرانے کی ضرورت ہے۔نئی نسل کو بے ر اہ روی، بے حیائی، اخلاقی قدروں کی پامالی سے بچانے کے لئے کالجز اور یونیورسٹی میں یونین کی بحالی بڑی ضروری ہے، طلبہ و طالبات کے اذہان کو مثبت سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے،حکومت اپوزیشن مقتدر قوتوں کو تعلیمی اداروں کو ان کے حقیقی فلسفے کی طرف لانے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ مغربی طاقتیں شارٹ کٹ کی دوڑ نئی نسل کو تباہ و برباد کر دے گی، اِس دور کا فتنہ موبائل پہلے ہی کام دکھا چکا ہے رہی سہی کسر نشہ کر رہا ہے، نشے کا شکار ہونے والے عزتیں تو لٹا رہے ہیں اور دولت بھی اور والدین کی خواری کا باعث بھی بن رہے ہیں،خدارا مل کر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ورنہ کچھ نہیں بچے گا۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -