حکوت نے ریلوے کو 2 ارب26کروڑ 21 لاکھ روپے دینے سے انکار کر دیا

حکوت نے ریلوے کو 2 ارب26کروڑ 21 لاکھ روپے دینے سے انکار کر دیا

  

لاہور(حنیف خان)نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے عہدہ سنبھالنے کے بعد وفاقی حکومت نے سوئی گیس ،واسا ،بجلی ،پی ایس او ،نجی کمپنیوں کے واجبات اور ریلوے ملازمین کے واجبات سمیت دیگر ادائیگی کے لئے ریلوے کی طرف سے مانگی گئی 2ارب 26کروڑ 21لاکھ 28ہزارروپے کی رقم ادا کرنے سے انکار کردیاہے اوروزارت خزانہ نے ریلوے کو پے سلو پالیسی کو اپناتے ہوئے وقت گزارنے کی ہدایت کی ہے ۔پے سلو پالیسی کے تحت فنانس ایڈوائز ر اینڈ چیف اکاﺅنٹنٹ طارق مقصود نے من پسند ،سفارشی اورمبینہ کمیشن دینے والی نجی کمپنیوں کو چیک کیش کروانے کے گرین سگنل دے دیئے ہیں جس پر متاثرہ کمپنیاں اور ملازمین سراپا احتجاج بن گئے ہیں اور بیوائیں پیشن کے بقایا جات کے حصول کے لئے ترس گئی ہیں۔اور جھولیاں اٹھا کر بددعائیں دینے پر مجبور ہوگئی ہیں ۔باوثوق ذرائع نے بتایا کہ ریلوے انتظامیہ نے وزارت ریلوے کو اہم ادائیگی کے متعلق لسٹ تیار کرکے بھجوائی تھی جو کہ وزارت خزانہ کو ارسال کردی گئی ۔اس لسٹ میں کہا گیا کہ ریلوے نے 7نجی و سرکاری ادارے اور کمپنی کو ادائیگی کرنی ہے جبکہ ملازمین کو 8مختلف اقسام کی ادائیگی کرنی ہے اس ضمن میںریلوے کو 2ارب 26کروڑ 21لاکھ 28ہزارروپے ہنگامی بنیادوں پر ضرورت ہے ذرائع نے بتایا کہ ریلوے نے ملازمین کو جی پی ایف ایڈوانس کی مد میں 3کروڑ 2لاکھ 23ہزار روپے ،جی پی ایف فائنل کی مد میں 4کروڑ 91لاکھ 31ہزار روپے،سات فیصد سی ایل اے کی مد میں 59کروڑ 87لاکھ 46ہزار روپے ،پینشن گریجو ایٹی کی مد میں 14کروڑ 85لاکھ 14ہزار روپے،ٹی اے ڈی اے کی مد میں 9کروڑ 61لاکھ 32ہزار روپے ،بقایا جات ادائیگی سال 2005کی مد میں 11کروڑ 26لاکھ 2ہزار روپے ،فیملی پیکج کی مد میں 6کروڑ 3لاکھ 90ہزار روپے،ان کیش منٹ کی مد میں 13کروڑ 5لاکھ 35ہزار روپے ادا کرنے ہیں جبکہ سرکاری ادارے اور نجی کمپنیوں میں سے سوئی گیس کو 3کروڑ 34لاکھ 95ہزارروپے،واسا کو 10لاکھ روپے ،بجلی کے بل مد میں 34کروڑروپے،نجی کمپنی کے ٹھیکیداروں کو 14کروڑ50لاکھ روپے،کسٹم اور سیلز ٹیکس کی مد میں 10کروڑروپے،پاکستان سٹیٹ آئیل (پی ایس او)کو50کروڑ 70لاکھ روپے اورنیشنل بنک آف پاکستان کو کمیشن کی مد میں12کروڑ 50لاکھ روپے ادا کرنے ہیں تاہم ریلوے کی طرف سے مانگی گئی یہ رقم وفاقی حکومت نے دینے سے معذرت کرلی ہے جس کے پیش نظر وزارت خزانہ نے ریلوے کو ہدایت کی ہے کہ وہ(وزارت خزانہ) وقتافوقتا قلیل رقم جاری کیا کرے گی۔جو کہ پے سلو پالیسی کے تحت زیادہ سے زیادہ ضرورت مند کو دی جائے گی لیکن لاہو ر ریلوے ہیڈ کواٹر میں الٹی گنگا بہنے لگی ہے ۔فنانس ایڈوائز ر اینڈ چیف اکاﺅنٹنٹ طارق مقصود صر ف ان لوگوں کے چیک کیش کروانے کی ہدایت کررہے ہیں جن کے ساتھ مخصوص مقاصد وابستہ یا سفارشی ہیں اور مستحق لوگ اپنے حق کے حصول سے بہت دو ر ہیں۔اس حوالے سے موقف جاننے کے لئے فنانس ایڈوائز ر اینڈ چیف اکاﺅنٹنٹ طارق مقصود سے رابطہ کیا گیا تو ان کے آفس سے ان کے پی اے سہیل احمد نے فون اٹینڈ کیا اور بات کروانے سے معذرت ظاہرکی اور کہا کہ صاحب آپ کے موبائل پر خود ہی رابطہ کرلیتے ہیںاس صورتحا ل کے پیش نظر رات گئے تک فنانس ایڈوائز ر اینڈ چیف اکاﺅنٹنٹ طارق مقصود کا موقف سامنے نہیں آسکا۔

مزید :

صفحہ آخر -