یورو زون بحران: غریبوں ممالک کی امداد میں کمی کر دی گئی

یورو زون بحران: غریبوں ممالک کی امداد میں کمی کر دی گئی

  

برسلز (جی این آئی) یور وزون میں قرض کا بحران جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق یورو زون میں قرض کے بحران کے سبب غریب ممالک کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی گئی ہے۔امداد پر نظر رکھنے والے ادارے ڈیٹا کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ایک دہائی میں کل یورپی سطح پر امداد میں واضح کمی نظر آئی ہے۔ قرض کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ممالک سپین اور یونان نے اپنی جانب سے دی جانے والی امداد کی مد میں سب سے زیادہ کٹوتی کی ہے۔اس کے باوجود مجموعی طور پر پورے یورپی ممالک میں غریب ممالک کی ترقیات کے لیے دی جانے والی امداد میں ایک اعشاریہ پانچ فی صد کی کمی آئی ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی اتحاد میں بچت پروگرام کے تحت امداد میں کٹوتیوں کے اثرات زندگی بچانے والے امدادی پروگراموں پر بھی پڑنے لگے ہیں۔اس سے سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہونگے جن میں مثال کے طور پر موزیمبیق، تنزانیہ، ملاوی وغیرہ شامل ہیں۔ سال دو ہزار دس گیارہ میں سپین نے اپنے بجٹ میں ایک تہائی کی کٹوتی کی۔ واضح رہے کہ سپین یورپ کی چھٹی بڑی معیشت ہے۔یہ رپورٹ امداد فراہم کرنے والی ایجنسیوں کی لابی کے نتیجے میں اس موقع پر شائع کی گئی ہے جب یورپی ممالک کے رہنما آئندہ سات سالوں کے لیے یورپی بجٹ پر بات چیت شروع کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ترقیاتی پروگراموں کے لیے جس قدر بھی امداد دی جاتی ہے ان میں سے نصف سے زیادہ یورپی ممالک سے آتے ہیں۔ ان میں سے کئی ممالک اقوام متحدہ کے غریبی ختم کرنے کے پروگرام کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں جس کے تحت امداد میں دی جانے والی قومی رقم کا صفر اعشاریہ سات فیصد دیا جاتا ہے۔ ابھی تک سب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والے ممالک میں جرمنی چودہ ارب امریکی ڈالر یا قومی آمدنی کا صفر اعشاریہ تین نو فیصد، برطانیہ ساڑھے تیرہ ارب امریکی ڈالر یا قومی آمدنی کو صفر اعشاریہ پانچ پانچ فی صد اور فرانس بارہ ارب امریکی ڈالر یا قومی آمدنی کا صفر اعشاریہ چار دو فیصد شامل ہیں۔

مزید :

کامرس -