یوسف گئے پرویز آ گئے،مسائل کا کیا بنے گا؟

یوسف گئے پرویز آ گئے،مسائل کا کیا بنے گا؟

  

عروج و زوال کی اپنی تاریخ ہے اور کتابوں میں بچہ سقہ کے اقتدار سے لے کر امیر تیمور تک کے ادوار کی داستانیں محفوظ ہیں۔ یہ امیر تیمور ہی کے بارے میں کہاوت ہے کہ اس حاکم کے دربار میں ایک نابینا خاتون پیش ہوئی۔ بادشاہ نے نام پوچھا تو خاتون نے جواب دیا ”دولت“ تیمور کو نہ جانے کیا سوجھی، بولے ”دولت اندھی بھی ہوتی ہے“ برملا جواب ملا ”بادشاہ سلامت دولت اندھی نہ ہوتی تو ایک لنگڑے کے پاس کیوں آتی؟“ (تیمور کی ٹانگ میں نقص تھا اور اسی وجہ سے وہ تیمورلنگ کہلایا)

یہ تو دولت کی بات ہے اگر اس کے ساتھ ہی اقتدار کی تاریخ دیکھی جائے تو قدم قدم پر حیرت ہوتی ہے، بادشاہوں سے آمروں اور آمروں سے جمہوری سربراہوں تک کے آنے جانے میں بہت سے سبق موجود ہیں، لیکن یہ ان حضرات کے لئے محض داستان ہوتے ہیں جن کو اقتدار مل جاتا ہے کہ اقتدار بذات خود ایک نشہ ہوتا ہے جو صاحب اقتدار یہ دعویٰ کرے کہ اسے اقتدار سے زیادہ دلچسپی نہیں وہ اسے برقرار رکھنے کے لئے بہت کچھ کر گزرتا ہے۔

زیادہ دور جانے کی ضرورت کیا ہے، ہمارا تعلق تو اس پیارے پاکستان سے ہے،جسے قائم ہوئے اب 65برس ہونے کو آئے ہیں۔ تحریک پاکستان اور پھر قیام پاکستان کے بعد کی تاریخ اور واقعات پر ایک سرسری نظر بھی ڈالی جائے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ صرف یہی ایک واحد سبق ہے جو ہم نے نہیں سیکھا کہ تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے۔

ابھی دن ہی کتنے ہوئے کہ عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کے الزام میں تا برخاست عدالت کی سزا کو کافی جانا اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پانچ سال کے لئے عوامی نمائندگی کے لئے ہی نااہل قرار دے دیا، یہ فیصلہ مان لیا گیا اور سید یوسف رضا گیلانی جو سعودی عرب میں شہزادہ نائف کے جنازے میں شرکت اور عمرے کی ادائیگی کے بعد واپس پہنچے تھے، ان کو اس اعزاز سے محروم ہونا پڑا ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت گئی تو ساتھ ہی اس سے وابستہ وزیراعظم کی کرسی بھی چھن گئی اب وہ سابق وزیراعظم ہیں، ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف وزیراعظم بن چکے اور امور مملکت چلا رہے ہیں، یہ چمن یونہی آباد ہے اور گیلانی اپنا عہد نبھا کر خاموش بیٹھ گئے ہیں۔

ہم نے اپنی صحافتی زندگی میں بہت سے عروج و زوال دیکھے۔ ایوب خان سے یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو سے محمد خان جونیجو تک بھی واسطہ رہا، اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اور پھر میاں محمد نواز شریف بھی دو بار وزیراعظم بنے اور اقتدار سے محروم کر دیئے گئے۔ اب محترمہ تو دنیا میں موجود نہیں، میاں محمد نواز شریف مستقبل کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ محترمہ کی جماعت ان کے مجازی خدا کی قیادت میں برسر اقتدار ہے اور ہچکولوں سے حکومت کر رہی ہے یہ مخلوط حکومت ہے لیکن اقتدار پیپلز پارٹی ہی کا کہلاتا ہے کہ زرداری صدر ہیں، وزیراعظم ان کی جماعت سے ہے تو چیئرمین سینٹ اور سپیکر ڈپٹی سپیکر بھی پیپلز پارٹی ہی کے ہیں، اسی لئے مکمل اقتدار کے حوالے سے الزام پیپلز پارٹی ہی کو سہنا پڑتے ہیں۔

ذکر مخدوم یوسف رضا گیلانی کا تھا جو نااہل قرار دیئے گئے اور یہ بھی تاریخ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہوا کہ کسی منتخب وزیراعظم کو یوں اقتدار سے الگ ہونا پڑا، اس سے قبل بھی سیاسی قائدین نااہل ہوئے لیکن ان کے لئے خصوصی قانون بنایا گیا تھا، ایوبی مارشل لاءکے بعد ایبڈو بنا اس کے تحت میاں محمد ممتاز دولتانہ، نواب افتخار حسین ممدوٹ اور حسین شہید سہروردی جیسے تمام سیاسی راہنماو¿ں کو انتخابات کے لئے نااہل قرار دیا گیا، قریباً سبھی راہنماو¿ں نے اسے برداشت کر لیا کہ مارشل لائی قانون تھا تاہم سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے چیلنج کیا اور اپنا کیس خود لڑا اگرچہ فیصلہ توقع کے مطابق انہی کے خلاف ہوا لیکن وہ رائے عامہ پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہے کہ سیاسی راہنماو¿ں کے خلاف زیادتی ہوئی ہے حسین شہید سہروردی بہترین اور اعلیٰ پائے کے وکیل تھے جن کا تحریک پاکستان میں نمایاں حصہ تھا وہ پاکستان کے وزیراعظم بھی رہے انہی کے دور حکومت میں بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا وہ فقرہ سامنے آیا جس میں 1958ءسے پہلے پاکستان میں بار بار سیاسی تبدیلیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا گیا ”میں نے اب تک اتنی دھوتیاں نہیں بدلیں، جتنے پاکستان میں وزیراعظم بدل گئے ہیں“ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ حسین شہید سہروردی انہی دنوں مشرق وسطیٰ گئے اور قاہرہ ایئر پورٹ پر ان سے پنڈت نہرو کے بیان کے حوالے سے سوال کر لیا گیا، حسین شہید سہروردی نے جواب دیا ”پنڈت جی! ٹھیک کہتے ہوں گے، فرق اتنا ہے کہ بھارت میں آمریت اور پاکستان میں جمہوریت ہے بھارت میں پنڈت نہرو آمر بن کر بیٹھے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کی وجہ سے جس کی اکثریت نہ رہے وہ وزیراعظم نہیں رہتا“۔

یہاں تو مسئلہ ہی دوسرا ہے یوسف رضا گیلانی خاموش ہو گئے حتیٰ کہ وہ اپنے حلقہ انتخاب میں بھی نہیں گئے جہاں ان کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن ہو رہا ہے اور ان کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں، شاید الیکشن کمشن کے سابق سیکرٹری ملک شمشاد کا یہ تجزیہ درست ہے کہ گیلانی اب پانچ سال تک سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لے سکتے۔ کہتے ہیں گیلانی چلے گئے کسی نے کلمہ خیر نہیں کہا ہمارے خیال میں تو وہ خود کہہ گئے کہ لوگ آنے والے کو دیکھتے ہیں جانے والے کو کوئی نہیں پوچھتا، لیکن ایسا بھی نہیں ان کی جماعت نے تو ان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ہم تو بہرحال یوسف رضا گیلانی کے ”ملن ورتن“ کو بہتر ہی کہیں گے کہ وہ ملتے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے پیشہ صحافت سے انہوں نے بنا کر رکھنے کی بھرپور کوشش کی کہ وہ خود پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے جرنلزم ہیں اور وہ فخریہ بیان بھی کرتے تھے، ہمیں یاد ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد وہ ہمارے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی سے ملنے آئے تو ہم سے بھی ملاقات ہوئی یہ دیرینہ تعلقات کی تجدید بھی تھی وہ سنجیدہ اور ادب سے بات کرتے رہے تھے یہ الگ بات ہے کہ ان کے دور وزارت عظمیٰ میں ایک مرتبہ بدین ساتھ جانے کا اتفاق ہوا اور دوسری ملاقات لاہور پریس کلب کے وفد کے ساتھ ہوئی وہ ہر مرتبہ بلانے اور بات کرنے کا کہہ کر بھی بلا نہ سکے اور ہم جا نہ سکے۔ بہرحال ہم ان کے ساتھ سپیکر شپ کے دور سے اب تک کے تعلقات سے انکار نہیں کرتے یہ بھی داد دیتے ہیں کہ انہوں پارٹی کی ہدایت کے مطابق عمل کیا اور اپنی کرسی ہی نہیں سیاست بھی قربان کر دی۔ باقی رہے افسانے اور باتیں تو وہ اس دور میں بھی ہو رہی تھیں جب وہ وزیراعظم تھے۔ بہرحال ان کے اس وقت کے ”دوست اور قریبی“ صحافی بھائیوں کو اب بدلہ تو چکانا ہی چاہئے۔

ہمارے خیال میں پاکستان کو جو مسائل درپیش ہیں وہ محاذ آرائی کے باعث مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ ہی قابو نہیں آ رہی، ہم تو اسے سازش ہی قرار دیں گے کہ اندر سے ہو رہی ہے، اتنے وسائل مہیا ہونے اور ڈیموں میں پانی کے ذخائر بڑھنے کے بعد بھی لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں ہو رہی، نئے وزیراعظم خوش ہیں جیسے پہلے والے تھے کہ اب جو کہتے ہیں وہ لیڈ بھی بن جاتی ہے، ہم نے گزارش کی تھی کہ یہ کیسی حکومت ہے جو رسول خان محسود کے سامنے بے بس ہے اور اس کی تصدیق چودھری احمد مختار کے اس بیان سے ہو جاتی ہے کہ اگر رسول خان محسود کے حوالے سے ان (چودھری) کے حکم پر عمل نہ ہوا تو وہ وزارت چھوڑ دیں گے۔ محترم حکم پر ابھی تو عمل نہیں ہوا نوٹیفکیشن کا انتظار ہے کہ چودھری احمد مختار نے تو ان کو نااہلی کی بناءپر معطل کیا تھا۔

ہم نے گزارشات کی ہیں تو پھر یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ ہی سے سبق حاصل کر لیں۔ وزیراعظم نے پھر مذاکرات کی بات کی ہے مسلم لیگ (ن) نے احتجاج ختم کر دیا ہے۔ کیا حرج ہے کہ سب حضرات (سٹیک ہولڈر) مل بیٹھیں۔ چیف الیکشن کمشنر اور نگران وزیراعظم ابھی سے چن لیں اور یہ بھی طے کر لیں کہ انتخابات کب ہوں گے، اس میں سب کا بھلا ہے اور ہر قسم کے ایڈونچر سے بچا جا سکتا ہے۔ محاذ آرائی اور ٹانگ کھینچ سیاست نے تو کبھی بھلا کیا ہی نہیں، جوڈیشل ایکٹو ازم سے بھی مسائل حل نہیں ہوں گے الجھیں گے، ملک کو استحکام کی ضرورت ہے اور یہ ملک اور عوام کی بہتری کے لئے لازم ہے جو ہمارے راہنماو¿ں کی بصیرت سے ہی ممکن ہے۔ ٭

مزید :

کالم -