خط لکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، این آر او عملدرآمد کیس زندہ ہے، آئینی ماہرین

خط لکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں، این آر او عملدرآمد کیس زندہ ہے، آئینی ماہرین

  

لاہور (نیوز رپورٹر) وکلاءاور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ این آر او کیس میں حکومت کو سوئس حکام کو خط لکھنا ہوگا ، بصورت دیگر وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بھی توہین عدالت کا سامنا کرنا پڑیگا،آئینی ماہر احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ 16دسمبر 2009کو سپریم کورٹ نے این آر او کیس کے فیصلے میں پیرا نمبر 178میں قرار دیا تھا کہ این آر او کا قانون کالعدم قرار دیدیا گیا ہے، اور حکومت سوئس حکام کو خط لکھنے کے حوالے سے سلسلہ وہیں سے شروع کرے جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا، لیکن حکومت نے سوئس حکام کو خط نہ لکھا اور وزیر اعظم ، دو اٹارنی جنرلز ،دو سیکرٹری قانون کی قربانی دیدی لیکن خط نہ لکھا ، احمد رضا قصوری کا کہناتھا کہ حکومت کو ہر صورت خط لکھنا ہوگا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے،آئینی ماہر جی اے خان طارق کا کہناتھا کہ این آر او عمل درآمد کیس آج بھی زندہ ہے، وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو خط لکھنا ہوگا ،بصورت دیگر انہیں بھی توہین عدالت کا سامنا کرنا ہوگا، 12جولائی کو عدالت کو اٹارنی جنرل کے ذریعے خط لکھنے کے حوالے سے حکومت کا عندیہ معلوم ہوجائیگا،اور حکومتی انکار کی صورت ایکبار پھر سے یوسف رضا گیلانی کی طرز پر عدالتی عمل دوبارہ دوہرایا جائیگا،اور راجہ پرویز اشرف کو بھی بطور وزیر اعظم عدالتی احکامات سے انکار پرتوہین عدالت کی سزا ہوسکتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -