پُتلی تماشا

پُتلی تماشا

  



پپٹ شو پتلی تماشا ہے اور اس میں کچھ جانوروں اورپرندوںکے تماشے دکھاہیں۔

ہمارے صدر صاحب اور وزیر ِ اعظم.... (یہ صاحب جو بھی ہوں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے)....اس شو کے فل ٹائم شرکا میں شامل ہیں۔ اب یہ شو سپریم کورٹ میں بھی لگے گا اور یہاں قانون ، جو ویسے تو اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں نابینا ہے، انصاف کا ترازو لرزتے ہاتھوں میں تھام کر دھڑکتے دل کے ساتھ کٹہرے میں دیکھے گا تو اپنے ہی عظیم المرتبت چیف کی شہرت کھڑی نظر آئے گی۔پس چہ باید کرد ؟اس پتھرکے دور میں شیش محل کیوں بنا لیا؟تاریخ خود کو دہراتی ہے اور اکثر یہ چکر چکرا دینے والا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے فرح ڈوگر کے رزلٹ کارڈ کا معاملہ تھا۔ اس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس میں ڈوگر صاحب کے کہنے پر کچھ نمبروں کا اضافہ کیا گیا تھا تاکہ بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلہ مل سکے۔ اس مرتبہ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کے صاحبزادے مونٹی کارلو میں پائے گئے، جبکہ وہ حقیر سی رقم ، یہی کچھ 12,000 امریکی ڈالر ہارچکے تھے۔صاحب ِ ذوق افراد کی قیام گاہ تو اچھی ہی ہونی چاہیے ۔ چنانچہ ارسلان صاحب کبھی تو لندن کے پارک لین کے اپارٹمنٹ میں دکھائی دیئے یا اپنے قریبی عزیز و اقارب کے ہمراہ لندن کے میرٹ ہوٹل میں قیام پذیر ہوئے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ” وہ پاکستان کے کسی جج کے بیٹے نہیں،بلکہ کسی عرب شہزادے کے فرزند ِ ارجمند دکھائی دیتے تھے “۔

سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صاحب واقعی یہ سمجھتے تھے کہ ان کا بیٹا اتنا صاحب ِ ثروت ہے کہ وہ اپنے عزیز و اقارب کو لندن کے تفریحی دوروں پر لے جا سکتا ہے ؟ پاکستان ہیومین واچ کے ڈائریکٹر علی دایان حسن نے ”نیویارک ٹائمز“ کو بتایا ارسلان چودھری کے خلاف ایسا کوئی ثبوت نہیںہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ وہ کسی غلط کام میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان پر الزامات کچھ مشکوک ساکھ کے مالک صحافی حضرات کی طرف سے عائد کئے گئے ہیں“۔ کیا علی حسن صاحب بتا سکتے ہیں کہ یہ ”مشکوک شہرت “ کے حامل صحافی کون ہیں ؟ تاہم اس سوال کا جواب تلاش کرنا زیادہ مشکل نہیںہے ۔ ملک ریاض صاحب کے دفتر سے جاری ہونے والی ایک فہرست کے مطابق بہت سے صحافی اور اینکر پرسنز کو رشوت دی جاتی ہے ۔ انٹر نیٹ پر یہ فہرست دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ صحافی جن کو ارسلان کیس میں گواہی دینے کے لئے سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا ، ان پر الزام ہے کہ اُن کو پراپرٹی کنگ نے اڑھائی کروڑ روپے اور اسلام آباد میں پانچ کنال کا ایک پلاٹ دیا تھا۔ اگر یہ الزام درست ہے کہ تو پھر اس صحافی نے اپنے ”کرم فرما “ کے خلاف گواہی کیوںدی کہ ” خفیہ ادارے ملک ریاض حسین کو استعمال کر سکتے ہیں تاکہ چیف صاحب کو گم شدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے کیس کی تفتیش کرنے سے باز رکھا جائے“۔

مزید تفریح کا خیال ہے توایک اور تماشے کی بات کر لیتے ہیں۔ یوٹیوب پر مبشر لقمان اور مہر بخاری کے درمیان ملک ریاض سے انٹرویو کے وقفے کے دوران کی جانے والی ”آف دی ریکارڈ گفتگو “ تو اکثر نے سن لی ہے کہ کس طرح کسی نے ان تینوںکے درمیان ”وقفے “ میںہونے والی گفتگو کو ریکارڈ کیا ۔ اس دوران سابقہ وزیر ِاعظم کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کی فون کال بھی آئی اور وہ ملک ریاض صاحب کی ”کامیابی “ کے لئے دعاگو تھے....(دیکھا جا سکتا ہے کہ دعاکس سرعت کے ساتھ شرف ِ قبولیت سے ہمکنار ہوئی).... ملک صاحب بڑے صبر کے ساتھ بیٹھے دونوں اینکر پرسنز کی باتیں سن رہے تھے کہ کون زیادہ سوالات پوچھے گا!!!

ہمارے نام نہاد صحافیوںکو ملنے والی سزا کی تائید کی جاسکتی ہے ، کیونکہ وہ ڈھیل (یعنی وقفوں ) سے فائد ہ اٹھا کر خود کو بادشاہ گر سمجھنے لگے تھے۔ معمولی سطح سے آغاز کرنے والے بہت سے صحافی دیکھتے ہی دیکھتے شہزادوںجیسی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان میںسے کچھ کی نیویارک جیسے شہروں میں جائیدادیں بھی ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا ؟ ان کو پیسے کون ادا کرتا ہے ؟ پچھلے سال ایک سینئر ایڈیٹر نے تجویز پیش کی تھی کہ صحافی برادری کو بھی اپنے اثاثے ظاہر کرنے چاہئیں۔ یہ ایک اچھی تجویز تھی، مگر چار یا پانچ صحافیوںکے علاوہ سب نے اسے احمقانہ خیال قرار دیا۔ کبھی سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ سب سے پہلے ایک ٹی وی اینکر ایک چنگاری چھوڑتا ہے جو بعد میں آگ لگا دیتی ہے۔

2007 ءمیں ایک وکیل اور ایک ٹی وی کے اینکر مسٹر نعیم بخاری نے چیف جسٹس صاحب کے نام ایک کھلے خط میں ذکر کیا تھا کہ کس طرح مسٹر ارسلان نے انگریزی کے پرچے میں 16/100 نمبر لینے کے باوجود سول سروس کا امتحان پاس کر لیا۔ اس کے بعد کسی مرسڈیز کار کا ذکر بھی تھا آپ کو یاد ہوگاراتوں رات بخاری صاحب کو ناپسندیدہ شخصیت اورپرویز مشرف کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ ہم سب صحافی ان کے پیچھے پڑ گئے۔ بعض نے تو ان کی ذات پر نہایت رکیک حملے بھی کئے، یہاں تک کہ وہ لندن میںکہیں روپوش ہوگئے۔ آج نعیم بخاری ، بلکہ جنرل پرویز مشرف بھی، نہایت طمانیت سے خود کو درست قرار دے رہے ہوںگے۔ اُس وقت چیف صاحب پر الزامات کی نوعیت ایسی نہیں تھی، جیسی آج ہے، تاہم چیف صاحب کی عوام میں زبردست پذیرائی ہے اور ان کو آئین کی حرمت کا رکھوالا سمجھا جاتا ہے۔ امید ہے کہ یہ لگا ہوا دھبہ بھی اُن کے دامن سے دور ہوجائے گا۔

تاہم کچھ باتیں پریشان کن ضرور ہیں۔ مَیں حیران تھی کہ جب ایک تاریخی جدوجہد کے بعد 2009ءمیں چیف صاحب کو بحال کرایا گیا تو اس جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے بہت سے نامی گرامی وکلا کا رویہ کیوں تبدیل ہو گیا؟ وہ چیف صاحب کے نقاد کیوںبن گئے؟ ٹی وی کے پروگرام ظاہر کرتے ہیںکہ چیف صاحب کے پُرجوش حامی جیسا کہ علی احمد کرد، جسٹس (ر) طارق محمود، منیر ملک، لطیف آفریدی، اطہر من اﷲ اور دوسرے بہت سے وکلاءچیف صاحب سے بد دل ہو چکے ہیں۔ اس جدوجہد کے سب سے نمایاں کردار بیرسٹر اعتزاز احسن، جن کو پی پی پی نے نکال دیا تھا، اب زرداری اور گیلانی کیمپ کی روح ِ رواں ہیں، جبکہ امکان (یا شبہ ) ہے کہ مستقبل کے وزیر ِ اعظم وہی ہوں گے۔اگر کوئی صاحب صدر زرداری صاحب، گیلانی صاحب اور چیف جسٹس صاحب کے دل کے سینے کے رازوںکوجانتا ہے تو وہ اعتزاز احسن ہی ہیں۔ وہ ایک منفرد سنگم پر ہیں کہ وہ اس ملک کے تینوں وی وی آئی پیز کے رازداں ہیں۔ ان کی ایک انگشت نمائی بہت سے راز فا ش کر سکتی ہے۔

مَیںآپ کے لئے ایک سوچ چھوڑرہی ہوں ہمارے آقا اور لارڈز اپنی اولاد کو اجازت کیوںدیتے ہیںکہ وہ ناجائز اختیارات، دولت اور اتھارٹی کو اس طرح استعمال کریں، جیسا کہ یہ ان کا پیدائشی حق ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ایوب خان، جنرل ضیاءالحق، نواز شریف، پرویز مشرف، یوسف رضا گیلانی، جسٹس ڈوگر اور موجودہ چیف صاحب اور بہت سے دوسروں کا نام لیا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ، جب وہ اقتدار میں تھیں، نے اپنے شوہر کو من مانی کرنے کی آزادی دی ہوئی تھی۔ آخری بات، ہمارا پیار ا وطن ایک ”پاک “ دھرتی ہے۔ اس میں جرائم ثابت نہیںہوتے ہیں۔ پھر ہم سپریم کورٹ کے گرد یہ تماشے کیوں لگائے رکھتے ہیں ؟    ٭

ئے جاتے ہیں۔ آپ نے یہ نہیں دیکھا؟ کوئی بات نہیں، اپنے ملک کے بعض سیاست دانوں ، ٹی وی اینکرز، صحافیوں، ججوں، جنرلوں، سفارت کاروںاور کاروباری افراد کی حرکات دیکھ لیں، اور ہاں ان اصحاب ِ ذی وقار کی اولاد پر بھی نگاہ رکھیں، کیونکہ یہ ہونہار نوجوان آج کل اس شو ، جو کہ ہمارے قومی تھیٹر میں چل رہا ہے، خاصا رش لے رہے

مزید : کالم