دستر خوان کی تشہیر اورپلاٹوں کی رقم کا حساب

دستر خوان کی تشہیر اورپلاٹوں کی رقم کا حساب

  

سیلانی انٹرنیشنل ٹرسٹ کے نام سے اس ملک میں عوام کی بہت مختصر تعداد واقف ہو گی۔ سیلانی جس پیمانے پر کام کرتا ہے، اس کے پیش نظر اسے بڑی تشہیر کرنی چاہئے یا ملنی چا ہئے، لیکن سیلانی والے اپنی تشہیر پر خرچ آنے والی ممکنہ رقم لوگوں کے لئے کراچی اور حیدرآباد میں دستر خوان سجانے پر ہی خرچ کر دیتے ہیں ۔ سیلانی کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف کراچی اور حیدرآباد میں روزانہ ستر ہزار لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں ۔ جی ہاں ستر ہزار تو وہ لوگ ہیں جو کراچی اور حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں سیلانی کے ٹھکانے پر جا کر کھانا کھاتے ہیں ۔ وہ تعداد الگ ہے جو اپنے گھروں کو ٹفن میں کھانا لے جاتے ہیں ۔ نادار لوگوں کی کفالت کرنے، بیواﺅں کے گھر کے اخراجات چلانے، یتیم بچوں کی پرورش کرنے اور اسی طرح کے دیگر کاموں پر خرچ کرنا بہتر تصور کرتا ہے۔ سیلانی نے تو اب تک تشہیر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ راشد آباد کے نام سے بھی لوگ واقف نہیں ہیں ۔ ائیر کموڈور ریٹائرڈ شبیر علی خان نے فرد واحد کے طور پر ایک منصوبہ بنایا ۔ اس منصوبے سے جب انہوں نے اپنے دوست ریلوے کے سابق آپریشن نگران اقبال صمد کو آگاہ کیا تو اقبال صاحب خود بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس منصوبے کو دیوانے کی بڑ قرار دیا اور شبیر صاحب سے پوچھا کہ اس کے لئے رقم کہاں سے آئے گی؟ بقول اقبا ل صاحب جواب میں شبیر صاحب نے کہا کہ اللہ دے گا۔ آج دیکھا جائے تو اللہ نے منصوبے کو اس قدر پذیرائی بخشی کہ حیدرآباد میر پور خاص والی سڑک پر قائم راشد آباد ایک ایجو کیشن سٹی بن گیا ہے، جہاں سکولوں کی قطار ہے ۔ ایک سکول ایسا ہے، جہاں بچے کسی خرچ کے بغیر تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ایک سکول اسی چار دیواری میں دی سیٹزنز فاﺅنڈیشن( ٹی ایف سی) نے قائم کیا ہے، جس کی فیس صرف دو سو روپے ماہانہ اور جو بچے فیس نہیں دے سکتے، انہیں رعایت حاصل ہے۔ راشد آباد میں ایسے ہسپتال قائم ہیں اور ہو رہے ہیں، جن میں خلق خدا علاج کی سہولت حاصل کرتی ہے۔راشد آباد منصوبہ چلانے والوں نے کبھی تشہیر کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی۔

اسی طرح عبدالستار ایدھی کے ادارے کی خدمات ہیں ۔ ایدھی ایمبولنس ایک فون کال پر ضروت مند کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے اور مریض کو ہسپتال پہنچانے تک کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ۔ جب مریض کو ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے تو ورثاءان سے معاوضہ معلوم کریں تو اتنی رقم بتائی جاتی ہے کہ معلوم کرنے والے کو اپنے کانوں پر اعتبار نہیں آتا۔ایدھی نے تشہیر سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے۔ ریگستانی ضلع تھرپارکر کے اسلام کوٹ میں نینو رام کا آشرم ہے، جہاں انسانوں کے ساتھ ساتھ چرند اور پرند کے لئے ہر وقت دانہ پانی موجود ہوتا ہے۔ ضرورت مند انسان تو واقف ہی ہیں کہ ریگستان میں کھانا اگر کہیں بلا معاوضہ میسر ہو سکتا ہے تو وہ نینو رام کا آشرم ہے۔آشرم کے خدمت گار کسی بھی وقت گرم روٹی پکا کر کھانا پیش کرتے ہیں ۔ صبح صادق بلا شبہ ہزاروں پرندے نہ جانے کہاں کہاں سے اڑ کر آتے ہیں اور ہزاروں من سجایا گیا دانہ چگ کر فرش صاف کر جاتے ہیں۔ اسی طرح جب مویشی آتے ہیں تو باقاعدہ اپنی آواز لگا کر کھاناطلب کرتے ہیں ۔ آشرم چلانے والوں نے کبھی بھی کہیں بھی اشتہار نہیں دیا اور نہ ہی کسی کے سامنے فریاد کی ہے۔ آشرم کے نگران لالہ خوشحال داس کا کہنا کہ کہ سب کچھ مالک کر دیتا ہے، پھر ہمیں مانگنے کی کیا ضرورت۔

مَیں نے یہ ساری کتھا مختلف ٹی وی چینلوں پرایک ادارے کی جانب سے چلائے جانے والے پروگراموں کو دیکھ کر لکھی ہے۔ بحریہ ٹاﺅن دسترخوان، بحریہ ٹاﺅن اولڈ ایج ہوم، اور دیگر فلاحی منصوبوں کی تشہیر۔ یہ تشہیر ایک اسے وقت میں کی جارہی ہے، جب بحریہ ٹاﺅن کے مالک ملک ریاض کو سپریم کورٹ میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا ہے۔ اخباری اداروں نے ایک زمانے میں جس قسم کی اشتہارات بازی میں شرکت کی، اس کے نتیجے میں سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں لوگ اپنی رقوم سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بھٹو مرحوم کے دور میں فنانس کمپنیوں کا ایک بہت بڑا ریکٹ سامنے آیا تھا۔ ضرورت مند لوگوں کو انہی اشتہارات کے ذریعے آمادہ کیا گیا کہ وہ اپنی رقم فنانس کمپنی کو دیں اور اس پرہر ماہ گھر بیٹھے منافع حاصل کریں ۔ وہ ریکٹ اتنا عروج پر پہنچا کہ شہر شہر اس کے چرچے تھے۔ صمد دادا بھائی کے نام کووہ لوگ آج بھی یاد کرکے ہاتھ ملتے ہوں گے، جن کی رقم اس شخص نے لوٹ کھائی صرف اخباری اشتہارات کی بنیاد پر ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پنجاب میں اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ریکٹ کوآپرٹیو کا شروع کیا گیا ۔ پری پے منٹ سکیموں کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کی رقوم حاصل کی گئیں ۔ لوگ اخبارات میں شائع کئے جانے والے اشتہارات سے مارے گئے۔

اس ملک میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد آج بھی اخبارات میں شائع ہونے والی خبر یا اشتہار، ٹیلی و ژن پر چلنے والی فلم اور یڈیو سے نشر ہونے والے الفاظ پر یقین کرتے ہوئی عمل کر گزرتی ہے۔ جیسا آج کل ایف ایم ریڈیو پر حکیم صاحب کے اشتہارات کا طوفان برپا ہے اور لوگ اپنے اثاثے فروخت کرکے حکیم صاحب سے علاج کرانے پہنچ جاتے ہیں ۔ انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ حکیم صاحب دھوکہ دے رہے ہیں ۔ اخبار میں کوئی اشتہار شائع ہو جاتا ہے تو وہ لوگ اسے حکومت کا فیصلہ تصور کر لیتے ہیں ۔ اخبارات میں جو اشتہارات شائع ہوتے ہیں، اس کے جواب میں سادہ لوح لوگ اپنی رقمیں ایسے اداروں میں پھنسادیتے ہیں، جہاں سے رقم کی واپسی ہی ممکن نہیں ہوتی اوررقم کے بدلے انہیں جن فوائد کی توقع ہوتی ہے، وہ بھی حاصل نہیں ہو پاتے ۔ بڑے شہروں میں رہائش کے لئے فلیٹ، کارروبار کے لئے دوکان، چھوٹے شہروں میں ہاﺅسنگ سکیمیں، وغیرہ وغیرہ ۔ ان لوگوں کا طریقہءواردات بڑا عجیب ہے۔ ان کے اشتہار دینے والے دن کی روشنی میں لوگوں کی آنکھوں میں مرچ ڈال کر ان کی جیب سے رقم نکال لیتے ہیں اور فرار ہو جاتے ہیں ۔ حکومت کے اداروں پر تو یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہی ہے کہ وہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائیں اور عام لوگوں کو اس ظلم سے بچائیں، لیکن کیا ذرائع ابلاغ بری الذمہ قرار دئے جاسکتے ہیں ؟

خود بحریہ ٹاﺅن کے معاملے کا جائزہ لیں تو فائل فروخت کرنے کا سلسلہ اخبار کے اشتہارات کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ فائل خرید کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں اور بحریہ ٹاﺅن دستر خوان سجا رہا ہے۔

بات ہو رہی تھی بحریہ ٹاو¿ن کے اشتہارات کی بھر مار کی، اس وقت جب ملک ریاض کو ملک کی سب سے بڑی عدالت میں مقدمات کا سامنا ہے، کیا ا س تشہیری مہم کا ایک مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں میں اپنے لئے ہمدردی پیدا کی جائے تاکہ کسی ایسے فیصلے کے بعد، جو ان کے خلاف ہو، لوگ یہ کہہ رہے ہوں کہ سپریم کورٹ نے ایک ایسے شخص کے خلاف کارروائی کردی جو غریب عوام کا ہمدرد تھا، جو غریب عوام کے لئے دستر خوان سجاتا تھا۔ کیا اس اشتہاری مہم میں لوگوں کو گمراہ کرنے کی ذمہ داری اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو پر عائد نہیں ہوتی....ملک ریاض کا دستر خوان بے شک پھلے پھولے اور ذرائع ابلاغ بھی ان کے اشتہارات سے پھلیں پھولیں ۔

سندھ میں لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ جام کمبھو خان ( جام صادق علی خان کے والد مرحوم) کا دستر خوان اتنا وسیع ہوتا تھا کہ ہر آنے والا فیض یاب ہوتا تھا۔ آج بھی جب کوئی شخص زیادہ اخراجات کرتا ہے تو کہا جاتا کہ کیا تم جام کامبھو خان ہو۔ ان کی سخاوت کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ عوام کی فلاح کے لئے کئے جانے والے کاموں پر ان کے اخراجات کا کوئی حساب نہیں تھا۔ میر پور خاص کے پیر سید غلام رسول شاہ جیلانی کا دستر خوان بھی وسیع قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے بڑے بیٹے سید آفتاب شاہ جیلانی یوسف رضا گیلانی حکومت میں وزیر کھیل تھے۔ سندھ کے سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کے بڑے بھائی مرحوم ارباب امیر حسن اپنے گھر آنے والے لوگوں میں اس لئے شہرت رکھتے تھے کہ ریگستانی علاقوں سے ان کے پاس آنے والے ہر شخص کو روٹی ملتی تھی، رلی ملتی تھی....رلی ملنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کے وقت آرام کے لئے چارپائی اور بستر فراہم کیا جاتا تھا اور واپسی پر کرایہ کے لئے رقم دی جاتی تھی۔ اسی لئے ان کی موت پر بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ اب عام لوگوں کو روٹی ، رلی اور رقم کون دے گا؟....مرحوم چودھری ظہور الٰہی کے بارے میں بھی جاننے والے بتاتے ہیں کہ مہمان نوازی میں ان کا جواب نہیں تھا۔ ان لوگوں میں سے کسی نے بھی اپنے دستر خوان کی تشہیر نہیں کی۔ کیا ملک ریاض ان لوگوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟مقابلہ کو کجا، ملک ریاض ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتے۔

بحریہ ٹاو¿ن کے مالکان اس معاملے کو تو پہلے واضح کریں کہ ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی نے جو ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کنال زمین ان کے حوالے کی ، اس کا کیا بنا؟ پھر ایک صبح بحریہ ٹاﺅن کے اکا ﺅنٹ میں باسٹھ ارب روپے منتقل کر دئے گئے۔یہ رقم ایک لاکھ دس ہزار سویلین اور اکتالیس ہزار حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی حضرات کی تھی جنہوں نے یہ رقم ڈی ایچ اے کی ہاﺅسنگ سکیموں کے لئے دی تھی۔ یہ رقم ڈی ایچ اے کے پاس امانت تھی۔ ڈی ایچ اے کو لوگوں نے زمین پر پلاٹ تیار کرنے کے لئے رقم فراہم کی تھی۔ یہ الزامات کوئی ایرا غیرا نہیں لگا رہا ، بلکہ ڈی ایچ اے میں کسی وقت کے ڈائریکٹر اربن پلاننگ کرنل رٹائرڈ طارق کمال لگا رہے ہیں ۔ ان کی درخواستیں تمام دفاتر کے ساتھ ساتھ مختلف عدالتوں میں محفوظ ہیں ۔لوگوں کی یہ رقم ڈی ایچ اے کے نگرانوں کی تو نہیں تھی کہ اس کا حساب نہیں لیاجائے۔ کیا بحریہ ٹاﺅن دسترخوان کے اشتہارات ان لوگوں کی داد رسی کر سکیں گے، جن کی رقم پھنس گئی ہے۔ دستر خوان کا اشتہار دینے سے حساب برابر نہیں ہوگا۔ رقم دینے والوں کو، رقم حاصل کرنے والوں کو اور عوام کو گمراہ کرنے والے اشتہارات شائع اور نشر کرنے والوں کو بھی حساب دینا ہوگا ۔ ہمارا ایمان ضرور ہے کہ حساب تو ہوگا یوم حساب ، لیکن اس تماش گاہ دنیا میں بھی حساب دینا پڑتا ہے ۔ ہمیں صرف ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ارض کائنات کے محتسب اعلی اور قادر مطلق کے حساب سے گزرنے والے نظر آجائیں گے۔   ٭

مزید :

کالم -