جب نہ بنے کام تو ہاتھ مارو اِدھر ُادھر ، پولیس نے جرائم کیلئے جعلی مقابلو ں کا سہارالے لیا

جب نہ بنے کام تو ہاتھ مارو اِدھر ُادھر ، پولیس نے جرائم کیلئے جعلی مقابلو ں کا ...

  

لاہور (زاہد علی خان) پنجاب پولیس نے جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح روکنے کا آسان ترین حل تلاش کرلیا ہے اور صوبے کے مختلف حصوں میں ہونے والے پولیس مقابلے جرائم روکنے کا آخری سہرا ثابت ہورہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق نئے آئی جی پولیس کے آنے کے بعد اب تک 40سے زائد مبینہ مقامبلوں جرائم پیشہ افراد کو ”پار“ کردیاگیا ہے۔ مقابلوں میں حصہ لینے والے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ مقابلے اصلی ہیں، جبکہ مرنے والوں کے لواحقین اور رشتہ داروں کی دہائی ہے کہ پولیس نے انہیں پکڑ کر ہلاک کیا ہے، تاہم اتنے زیادہ ڈاکوﺅں کی ہلاکت کے باوجود جرائم میں کمی نہیں آئی اور روز بروز اس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں اکثر ایسے افسران کو تعینات کیا گیا ہے جن میں ایسے افسران شامل ہیں جو پولیس مقابلوں اور ایسے مقابلوں کی پلاننگ میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ آئی جی پنجاب پولیس کی طرف سے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم بعض پولیس افسران نے ان مقابلوں کو جائز قرار دیتے ہوئے جرائم میں کمی کا حل قرار دیا ہے ۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران شیخوپورہ، قصور، ننکانہ، گوجرانوالہ، لاہور اور دیگر اضلاع میں ہونے والے پولیس مقابلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض پولیس افسران کی جانب سے یہ سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہے۔ پولیس نے پولیس مقبالوں کے نئے طریقے اختیار کئے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔ ()پولیس ملزم کو تفتیش کے لئے لے جارہی تھی کہ اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کردیا اور ان ہی کی فائرنگ سے زیر حراست ملزممارا گیا،()پولیس زیر حراست ملزموں کو ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے گاڑی پر لے کر جارہی تھی کہ نامعلوم افرادنے گاڑی پر حملہ کردیا پولیس نے جوابی فائرنگ کی تو ملزموں کے ساتھیوں کی فائرنگ سے ملزمان مارے گئے۔ () پولیس کسی ملزم کو غائب کرکے وائرلس پر اس کے فرار ہونے کی کال چلادیتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ پولیس اس کا تعاقب کررہی ہے۔ بعدازاں اس کے مقابلے میں ہلاک ہونے کی کال چلادیتی ہے۔ ایسے بے شمار طریقے ہیں جن کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو مقابلوں میں ”پار“ کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب پولیس افسران کا کہنا ہے کہ پولیس جعلی نہیں اصلی مقابلے کرتی ہے اور اس کا واضع ثبوت ہے کہ اب تک کئی پولیس افسران ان مقبلوں میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ پولیس نہ صرف شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے بلکہ اپنی جانیں بھی قربان کرتی ہے، بعض پولیس افسران نے پولیس کو ہدایت کررکھی ہے کہ پولیس کو کسی کی جان لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہاں یہ امر قبال ذکر ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بعض پولیس مقابلوں کا نوٹس لیا اور اس میں ملوث پولیس افسران کے خلاف مقدمات درج کروائے، سابق آئی جی نے بھی اس کی سخت مخالفت کی تھی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -