وزیراعظم راجہ پرویز اشرف خط لکھیں گے یا اپنے بیشترو کے حشر سے دو چار ہو ں گے ؟

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف خط لکھیں گے یا اپنے بیشترو کے حشر سے دو چار ہو ں گے ؟

  

بدھ کے روز دومختلف عدالتوں میں دو ہائی پروفائل مقدمات کی سماعت ہوئی۔ این آر او عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے ذریعے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب کیا ہے کہ کیا وہ سوئس حکام کو خط لکھ رہے ہیں؟ یہ جواب 12 جولائی تک طلب کیا گیا ہے۔ دوسرے مقدمے میں لاہور ہائی کورٹ نے صدرآصف علی زرداری کو ہدایت کی ہے کہ وہ 5 ستمبر تک ایک عہدہ چھوڑ دیں۔ صدر زرداری کے پاس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ بھی ہے۔ گزشتہ برس مئی میں لاہور ہائی کورٹ نے صدر کے دو عہدوں پر براجمان رہنے کے متعلق یہ فیصلہ دیا تھا کہ صدر مملکت اپنے اس باوقار عہدے کا لحاظ رکھتے ہوئے ایوانِ صدر کو سیاسی سرگرمیوں کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔ یہ توقع بھی کی گئی تھی کہ وہ ایک عہدہ چھوڑ دیں گے، لیکن ایک سال تک جناب صدر نے نہ تو سیاسی عہدہ چھوڑا اور نہ ہی ایوانِ صدر سیاسی سرگرمیوں سے پاک ہوا۔ اب جب یہ معاملہ ہائی کورٹ میں دوبارہ اٹھا دیا گیا ہے تو واضح حکم دے دیا گیا ہے کہ وہ ایک عہدہ چھوڑ دیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا صدر مملکت اپنے پیشروﺅں کی روایت پر عمل کرتے ہوئے ایک عہدہ چھوڑ دیں گے؟ یا پھر اس ضمن میں کوئی دوسرا مو¿قف اختیار کریں گے۔ جب گزشتہ برس پہلا حکم سامنے آیا تھا تو اس وقت پارٹی رہنماﺅں نے یہ مو¿قف اختیار کیا تھا کہ صدارت از اوّل تا آخر سیاسی عہدہ ہے۔ صدر زرداری سیاسی آدمی ہیں، انہیں پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے منتخب کیا ہے جو سب کے سب سیاستدان اور سیاست کی پیداوار ہیں، اس لئے جوشخص اس طرح کی سیاست میں ”گوڈے گوڈے“ گندھا ہوا ہے، وہ ”غیر سیاسی“ نہیں ہوسکتا، وہ تو سیاسی ہی رہے گا۔ اگر وہ سیاست نہیں کرے گا تو کیا کرے گا؟ جب ان رہنماﺅں سے پوچھا جاتا ہے کہ اِس سے پہلے بھی توسیاسی صدرآتے رہے ہیں، انہوں نے تو کوئی ایسا مو¿قف اختیار نہیںکیا، خود پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق لغاری جب صدر بنے تو انہوں نے نہ صرف پارٹی کا عہدہ چھوڑا بلکہ رکنیت سے بھی مستعفی ہوگئے، لیکن فاروق لغاری، واضح وجوہ کی بنا پر، پیپلز پارٹی کے لئے کوئی قابل مثال شخصیت نہیں تھے، عملاً بھی یہی ہوا ہے کہ صدر زرداری ہائی کورٹ کے فیصلے کے باوجود اب تک دوعہدوں پر متمکن چلے آرہے ہیں۔ اب لاہور ہائی کورٹ کا واضح فیصلہ آگیا ہے تو اُن کے سامنے دو راستے ہیں، -1 ایک تو یہ کہ وہ ایک عہدہ یعنی پارٹی کی کوچیئرمین شپ چھوڑ دیں اور اس مقصد کے لئے اُن کے پاس دو ماہ سے زائد کا وقت ہے۔ -2دوسرا اُن کے پاس یہ راستہ ہے کہ اگر عدالت نوٹس جاری کرے تو وہ عدالت کو بتائیں کہ وہ کن وجوہ کی بنا پر ایسا نہیں کریں گے۔

صدرمملکت کو عدالت میں حاضری سے استثنا حاصل ہے، اس لئے وہ خود تو عدالت میں پیش نہیں ہوں گے، البتہ ان کو نوٹس جاری ہوا تو اُن کی جانب سے جواب داخل کرنا ہوگا۔ یہ جواب جوبھی ہوگا، اس کا جائزہ توعدالت لے گی، لیکن یہاں یہ بتا دینا قابل لحاظ ہے کہ پاکستان میں جب بھی پارلیمانی نظام حکومت قائم رہا، صدر آئینی سربراہ بن کر ہی رہا اور اگر اس کے پاس کسی سیاسی جماعت کی رکنیت یاعہدہ تھا تو وہ اس نے چھوڑ دیا۔ جناب صدر زرداری پارلیمانی سسٹم میں پہلے سربراہ مملکت ہیں، جنہوں نے پارٹی عہدہ بدستور اپنے پاس رکھاہوا ہے اور ایوانِ صدر میں کسی نہ کسی نوعیت کی سیاسی سرگرمیاںبھی جاری رہتی ہیں۔

دوسرا اہم مقدمہ جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، وہ این آر او عملدرآمد کیس ہے جس میں اٹارنی جنرل کے ذریعے وزیراعظم سے جواب طلب کیا گیا ہے کہ وہ سوئس حکام کو خط لکھ رہے ہیں؟ اس نوٹس کا کیا جواب آتا ہے، اگرچہ اس مرحلے پر یہ تو معلوم نہیں، لیکن جن خیالات کا اظہار وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کیا ہے، وہ واضح ہیں۔ ایک تو انہوں نے کہا کہ وہ اسی طرح آئین کی پاسداری کرتے رہیں گے جس طرح سید یوسف رضا گیلانی کرتے تھے۔ دوسرے انہوں نے کہا کہ خط لکھنے کے معاملے پر پارٹی مو¿قف سب کے سامنے ہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ پارٹی (اور حکومت) خط نہیں لکھے گی۔ اِسی مسئلے پر یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا سامنا ہوا، سزا ہوئی اور انہیں وزارت عظمیٰ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہوگا؟ بظاہر تو اِس کا جواب ہاں میں ہی ہے کہ ایک جرم جس کی سزا میں ایک وزیراعظم کو رخصت ہونا پڑا، اگر دوسرا وزیراعظم بھی ویسا ہی جرم کرے گا تو کیا اسے نظرانداز کیا جائے گا؟ ایسا نہیں لگتا، لیکن اگر دوبارہ وزیراعظم کو گھر بھیجنے کی نوبت آگئی تو حکومت کا ردعمل مختلف ہوسکتا ہے۔ یہ ردّعمل کیاہوگا؟ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت معاملے کو ممکنہ حد تک لٹکانے کی کوشش کرے، مختلف وجوہ کی بنا پر عدالت سے لمبی تاریخیں حاصل کرے اور معاملہ طول کھینچتے کھینچتے نگران وزیراعظم کے تقرر تک پہنچ جائے۔ ویسے تو ایک محفوظ راستہ یہ ہے کہ حکومت جلد از جلد نئے الیکشن کا اعلان کردے جس کا مطالبہ سیاسی جماعتوں میں سے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کررہی ہیں۔ سول سوسائٹی میں سے بھی ایسے مطالبے ہورہے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو یہ بہترین راستہ ہے، لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ مستقل چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی نہیں ہو پارہا اور اس ضمن میں ایک ڈیڈلاک کی کیفیت ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان مشاورت سے ہونا ہوتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب اختلاف وزیر اعظم نہیں مانتے تھے، اس لئے بامعنی مشاورت نہیں ہوسکتی تھی، لیکن اب ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ ممکن ہے کسی وقت راجہ پرویز اشرف بھی یوسف رضا گیلانی والی صورت حال سے دوچار ہوجائیں، اس لئے بہتر یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر جلد سے جلد کرلیا جائے۔ دوسرا مسئلہ نگران وزیراعظم کا ہے، اگر اس معاملے میں بھی وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان اختلاف ہو تونگران وزیراعظم کا تقرر بھی چیف الیکشن کمشنر کی ذمے داری بن جائے گی، اس لئے یہ بات اہم ہے کہ جلد سے جلد چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ہوجائے اور جلد سے جلد عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے تاکہ آگے بڑھنے کا راستہ صاف ہوجائے۔

مزید :

صفحہ اول -