سوئس حکام کو خط سپریم کورٹ کا زیراعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب

سوئس حکام کو خط سپریم کورٹ کا زیراعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب

  

سلام آباد (خبرنگار، آن لائن) سپریم کورٹ نے این آر او عملدرآمد کیس میں سوئس حکام کو خط لکھنے کے حوالے سے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے جواب طلب کرلیا ، جبکہ اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کیس کے حوالے سے وزیراعظم کے موقف بارے آئندہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کریں ، بدھ کے روز جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس آصف کھوسہ اور جسٹس عظمت پر مشتمل بینچ نے این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کی ، ایف آئی اے کے سابق اعلیٰ عہدیدار احمد ریاض شیخ اور سابق ایم ڈی او جی ڈی سی ایل عدنان خواجہ کے وکیل ڈاکٹر باسط پیش ہوئے جنہوں نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ ان کے دونوں موکل نوکری سے فارغ ہوگئے ہیں سزا کے بقول تمام جرمانے بھی دے دیئے گئے ہیں اونٹ نکل گیا ہے اب دم پکڑے رہنا شان کیخلاف ہے عدالت حکم کردے کہ یہ مقدمہ کا آخری دن ہے جس پر جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ یہ تو ہم نہیں کرسکتے نیب کے وکیل موجود نہیں ہیں ۔ دوران سماعت عدالت نے سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے وکیل سے پوچھا کہ کیا نیب نے ملک قیوم کیخلاف کوئی ریفرنس فائنل کیا جس پر وسیم سجاد نے کہا کہ ملک قیوم لندن کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور نیب نے پاکستانی ہائی کمیشن سے تصدیق بھی کی ہے ۔ دوران سماعت جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہورہا سابق وزیراعظم کو اسی کیس میں سزا ہوئی دوران سماعت عدالت نے اپنا ایک حکم بھی لکھوایا جس میں اٹارنی جنرل آف پاکستان سے پوچھا گیا کہ این آر او عملدرآمد کیس کے حوالے سے سابق وزیراعظم کو ہدایات جاری کی گئیں ہیں اور اب نئے وزیراعظم کی اس حوالے سے کیا پوزیشن ہے ۔ وزیراعظم سے پوچھ کر آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں حکم میں کہا گیا ہے کہ این آر او عملدرآمد کیس کے اندر سابق وزیراعظم ملزم سے مجرم ہوگئے تو پھر انہیں سزا ہوگئی اب توقع ہے کہ نئے وزیراعظم این آر او عملدرآمد کیس کے حوالے سے حکم پر عملدرآمد کرینگے اور اٹارنی جنرل اس سے متعلق نئے وزیراعظم سے پوچھ کر بتائیں اس کے بعد این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت بارہ جولائی تک ملتوی کردی گئی واضح رہے کہ عدالت نے این آر او کیس کے فیصلے میں پیرا گراف 178میں حکومت صدر مملکت کے سوئس مقدمات دوبارہ کھولنے کیلئے ہدایت کی تھی حکم نامے کے تحت سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا جس کے بعد انہیں نااہل قرار دیدیا گیا ہے اس سے پہلے سرپیم کورٹ نے اپنے حکم پر عملدرآمد کیلئے چھ آپشنز بھی تجویز کئے تھے اور کہا گیا تھا کہ عدالت کمیشن تشکیل دے کر اپنے احکامات پر عملدرَآمد کراسکتی ہے۔سماعت کے آغاز پر ایف آئی اے کے سابق اعلی عہدےدار احمد ریاض شیخ اور سابق ایم ڈی او جی ڈی سی ایل عدنان خواجہ کے وکیل عبد الباسط نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احمد ریاض شیخ اور عدنان خواجہ کے خلاف مقدمہ اب ختم ہونا چاہیے۔ اونٹ نکل گیا اونٹ کی دم پکڑنے کا کیا فائدہ، نوکریاں ختم ہو گئیں، قید بھگت لی، جرمانے ادا کردیئے اب مقدمہ چلانے کا کیا مقصد ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم کو عدنان خواجہ کے سزا یافتہ ہونے کا علم نہیں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یوسف رضا گیلانی اور عدنان خواجہ نے جیل میں ساتھ رہ کر قید کاٹی۔ کیسے مان لیا جائے کہ یوسف رضا گیلانی کو عدنان خواجہ کی سزا کا علم نہیں تھا۔ وکیل عبدالباسط نے استدعا کی کہ عدنان خواجہ اور احمد ریاض شیخ کے خلاف مقدمات ختم کرنے کا حکم دے دیں۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نئے وزیراعظم سے رابطہ کرکے آئندہ سماعت پر خط لکھنے کے معاملے پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

مزید :

صفحہ اول -