این آر او عملدرآمد کیس حکومت نے 10 سینئر قانون دانوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا

این آر او عملدرآمد کیس حکومت نے 10 سینئر قانون دانوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا

  

اسلام آباد(اخترصدیقی سے )وفاقی حکومت نے سوئس مقدمات کے لئے خط تحریر کرنے اوراین آراوعملدرآمد کیس کے معاملات سے آئینی اور قانونی طورپر نمٹنے کے لیے ملک بھرکے 10سینئر قانون دانوں سے ناصرف مشاورت کافیصلہ کیاہے بلکہ انھیں کہاجائیگاکہ وہ حکومت کے موقف کی تائید کے لیے سپریم کورٹ میں اپنے دلائل دینے کے لیے بطور عدالتی معاون عدالت سے اجازت حاصل کریں گے ۔وفاقی وزارت قانون وانصاف کے قریبی ذرائع نے بتایاہے کہ حکومت نے بیرسٹر اعتزازاحسن ،وسیم سجاد،خالدانورایڈووکیٹ ،عبدالحفیظ پیرزادہ ،ایس ایم ظفر سمیت دس سینئر قانون دانوں سے رابطہ کیاہے اوران سے سوئس مقدمات کے معاملے پر آئینی اورقانونی مدد طلب کی ہے ،وکلاءسے کہاگیاہے کہ حکومت کے پہلے بھی جمہوری طورپر منتخب وزیراعظم کو آئینی ذمہ داری اداکرنے کی سزادی گئی اور اس میں سیاسی عناصر ملوث ہیں جو حکومت کوسکون سے کام نہیں کرنے دے رہے ہیں اس بارے باقاعدہ طورپر مسلم لیگ ن کے میاں محمدنوازشریف اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا بھی تذکرہ کیاگیاہے وکلاءسے مزید کہاگیاہے کہ اگر وہ راضی ہوتے ہیں اورحکومت کاساتھ دیتے ہیں توان کو منہ مانگی فیس بھی دی جائیگی اوران کوعدالتی معاون مقر رکرانے کے لیے اٹارنی جنرل پاکستا ن کے ذریعے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکردی جائیگی جس میں عدالت سے استدعا کی جائیگی کہ اس اہم معاملے میں سینئر وکلاءکو بطور عدالتی معاون مقرر کرکے ان کی آئینی اور قانونی تجاویزسے بھی استفادہ کیاجائے۔

مزید :

صفحہ اول -