گروپ بندی کا شکار ہو کر تاجر اپنی طاقت کھو بیٹھے

گروپ بندی کا شکار ہو کر تاجر اپنی طاقت کھو بیٹھے

  

لاہور(وقائع نگار) کسی بھی ملک کی معیشت میں تاجر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جو معیشت کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار اور ملک کی پہچان بین الاقوامی سطح پر کرواتے ہیں تاہم پاکستان میں تاجر برادری کا کردار غیر فعال ہونے کے باعث جہاں معیشت پر منفی اثرات رونما ہو رہے ہیں وہیں تاجروں میں گروپ بندی کے باعث اپنی طاقت کھو چکے ہیں حاجی مقصود احمد بٹ مرحوم جنہوں نے اپنی ساری زنگدی تاجروں کی فلاح درپیش مسائل کے خاتمہ کے لئے آواز حق ایوانوں میں پہنچائی وہیں تاجر براداری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرتے ہوئے ایماندار، مخلص ، نڈر تاجروں کا گلدستہ بنایا۔ تاہم حاجی مقصود احمد بٹ کی وفات کے بعد تاجر رہنماﺅں میں مرکزی قیادت کے حصول کے لئے کشیدگی بڑھ گئی، بالاخر تاجر گروپ بندی کا شکار ہو گئے جو دراصل اقتدار کی کرسی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو گئے۔ تاہم تاجروں کی طاقت ختم ہو کر رہ گئی اسی وقت پاکستان میں انجمن تاجران کے 3گروپ اور قومی تاجر اتحاد کے 2گروپ تاجروں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ جن میں انجمن تاجران کے مرکزی صدر حاجی عبدالمنان، جنرل سیکرٹری نعیم میر دوسرے گروپ کے صدر خالد پرویز جنرل سیکرٹری رزاق ببر اور تیسرے گروپ کے صدر اشرف بھٹی مرکزی قیادت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں جبکہ لاہور میں قومی تاجر اتحاد کے صدر عرفان اقبال شیخ جنرل سیکریٹری نذیر احمد چوہان اور دوسرے گروپ کے صدر خواجہ اطہر گلشن اور سیکرٹری جنرل حافظ عابد علی تاجروں کے مسائل کے خاتمہ کے لئے اپنی اپنی سطح پر اقدامات اٹھا کر تاجروں کی بہتری کے حوالہ سے کام کر رہے ہیں، تاہم تاجر رہنماﺅں میں اتحاد نہ ہونے سے تاجر رہنما طاقت کھو چکے ہیں جو ملکی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران و دیگر مسائل پر آواز تو اٹھاتے ہیں تاہم تاجر گروپ یکجان نہ ہونے کے باعث تاحال کوئی ایسا کام نہ کر پاتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو کوئی فائدہ پہنچ سکا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -