آئین پارلےمنٹ کی پیدوار ہے جو نیا آئین اور ادارے بنانے کی طاقت رکھتی ہے : قمر زمان کائرہ

آئین پارلےمنٹ کی پیدوار ہے جو نیا آئین اور ادارے بنانے کی طاقت رکھتی ہے : قمر ...

  

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ آئین پارلےمنٹ کی پیدوار ہے ،پارلیمنٹ نیا آئین اور نئے ادارے بنانے کی طاقت رکھتی ہے ¾ میثاق جمہوریت میں ایک نئی آئینی عدالت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ¾ ہم تیار ہیں ¾ نواز شریف پیچھے ہٹ رہے ہیں ¾ نوازشریف یا عمران خان میں ہمت ہے تو اپنے سوا کے کسی پارٹی ورکر کو وزیراعظم نامزد کرکے دکھائیں ¾لاہور اور اسلام آباد میں ہمارے خلاف ہی کیسز کی سماعتیں ہورہی ہیں ¾پنجاب حکومت بارے پٹیشن 94/2010 کا بھی فیصلہ ہونا چاہیے ¾ سپریم کورٹ کے حوالہ سے آئین اور قانون کے مطابق عمل کریں گے، وہ شہید ذوالفقارعلی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں پندرھویں قومی تحقیقی کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگوکررہے تھے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہاکہ آئین نے پارلےمنٹ نہیں بنائی ¾ یہ پارلےمنٹ ہے جس نے آئین بنایا اور چاہئے تو نیا آئین بنادے۔ قمر زمان کائرہ نے کہاکہ پارلےمنٹ ہی سپریم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہاکہ سپریم کورٹ میں این آر او عملدرآمد پر پہلے بھی آئین کے مطابق جواب دیا اب بھی آئین کے مطابق جواب ہوگا،لاہور ہائی کورٹ میں صدر کے دو عہدوں کی درخواستوں پر حکومت موقف دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صدر زرداری خصوصی حالات میں شریک چیئرمین بنایا گیا، وہ پارٹی کے سربراہ نہیں، آصف زرداری منتخب صدر اور پارلےمنٹ کا حصہ ہیں اورہائی کورٹ میں آئین و قانون کے مطابق جواب دیاجائیگا،وزیر اطلاعات نے کہاکہ نوازشریف یا عمران خان میں ہمت ہے تو اپنے سوا کے کسی پارٹی ورکر کو وزیراعظم نامزد کرکے دکھائیں،راجہ پرویز اشرف بے نظیر بھٹو کا انتخاب تھے ،انہیں رینٹل منصوبوں کے بارے میں بیورکریسی نے غلط اعداد شمار اور بریفنگز دیں،انہوں نے خود سے کچھ نہیں کیا،وزیراطلاعات نے کہاکہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلناہے،اسی لئے بڑی کابینہ بنائی،پرویز الہٰی کو اعزازکے طور پر نائب وزیراعظم بنایا،وزراءپر کروڑوں روپے خرچ ہونے کا تاثر غلط ہے۔ ایک اور سوال پر وزیراطلاعات نے کہاکہ اتحادی حکومت میں سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوتاہے تاہم یہ تاثر غلط ہے کہ نئے وزراءبنانے سے اربوں یا کروڑوں کا نقصان ہوگا، حقائق یہ ہیں کہ وزیربننے کے بعد تنخواہ کم ہوجاتی ہے، بطور رکن قومی اسمبلی ایک لاکھ بیس ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ وزیر بننے کے بعد 85 ہزار سے زائد نہیں ملتے۔

مزید :

صفحہ آخر -