بگرام جیل میں قیدیوں کی شہریت، وزارت خارجہ کا ڈائریکٹر طلب

بگرام جیل میں قیدیوں کی شہریت، وزارت خارجہ کا ڈائریکٹر طلب

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے بگرام جیل میں قید32 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے دائر درخواست میں قیدیوں کی شہریت کی تصدیق نہ کیے جانے پر وزارت خارجہ کے افغان ڈیسک کے ڈائریکٹر کو طلب کرتے ہوئے مزید سماعت11جولائی تک ملتوی کر دی ہے ۔وزارت خارجہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ابھی تک بگرام جیل میں قید32 قیدیوں کی شہریت کی تصدیق کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔اس لیے مہلت عطا کی جائے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک ماہ ہو چکا ہے ابھی تک قیدیوں کی شہریت کی تصدیق کیوں نہ کی گئی کیوں نہ عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے والے افسران کو جیل بھجوا دیا جائے۔عدالت نے وزارت خارجہ کے افغان ڈیسک کے ڈائریکٹر کو وضاحت کے لیے طلب کر تے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔یاد رہے کہ قیدیوں کے حقوق پر کام کرنے والی غیر ملکی تنظیم کی رکن سلطانہ نون نے بیرسٹر سارہ بلال کی وساطت سے دائر درخواست و دیگر کی جانب سے موقف اختیار کیا تھاکہ 7 پاکستانی شہریوں اول نور،حامداﷲ خان،عبدالحلیم سیف اﷲ ،فضل کریم ،عمل خان،افتخار احمد اور یونس رحمت اﷲ سمیت32 پاکستانیوں کو پاکستانی حکام کی ملی بھگت سے بگرام ائیربیس سے اغواءکرکے غیر ملک کے حوالے کردیا گیا ہے اور ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی میں ملوث ہیں یا انکی مدد کر رہے تھے جبکہ ان کے خلاف کوئی الزام بھی ثابت نہیں ہوسکا ۔اس کے باوجود پاکستانی حکام کی ملی بھگت سے انہیں کسی اور ملک کے حوالے کردیا گیا۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ 7پاکستانی شہریوں کو ایجنسیوں نے پاکستان کی حدود سے گرفتار کرکے امریکی و نیٹو فوج کے حوالے کیا جنھیں بگرام جیل میں قید رکھا گیا ہے۔ جبکہ ان قیدیوں کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے کسی قسم کے شواہد موجود نہیں قیدی پاکستانی شہری ہیں۔لہذا انھیں پاکستان واپس لا کر پاکستانی قانون کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -