بابر اعوان توہین عدالت کیس، اٹارنی جنرل کو بطور استغاثہ پیش ہونے کے لئے نوٹس جاری

بابر اعوان توہین عدالت کیس، اٹارنی جنرل کو بطور استغاثہ پیش ہونے کے لئے نوٹس ...

  

اسلام آباد(خبرنگار) سپریم کورٹ نے سابق وزیرقانون بابراعوان کی جانب سے توہین عدالت کیس کی حیثیت چیلنج کرنے کی متفرق درخواست پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ہے جبکہ بابراعوان کے وکیل علی ظفر ، اس کیس میں وکالت سے الگ ہوگئے ہیں ، بابراعوان کے تنقیدی اظہارخیال سے عدالت میں بدمزگی بھی پیدا ہوئی۔ توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر بابراعوان اورججز میںسخت جملوں کے تبادلے سے کشیدگی ،جسٹس اطہر سعید نے ڈاکٹر بابر اعوان کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ بیٹھ جائیں اور عدالت کوڈکٹیٹ نہ کریں اس پرڈاکٹر بابراعوان نے کہاکہ دس منٹ سے دیکھ رہاہوں نہ آپ میرے وکیل کوسن رہے ہیں اور نہ ہی مجھے بات کرنے دے رہے ہیں میں کہیں بھاگا نہیں جارہامجھے پہلے اتناتوبتایاجائے کہ میرے خلاف ہونے والی کارروائی فوجدار ی ہے یادیوانی ہے یہاں بڑے بڑے لوگوں کو وکیل نہیں مل رہاہے میں اپنے وکیل کاوکالت نامہ منسوخ کررہاہوں اور خود پیش ہوں گا اس پر عدالت نے کہاکہ آپ کاعدالت کومخاطب کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے اس پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ اگر میرارویہ درست نہیں ہے توپھر میراکیس بار کوبھجوادیں ،جسٹس اعجازافضل اورجسٹس اطہر سعید نے توہین عدالت کیس کی بدھ کے روزسماعت کی اس دوران ڈاکٹر بابر اعوان کے وکیل علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالت کودودرخواستیں پیش کیں اور استدعاکی کہ اس کیس میں ڈاکٹر بابر اعوان خود پیش ہوناچاہتے ہیں اس پر جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ڈاکٹر صاحب سنیئر قانون دان ہیں ان کو مکمل سنیں گے اس دوران ڈاکٹر بابر اعوان نے عدالت سے خود بات کرنے کی اجازت طلب کی جوعدالت نے دے دی اس پر ڈاکٹر بابراعوان نے وکیل کواپناموقف بیان نہ کرنے کی اجازت نہ دینے پر سخت ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ میرامیڈیا ٹرائل نہ کریں ،میں پارلمینٹرین ہوں میرے ساتھ ایساسلوک کیوں کیاجارہاہے عدالت پہلے واضح توکرے کہ وہ میرے خلاف کس طرح کی کارروائی کرنا چاہ رہی ہے تاکہ میں اس کے مطابق اپنے دلائل اورموقف کو تیارکرسکوں حالت یہ ہے کہ ابھی تک مجھے بتایاہی نہیں گیاکہ میرے خلاف فوجدار ی یادیوانی میں سے کون سی کارروائی کی جارہی ہے میرے خلاف یکطرفہ کارروائی کی جارہی ہے یہ قرین انصاف نہیں ہے س پر ججز نے ان کے طرز تخاطب پر انھیں تنبیہ کی اورکہاکہ وہ اپنارویہ درست کریں انھوں نے علی ظفر سے کہاکہ آپ اپنے موکل کوسمجھائیں کی عدالت سے کیسے بات کی جاتی ہے اس پرعلی ظفر نے کہاکہ بابراعوان خود بات کرناچاہتے ہیں ، بابراعوان سینئر قانون دان ہیں، ان کو مکمل سنیں گے، اس صورتحال کی وجہ سے سماعت میں کچھ خلل آیا اور پھر 15 منٹ کا وقفہ کردیاگیا، اس کے بعد سماعت ہوئی تو علی ظفر اس کیس سے الگ ہوگئے اور بابراعوان نے خود دلائل دینا شروع کردیئے،انہوں نے کہاکہ میں نے لائسنس بچاو? تحریک نہیں چلائی، ایک بار سابق صدر سپریم کورٹ بار منیراے ملک نے کہاکہ سپریم کورٹ کو آگ لگادیں گے،لیکن عدالت نے ان کے خلاف نوٹس ڈسچارج کردیا تھا، پراسیکیوٹر موجود نہیں، اسے سنے بغیر ہی فرد جرم عائد کردی گئی، آئینی آرٹیکل 10 کے تحت شفاف ٹرائل حق ہے، بابراعوان نے ایک متفرق درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیارکیاکہ ان کے خلاف توہین عدالت کا کیس نہیں بنتا، اس پر عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی۔

مزید :

صفحہ اول -