”ثبوت لاﺅ“ کا ڈرامہ کب تک چلے گا!

”ثبوت لاﺅ“ کا ڈرامہ کب تک چلے گا!

  

مرشد سائیں سید یوسف رضا گیلانی تو ایک عدالتی فیصلے کی وجہ سے نا اہلیت کی منزل کو پہنچ گئے ہیں۔ اس نا اہلیت میں وہ اپنے لئے فخر کا عنصر بھی تلاش کر چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹی اور بقول ان کے آئین کے ساتھ وفا داری کا مظاہرہ کیا، تاہم ان کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کو ایک سخت مرحلہ در پیش ہے، وہ ایک سنگین مقدمے میں اینٹی نارکوٹکس کو مطلوب ہیں اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں۔ یہ وہی مقدمہ ہے جس میں مطلوب ہونے کی وجہ سے مخدوم شہاب الدین وزارت عظمیٰ سے عین آخری لمحوں میں محروم رہ گئے۔ حسب معمول اس مقدمے کو بھی انتقامی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں تو سنتے تھے کہ حکومت اپنے سیاسی مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بناتی ہے، مگر اس دور پُرخطر میں یہ مناظر بھی دیکھنے کو ملے کہ خود حکومت میں رہ کر لوگوں نے انتقامی کارروائی کا واویلا کیا۔

غور کیا جائے تو پاکستان میں اس قسم کی انتقامی کارروائیوں پر واویلا مچانے کی روایت بہت پرانی ہے۔ یہ کھیل بھی امراءکے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہے، تاہم یہ میچ بغیر کسی نتیجے کے کل بھی ”ڈرا“ ہوتا رہا ہے اور آج بھی یقینا اس کا نتیجہ یہی نکلے گا۔ عوام اس کھیل کو اگرچہ بڑی اچھی طرح سمجھ چکے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اس بات کی ابھی تک سمجھ نہیں آسکی کہ قانون جس بڑے آدمی پر بھی ہاتھ ڈالتا ہے، وہ انتقامی کارروائی کا شور مچا کر اپنے آپ کو معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کرتا ہے، حتیٰ کہ رنگے ہاتھوں پکڑے جانے اور قومی خزانے کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے بھی اگر کبھی بھولے سے قانون کی گرفت میں آ جائیں تو بڑی ڈھٹائی سے ”انتقامی کارروائی“ کے دو الفاظ بول کر قانون کا منہ چڑانے لگتے ہیں۔ کرپشن میں گوڈے گوڈے تک ڈوبے ہوئے سیاستدانوں اور اعلیٰ افسروں کا تکیہ کلام بھی یہی ہے اور عوام یہ تماشا برسہابرس سے دیکھ رہے ہیں۔ جس طرح عوام کو بہت سی دوسری باتوں کا جواب نہیں ملتا، اسی طرح وہ یہ حقیقت بھی نہیں جان پائے کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد ماضی کے حکمرانوں پر جو مقدمے بنائے جاتے ہیں، وہ انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہوتے ہیں یا واقعی انہوں نے قانون کو توڑا اور خزانے کو بے دردی سے لوٹا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے قانون حرکت میں آتا ہے۔

ایسے سوالات ہر پاکستانی کے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ کل شیدا ریڑھی والا بھی یہی پوچھ رہا تھا کہ ہر با اثر شخص اپنے خلاف قانونی کارروائی کو انتقامی کارروائی کیوں کہتا ہے؟....پھر اس نے خود ہی یہ پتے کی بات کی کہ آج تک، چونکہ کسی بااثر شخص یا ماضی کے حکمران کو کرپشن پر سزا نہیں ہوئی، اس لئے ہر کوئی انتقامی کارروائی کی آڑ لے کر اپنی ساکھ بچانا چاہتا ہے۔ مَیں شیدے ریڑھی والے کی سیاسی بصیرت کا قائل ہوں اور اس کی باتیں اکثر مجھے لا جواب کر دیتی ہیں۔ اس کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ ہمارے ہاں احتساب کے نام پر ہمیشہ قانون سے زیادہ میڈیا ٹرائل پر توجہ دی گئی ہے، جس کی وجہ سے ملزموں کو سزا نہیں ہوتی اور ان کا یہ موقف درست ثابت ہو جاتا ہے کہ انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انتقامی کارروائی کے تصور کو عام کرنے میں ماضی و حال کی حکومتوں کا یہ رویہ بھی نہایت اہم ثابت ہوا ہے کہ جس کے تحت ہر جانے والی حکومت کے دور میں درج کئے جانے والے مقدمات واپس لے لئے جاتے ہیں۔ جب قانون کو کام نہ کرنے دیا جائے اور اسے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا جانے لگے تو فضا اسی طرح غبار آلود ہو جاتی ہے، جس طرح کہ آج ہے اور قانون کے ہر اقدام کو سیاسی انتقام کا نام دے کر اسے مبہم اور بے اعتبار کر دیا جاتا ہے۔

