لیڈی کانسٹیبل شمائلہ نے، خود کشی نہیں کی اسے قتل کیا گیا ورثا

لیڈی کانسٹیبل شمائلہ نے، خود کشی نہیں کی اسے قتل کیا گیا ورثا

  

لاہور (خبر نگار) شمالی چھاﺅنی کے علاقہ میں لیڈی پولیس کانسٹیبل شمائلہ نے خود کشی نہیں بلکہ اُسے 33 لاکھ روپے ہتھیانے کی خاطر مجاہد سکواڈ پولیس کانسٹیبل فیض اللہ نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔ پولیس نے پولیس کانسٹیبل فیض اللہ اور اس کی بیوی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ لیڈی پولیس کانسٹیبل شمائلہ کی والدہ کنیزان بی بی اور چچا احمد دین نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ مجاہد سکواڈ پولیس کانسٹیبل فیض اللہ پہلے سے شادی شدہ اور اس نے لیڈی پولیس کانسٹیبل شمائلہ کو اغوا کرکے زبردستی نکاح راچالیا، جس پر لیڈی کانسٹیبل شمائلہ کے اغوا ہونے پر عدالت عالیہ سے رجوع کیا گیا اور عدالت نے بھی لیڈی پولیس کانسٹیبل شمائلہ کو اغوا کرکے زبردستی نکاح رچانے کا نوٹس لیا۔ جس پر مجاہد سکواڈ کا اہلکار فیض اللہ نے لیڈی کانسٹیبل کو اغوا کرکے تین ماہ تک قید میں رکھا۔ لیڈی کانسٹیبل کے چچا احمد دین نے بتایا کہ اس کی بھتیجی شمائلہ کے پاس پلاٹ کو فروخت کرنے اور کمیٹیوں کی رقم سمیت 33 لاکھ روپے تھے جو کہ مجاہد سکواڈ اہلکار فیض اللہ نے رقم ہتھیانے کی خاطر اس کی بھتیجی کو فارنگ کرکے قتل کیا اور شمائلہ کی خودکشی کا ڈرامہ رچادیا، لیڈی کانسٹیبل کی والدہ کنیزاں بی بی نے بتایا کہ اس کی بیٹی کی لاکھوں کی رقم ہتھیانے کی خاطر قتل کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نوٹ لیں اور اس کی بیٹی کے قتل میں ملوث مجاہد سکواڈ کے اہلکار اور اس کی بیوی کے خلاف کارروائی کروائیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئی جی پولیس کو باقاعدہ درخوات دے دی گئی ہے کہ اور آئی جی پنجاب کے حکم پر ایس پی کینٹ انوسٹی گیشن محمد انور کھیتراں نے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ اس کی بیٹی کی ہلاکت کا واقعہ رائیگاں نہیں جائے گا اور ہلاکت کے اصل حقائق سامنے لاکر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے ڈی ایس پی شمالی چھاﺅنی سید نذر عباس نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل انصاف اور ملزمان نے عدالت سے عبوری ضمانتیں کروارکھی ہیں اور ضمانتیں خارج کرواکر باقاعدہ گرفتار کیاجائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -