لندن،ڈرائیور نے تین افراد کو کار تلے کچلنے سے انکار کردیا

لندن،ڈرائیور نے تین افراد کو کار تلے کچلنے سے انکار کردیا

  

لندن(جی این آئی)شاپس کو لوٹ مار سے تحفظ دینے کی کوشش کرنے والے تین افراد کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے الزام کا سامنا کرنے والے ایک ڈرائیور نے گذشتہ روز جان بوجھ کر ان پر گاڑی چڑھانے سے انکار کیا ہے۔30سالہ آئن بیک فورڈ پر گذشتہ اگست کے فسادات کے دوران20 سالہ ہارون جہاں، اس کے 30 سالہ بھائی شہزاد علی اور 31 سالہ مصور کو قتل کرنے کا الزام ہے، برمنگھم کران کورٹ میں شواہد پیش کرتے ہوئے بیک فورڈ نے جیوری ارکان سے کہاکہ وہ مزدا کار چلا رہا تھا جس سے متاثرین ٹکراکر ہلاک ہوئے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے انہیں ہلاک کیا ہے، اس کے بیرسٹر پال سے جب پوچھا گیا کہ کیا اس نے قصدا تین افراد کو کچل کر ہلاک کیا یا سخت نقصان پہنچایا تھا؟ اس کا جواب تھاکہ میں نے ایسا نہیں کیا، ہولی گروو، کوئنٹن، برمنگھم کے رہائشی بیک فورڈ نے عدالت کو بتایا کہ عبدالمصور اور شہزاد علی اس کے اچھے دوست تھے جنہیں وہ گذشتہ 13 یا 14 سال سے جانتا تھا، دونوں بھائی اور ان کا دوست ہارون 10 اگست کو شہر کے ونسن گرین ایریا میں ڈیوڈلی روڈ پر ہلاک ہوئے تھے، پراسیکیوشن نے دعوی کیاکہ وہ راہ گیروں کے اس گروپ میں شامل تھے جو مزدا سے ٹکرانے سے قبل ایک اور کار سے قصدا کچلے گئے، بیک فورڈ اور7 شریک مدعا علیہان نے قتل سے انکار کیا ہے

مزید :

عالمی منظر -