کل ہی یہ خبر چھپی ہے کہ راجن پور کی ایک ماں نے اپنے دو بچوں سمیت مہنگائی اور بے روز گاری کے ہاتھوں تنگ آکر خود کشی کر لی۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ شوہر کی بے روز گاری کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے سے قاصر تھی۔ وہ اپنے بچوں کی بھوک کو مزید برداشت نہ کر سکی اور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے بچوں سمیت خود کو اس زندگی سے چھٹکارہ دلا گئی، جو ایک عذاب بن چکی تھی۔ مراعات یافتہ لوگوں کے لئے تو بڑا آسان ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی ہر کارروائی کو انتقام کا نام دے کر اپنی جان چھڑا لیں، مگر سوال یہ ہے کہ اس ماں جیسے مظلوم پاکستانیوں سے انتقام کون لے رہا ہے۔ آخر انہیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ پھر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ماضی و حال کے وہ تمام سیاستدان جو کرپشن کیسوں میں قانون کے ہاتھ آئے اور بچ کر نکل گئے، اگر بے گناہ تھے تو پھر وہ کون ہے جو ملکی وسائل کو پاﺅں تلے روند کر آگے بڑھ گیا اور پیچھے خود کشی کرنے والے پاکستانی رہ گئے، جن کے حصے میں بھوک اور غربت کا عذاب آیا، جس کی نذر ہو کر وہ اپنی زندگیاں اپنے ہاتھوں سے فنا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ کس سے کہیں کہ انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے لواحقین اپنے دکھوں اور تکلیفوں کا انتقام لینے کے لئے کس کا گریبان پکڑیں؟ فی الوقت تو اس سوال کا جواب دینا ممکن نہیں، لیکن اگر اقتدار کی غلام گردشوں میں گھومنے والوں نے انتقامی کارروائی کا پرانا کھیل اسی طرح جاری رکھا تو کچھ بعید نہیں کہ ایسے مظلوم پاکستانی حقیقی انتقام کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور انتقام کی کاغذی کارروائیاں دھری کی دھری رہ جائیں۔ اس کا ہلکا سا ٹریلر حالیہ دنوں میں نظر آچکا ہے، جب لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام نے اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے گھروں کو اپنے غم و غصے کا نشانہ بنایا۔

وطن عزیز کو جہاں اور بہت سے اعزازات حاصل ہیں، وہاں ایک اعزاز یہ بھی تمغہ بن کر اس کے سینے پر سجا ہوا ہے کہ یہاں آج تک کوئی ایسا قانون، کوئی ایسا طریقہ کار اور کوئی ایسا فارمولا وضع نہیں کیا جا سکا جو کرپشن کی گندگی میں سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر سکے۔ یہاں بڑے سے بڑا کرپٹ اور نامی گرامی لٹیرا بھی ”ثبوت لاﺅ، ثبوت لاﺅ“ کی گردان کرتا نظر آتا ہے اور ثبوت ہیں کہ باوجود لا تعداد ایجنسیوں اور ان گنت سرکاری اداروں کے ملتے ہی نہیں۔ یہاں ایسی بڑھکیں مارنے والوں کی کمی نہیں، جو کہتے ہیں کہ ان کے خلاف کرپشن کا ایک الزام بھی ثابت ہو جائے، تو وہ پھانسی چڑھنے کو تیار ہیں۔ ذرے سے آفتاب بننے والے، جھونپڑیوں سے محلات تک پہنچنے والے اور سائیکل سے لینڈ کروزر کو اپنی سواری بنانے والے، یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے یہ سارا ”ڈرامہ“ کیسے کیا ہے۔ وہ کون سا الہٰ دین کا چراغ ہے کہ جسے رگڑ کر وہ ککھ سے ارب پتی بن گئے ہیں، وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ جسے مسلتے ہی، دنیا ان کے قدموں میں آگرتی ہے۔ ان کی زندگی بھر کے جائز الاﺅنسوں، معاوضوں، اعزازیوں اور آمدنی کو جمع کیا جائے، تو ملا جلا کے چند لاکھ نہیں تو چند کروڑ ہی بنیں گے، لیکن ان کی زندگی اور رہن سہن پر نظر ڈالیں، تو وہ اندر باہر سے نواب آف اودھ ،بلکہ راجہ اندر دکھائی دیں گے۔ یہ اتنا واضح ثبوت ہے کہ اس کے بعد کسی ثبوت کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی، مگر اس ثبوت کو اس لئے قابل تعظیم نہیں سمجھا جاتا کہ ایسا کرنے سے حمام میں موجود تمام ننگے بے نقاب ہو جائیں گے۔ کتنی سفاکی ہے کہ قوم کو لوٹنے والے ثبوت لانے کا بار بھی قوم پر ہی ڈالتے ہیں اور ثبوت خود اپنے ہاتھوں سے مٹا کر خود ہی اپنی پارسائی کا اعلان کر دیتے ہیں۔

ثبوت لانے کی ذمہ داری قوم کے کاندھوں پر ڈالنے کی روایت موجود نہ ہوتی تو سیاسی رہنماﺅں کو اپنی پارسائی ثابت کرنے کے لئے وہ آسانیاں نہ ملتیں جو آج میسر ہیں۔ پھر سب کچھ قانون اور ضابطے کی کڑاہی سے نتھر کر سامنے آجاتا اور وہ لوگ اپنی بے گناہی اور معصومیت کا ڈھنڈورا نہ پیٹ پاتے، جن کی انگلیاں ساری عمر گھی اور سر کڑاہی میں رہے ہیں....بھلا ہو سپریم کورٹ کا کہ جس کے طفیل لٹیروں کو تھوڑا بہت تو احساس ہوا ہے کہ اس ملک خداداد میں کوئی قانون بھی موجود ہے وگرنہ تو یہاں وہ لوٹ مچی ہوئی تھی کہ عوام کے کپڑے بھی اتار لئے جاتے۔

مزید :

کالم -