فیڈرل بورڈ آف ریونیوکا ٹیکس نیٹ میں اضافہکیلئے ہوٹلو ں کیخلاف کریک ڈاﺅن

فیڈرل بورڈ آف ریونیوکا ٹیکس نیٹ میں اضافہکیلئے ہوٹلو ں کیخلاف کریک ڈاﺅن

  

لا ہور( کامرس رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی جانب سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے ریسٹورنٹس کیخلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے ۔ریجنل ٹیکس آفس لاہور نے ایم ایم عالم روڈ سمیت صوبائی دارالحکومت کے پوش علاقوں میں قائم کھانے پینے کے درجنوں ریسٹورنٹس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا ہے۔سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے بغیر کھانے پینے کا کاروبار کرنے والے یا معمولی سیل کے گوشوارے بھرنے والے ہوٹلوں کی بکری کو ایف بھی آر از خود مانیٹر کررہا ہے۔اس سلسلے میں 10 فیلڈ انسپکٹروں پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے کر لاہور کے مختلف ریسٹورنٹس کے بلنگ کاﺅنٹر پر بٹھا دی گئی ہیں جو سارا دن ریسٹورنٹ پر سیل کا ریکارڈ چیک کر کے رپورٹ مرتب کریں گی۔ مرحلہ وار چیکنگ کیلئے ہفتے میں 2 ریسٹورنٹس کو ٹارگٹ کیا جائے گا اور ایف بی آر کے انسپکٹر روزانہ سیلز کی اوسط نکال کر مالی سال کے اختتام پر ایک رپورٹ دینگے جس کا موازانہ متعلقہ ہوٹل کے مالک کی جانب سے سیلز ٹیکس کے گوشوارے کے ساتھ کیا جائے گا کہ آیاکسی ریسٹورنٹ نے اپنی آمدنی حقائق پر مبنی ظاہر کی ہے یا سیلز ٹیکس سے بچنے کیلئے برائے نام یا پھر سرے سے ظاہر ہی نہیں کی۔ایف بی آر میں ہونیوالی ٹیکس اصلاحات کے نتیجے میں جاری مالی سال سے ٹیکس کے دائرے کو وسیع کرنے یعنی براڈننگ ٹیکس بیس(بی ٹی بی)کا عمل کافی تیز کر دیا گیا ہے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافے کیلئے نادرا، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، بینکوںاور امیگریشن سمیت مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کر کے ایک ”ڈیٹا بینک“ بنایا گیا ہے جس کی روشنی میں نئے ٹیکس دہندگان کو نوٹسز جاری کئے گئے ہیں۔گزشتہ روز بھی ایف بی آر نے جوہر ٹاﺅن میں شوکت خانم کے پاس واقعہ ”النخل“ ریسٹورنٹ کی سیل مانیٹر کی جو ایک لاکھ روپے سے زائد پائی گئی، جبکہ پیکو روڈ ٹاﺅن شپ میں واقع ”نمک“ فیملی ریسٹورنٹ پر بھی ایف بی آر کی ٹیمیں روزانہ کی بکری کا ریکارڈ مرتب کر رہی ہے جن کی ہفتہ کے دنوں میں سیل 80 ہزار روپے سے زائد پائی گئی ہے تاہم ان دونوں ریستورانوں کے پاس نیشنل ٹیکس نمبر(این ٹی این ) نمبر ہی نہیں تھا۔ واضح رہے کہ ایف بی آر نے فروری 2012 ءمیں لاہور کے مختلف ریستورانوں کیخلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور اب تک ایم ایم عالم روڈ اور فوڈ سٹریٹس میں قائم درجنوں کھانے پینے کے ہوٹلوں کی سیل مانیٹر کر کے ضروری کارروائیاں کی گئیں ہیں۔ اس سلسلے میں ریجنل ٹیکس آفس I(آر ٹی او) کی چیف کمشنر رعنا احمد نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ نیشنل ٹیکس نمبر رکھنے کے باوجود گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کو بڑی تعداد میں نوٹسز جاری کئے ہیں جن میں سے ہزاروں لوگوں نے ایف بی آر سے رابطہ کیا ہے۔ لاہور کے ریسٹورنٹس کے خلاف کریک ڈاﺅن کے حوالے سے چیف کمشنر نے نمائندہ پاکستان کو بتایا کہ آر ٹی او کے پاس لاہور کے سینکڑوں ریسٹورٹنس کی مکمل فہرست موجود ہے جن کو مرحلہ وار ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان ریسٹورنٹ مالکان نے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نہیں کروائی تھی جبکہ بعض نے بہت معمولی سیل ظاہر کرکے ٹیکس سے استثنا لیا ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ریجن کے 10 ایماندار انسپکٹروں پر مشتمل ٹیم کو سیلز مانیٹر کرنے کیلئے مختلف ریستورانوں پربٹھادیا گیا ہے، ان میں سے ایک ریسٹورنٹ نے اپنی سالانہ سیل 50 لاکھ ظاہر کی ہوئی تھی جو سال کے 300 دنوں کے حساب سے 15 ہزار روپیہ بنتی ہے جبکہ سیلز ٹیکس 16 ہزار 666 روپے یومیہ سیلز والے پر لاگو ہوتا ہے ۔ تاہم اسی ریسٹورنٹ کی سیل کو جب ہمارے انسپکٹروں نے مانیٹر کیا توجاری ہفتے کے پہلے روز یعنی سوموار کو اس ریسٹورنٹ کی بکری 95 ہزار جبکہ اگلے دن منگل کو 1 لاکھ 24 روپے تھی اگر روزانہ کی اوسط سیل ایک لاکھ روپے بھی لگائی جائے تو سال کا 3 کروڑ روپیہ بنتا ہے ، اسی طرح ایک دوسرا ریسٹورنٹ جس نے بہت معمولی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کا گوشوارہ بھر ا تھا اسے مانیٹر کیا گیا تو پہلے دن 80 ہزار جبکہ اگلے دن 1 لاکھ 14 ہزار روپے کی بکری ہوئی۔ایک سوال کے جواب میں چیف کمشنر آر ٹی او I نے کہا کہ ان ریسٹورنٹ مالکان کی مانیٹرنگ جاری رہے گی جب تک یہ پورا ٹیکس دینے پر مجبور نہ ہو جائیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -