محکمہ اوقاف میں بھرتیوں کے دوران بڑے پیمانے پر باقاعدگیوں کا انکشاف

محکمہ اوقاف میں بھرتیوں کے دوران بڑے پیمانے پر باقاعدگیوں کا انکشاف

  

لاہور(ریحان چوہدری) محکمہ اوقاف پنجاب میں گزیٹڈ افسروں کی بھرتیوں کے دوران بڑے پیمانے پر باقاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ گریڈ 17,16اور 18کے گزیٹڈ افسروں کی سیٹیں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے فل کرانے کی بجائے محکمہکے اعلیٰ حکام نے خود ہی بھرتی کا سلسلہ شروع کر دیا اور اندھا بانٹے ریوڑیاں مڑ مڑ اپنوں کو دے کے مصداق اپنے ہی عزیز و اقارب کو نوازا جا رہا ہے ، ڈائریکٹر ایڈمن نے اپنی اہلیہ کو نا اہلی کے باوجود میڈیکل آفیسر کے عہدے کے لئے موزوں قرار دے دیا اور قواعد و ضوابط کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اسی سلیکشن بورڈ میں اہلیہ کا انٹرویو کروا دیا جس کے وہ خود رکن ہیں روزنامہ پاکستان کی طرف سے کی گئی تحقیقات کے مطابق محکمہ اوقاف کے داتا دربار ہسپتال کیلئے 17,16اور 18گریڈ میں بھرتیوں کیلئے اشتہار دیا گیا تھا جس کے لئے امیدواروں کے انٹرویوز گزشتہ روز محکمہ اوقاف کے ہیڈ آفس میں ہوئے ان میں پتھالوجسٹ کی 18گریڈ کی 1میڈیکل آفیسر کی 17گریڈ کی 6سیالکوٹ، ملتان، بہالپور ریجن میں میڈیکل آفیسر کی 4جبکہ سٹاف نرس 16ویں گریڈ کی 1آسامی شامل ہے اور تمام اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈائریکٹر ایڈمن اوقاف کی اہلیہ عظمیٰ طارق کو بھی میڈیکل آفیسر کی سیٹ کے لئے موزوں قرار دیا گیا اور سلیکشن بورڈ نے ان کی اہلیہ کا انٹرویو کیا جس بورڈ کے وہ خود ممبر ہیں اور انٹرویو کے وقت خود موجود تھے علاوہ ازیں ان آسامیوں کے لئے ابھی تک محکمہ اوقاف کے بجٹ میں منظوری نہیں دی گئی اور داتا دربار ہسپتال کے جس یونٹ کے لئے یہ آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں وہ یونٹ بھی تاحال محکمہ سے منظور نہیں کیا گیا مزید برآں یہ کہ پچھلے دنوں محکمہ اوقاف میں سب انجینئرز، خطیب اور سٹینو گرافر کی بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کے ذریعے کی گئی تھیں مگر موجودہ آسامیوں کے لئے اپنے عزیز و اقارب کو نوازنے کے لئے خود ہی انٹرویوز کر لئے گئے ہیں۔سونے پر سہاگہ یہ کہ آسامیاں داتا دربار ہسپتال کیلئے وضع کی گئی ہیں مگر اوقاف قانون کے مطابق سیکرٹری اوقاف صرف محکمہ میں بھرتیاں کرنے کے مجاز ہیں جبکہ یہ بھرتیاں محکمہ صحت کے دائرہ کار میں آتی ہیں محکمہ اوقاف پنجاب میں بھرتیوں میں اقرباءپروری یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -