عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور ہائیکورٹ اور ماتحتعدالتوںمیںوکلاء مکمل ہڑتال

عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے لاہور ہائیکورٹ اور ماتحتعدالتوںمیںوکلاء مکمل ...

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی، نیوز رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں میں عدلیہ سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وکلاءنے مکمل ہڑتال کی ۔اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ بار کی طرف سے 27 اور 28 جون کو دو روز کی ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں صرف فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہوئی جس کے بعد وکلاءعدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ قبل ازیں پاکستان بار کونسل کی طرف سے آل پاکستان وکلاءنمائندہ کنونشن میں عدلیہ سے یکجہتی کے اظہار کےلئے 28 جون کوہڑتال کا اعلان کیا تھا۔مگر لاہور ڈسٹرکٹ بار کے زیر اہتمام دو روز بعد ہونے والے وکلاءکنونشن میں اس ہڑتال کو مسترد کرتے ہوئے27 جون کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا ۔جس پر گزشتہ روز لاہور کی ماتحت عدالتوں میں مکمل ہڑتال کی گئی اور وکلاءماتحت عدالتوں میں بھی پیش نہیں ہوئے۔ لاہور بارایسوسی ایشن کے زیراہتمام گزشتہ روز ماتحت عدالتوں میں راجہ پرویز اشرف کے بطور وزیر اعظم انتخاب اور عدلیہ کے بارے میں حکومتی موقف اور مہنگائی و لوڈ شیڈنگ کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔لاہور بار کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا گیا جبکہ وکلاءنے بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ عدلیہ سے اظہار یکجہتی کےلئے وکلاءنے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ مقدمات کی اکثریت میں وکلاءعدالتوں کے رو برو پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ان مقدمات کی سماعت کسی کارروائی کے بغیر اگلی تاریخوں تک ملتوی کر دی گئی۔ سیشن کورٹ، ایوان عدل اور دیگر ماتحت عدالتوں میں ہزاروں مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی تاہم انتہائی اہم نوعیت کے مقدمات کی سماعت فاضل جج صاحبان نے کی۔ لاہور بار کے صدر چوہدری ذوالفقار علی اور دیگر وکلاءکا کہنا تھا کہ عدلیہ کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وکلاءرہنماوں نے کہاکہ متنازعہ شخص کووزیراعظم بناکرعوام سے مذاق کیاگیاہے جبکہ سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر پر الزام عائد کیاگیاکہ ارسلان سکینڈل میں ان کابھی ہاتھ ہے جبکہ سپریم کورٹ بارکے صدریاسین آزادکوبھی صدرماننے سے انکارکرتے ہوئے گزشتہ روزیوم سیاہ منانے کااعلان کیا تھادوسری طرف کنونش پر سپریم کورٹ بارکے صدریاسین آزاد اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اختر حسین، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین ملک غلام عباس نسوانہ،صدرلاہورہائی کورٹ بارشہرام سروراورپاکستان بارکونسل کے رکن و سابق صدرلاہورہائیکورٹ بار احسن بھون نے اپنا سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے خودساختہ کنونشن قرار دیتے ہوئے لاتعلقی کااظہار کردیااوران کاکہناہے کہ کل نمائندہ پاکستان بارکونسل سپریم کورٹ بار،چاروں صوبائی بار کونسلز اورچاروں ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کے صدور پر مشتمل کوآرڈینیشن کمیٹی کاواضح اعلان ہے کہ یہی کمیٹی صرف وکلاءکی ہڑتال کی کال دینے کی مجاز ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -