طلوعِ آفتاب

طلوعِ آفتاب

  

”دوست وہ جو مصیبت کے وقت آپ کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آئے“.... یہ ضرب المثل ہمسایہ ملک چین کے بارے میں سو فیصد درست ہے۔ پچھلے دنوں چین کے وزیر خارجہ جناب ینگ جی چی نے جب پاکستان کادورہ کیا توانہوں نے پاکستان کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار ان لفظوں میں کیا.... ”ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں“۔ اس کے ساتھ ہی جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین ایک گہرے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں او ر اس خطے میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان حالات کی بہتری کے لئے اپنا گھر بھی درست کرے۔ اپنے ہمسایوں سے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈے اور امریکہ کے ساتھ مزاحمتی پالیسی ترک کرے۔ ہاں خطے میں اگر کسی ملک نے پاکستان کو میلی نظر سے دیکھا تو چین اپنے دوست ملک کی سالمیت کا دفاع کرے گا۔

 دو طرفہ تعلقات کی بنیاد مشترکہ مفادات اور انسانی قدروں پر استوار ہوتی ہے۔ چین کے مغربی صوبوں میں ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ، جس کا ہیڈکوارٹر تو یورپ میں ہے، لیکن جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ سے اس تنظیم کو بڑی تقویت حاصل ہوئی ہے.... چونکہ پاکستان اور چین کے بارڈر مشترک ہیں، لہٰذا یہ ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے کہ ہم اپنی سرزمین دہشت گردی جیسے گھناو¿نے فعل کے لئے استعمال نہ ہونے دیں۔ صدر غلام اسحق کے دور میں چین کو اسی قسم کی شورش کا سامنا تھا، جس کی مذمت بھی کی گئی اور بروقت مداوا بھی کیا گیا، یوں پاک چین دوستی پر حرف نہ آنے دیا گیا۔ آج بھی وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خلوص نیت سے اس مسئلے کے حل کے لئے اپنی دوستی کا حق ادا کریں۔ اقتصادی ترقی کے فروغ کے لئے چین ہمارے ساتھ توانائی، زراعت اور معدنیات کے شعبوں میں بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ سیکیورٹی معاملات میں چین کے ساتھ معاونت کی جائے۔

 اب تک بات ہو رہی تھی پاک چین دوستی کی۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی 2014ءمیں واپسی کے پس منظر میں ساو¿تھ ایشیا میں جو تبدیلی آنے والی ہے، اس میں دیگر ممالک کا بھی اہم کردار ہو گا۔ ان میں پاکستان، بھارت، ایران، وسطی ایشیا کی ریاستیں اور سب سے بڑھ کر چین شامل ہو گا۔ امریکہ اوربھارت کے تعلقات اب اتحادی کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ جارج ڈبلیو بش کے دور میں امریکہ نے بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانے پر جو سرمایہ کاری کی تھی ،اب اس فصل کو اٹھانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ انڈیا نے ایٹمی عدم پھیلاو¿ کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے تھے، جس کی وجہ سے اس کو اقتصادی پابندیوں کا سامناکرنا پڑا۔ 2005ءمیں امریکی حکومت نے فیصلہ کیا کہ بین الاقوامی سطح پر دباو¿ ڈال کر ان پابندیوں کو اٹھایا جائے۔ اس طرح ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اوباما نے آتے ہی ایک وفد تشکیل دیا جس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ پاک، بھارت، کشمیر تنازعے پر اسے بریفنگ دی جائے۔ بھارت اس بات پر سیخ پا ہوا اور اس پر احتجاج کرتے ہوئے چین سے تعلقات پر نظرثانی پر غور کرے گا۔ اسی طرح جی ٹو کے ساتھ بات چیت بھی اس کا رد عمل ظاہر کرتا ہے۔

 بھارتی قانون ساز اسمبلی نے ایک قانون پاس کیا، جس کی رو سے ایٹمی حادثے کی صورت میں امریکی کمپنیوں کو فارغ کر دیا جائے گا، لیکن پچھلے سال مایوسی کے بادل اس وقت اور بھی گہرے ہو گئے، جب بھارت نے 126 جیٹ لڑاکا طیاروں کی سپلائی کی امریکی کمپنیوں کی بولی رد کرکے یورپین کمپنی کے حق میں کر دی۔ دونوں ملکوں کے مابین ان تلخ حقائق کے باوجود کوئی بڑی دراڑ نہیں آئی۔ پچھلے دنوں جب پاک امریکہ تعلقات کشیدہ ہوئے تو بھارت نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کیونکہ وہ افغانستان پر نظریں گاڑے بیٹھا ہے، جہاں اسے ایک اہم کردار سونپا جانے والا ہے اور جس سے اس کے اقتصادی اور سیاسی مفادات وابستہ ہیں۔ ایران پر پابندیاں عائد ہونے کے باوجود بھارت ایران سے تیل درآمد کر رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت تیل کی رسد محدود کرے تاکہ ایران پر اقتصادی دباو¿ بڑھایا جا سکے۔ بھارت کو خدشہ ہے نٹیو افواج کی واپسی کے بعد خطے کی سلامتی کی ضمانت کون دے گا۔ کیا افغان ایک آزاد اور خود مختار حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

اس سوال کا تعلق ہمارے دفاع اور سلامتی سے بھی ہے۔ ہم نے اس خطے میں امن کی خاطر جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہم اپنے شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت کے تعلقات کی بنیاد ہمیشہ مفادات پر مبنی رہی ہے، خواہ وہ امریکہ سے ہوں یا روس سے۔ امریکہ اس وقت جنگی ہتھیاروں کی صنعت میں نمبر ون ہے۔ حالیہ چند سالوں میں 18ا رب ڈالر کے ہتھیار امریکی کمپنیاں فروخت کر چکی ہیں۔ بھارت اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جنگی سازو سامان کا درآمد کنندہ ہے۔ ان حالات میں اس خطے میں امن کی فضا پیدا کرنا کتنا مشکل امر ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب روس کے علاوہ چین کے پاس ہے۔ عالمی امن کے علمبردار یہ سمجھتے ہیں کہ ہتھیاروں کے ذریعے طاقت کا توازن برقرار رکھاجا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ تمام عالمی طاقتوں کے پاس وافر مقدار میں مہلک ہتھیار موجود ہیں، لیکن اٹامک انرجی کا عالمی ادارہ چھوٹے اور غریب ملکوں کی جامہ تلاشی لینے پر مامور ہے۔ پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے تو ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایٹمی توانائی کو پُرامن مقاصد کے لئے استعمال کرے۔ اس سے توانائی کے بحران کے خاتمے کے علاوہ زراعت اور صنعت کے میدان میں بھی ترقی ممکن ہے۔

جہاں تک طاقت کے توازن کا تعلق ہے، بھارت لاکھ امریکہ کی آنکھ کا تارا بن رہا ہے، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس خطے میں چین نہ صرف اقتصادی، بلکہ ایک بڑی دفاعی طاقت بھی بن چکا ہے۔ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ چین کا کردار صرف خطے تک محدود نہیں۔ اس کی اہمیت گلوبل سطح پر بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں:

-1 روس کے برعکس چین کے قومی مفاد میں ہے کہ وہ عالمی اقتصادی نظام میں اپنا کردار ادا کرے۔اس وقت چین اپنی جی ڈی پی کا 2 فیصد، جبکہ امریکہ 4 فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے۔

-2 مغربی ممالک چین سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ گلوبل آرڈر میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالے۔

ملٹری سائنس اکیڈمی کے جنرل یاو¿ کا کہنا ہے کہ چین جب فوجی مداخلت کرتا ہے تو اسے روک دیا جاتا ہے، جب خاموش رہتا ہے تو اسے ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ پہلے فیصلہ کریں کہ چین کو کیا کرنا ہے۔ بین الاقوامی دفاعی آرڈر تو نیٹو کے ہاتھ میں ہے، البتہ چین کو ڈبلیو ٹی او میں شمولیت کرلینی چاہیے۔ اس کی مثال پچھلے دنوں چین کے بحری جہازوں کا جاپان، ویت نام، جنوبی کوریا اور فلپائن کے جہازوں کے ساتھ سمندری جغرافیائی باجگزار پر جب جھگڑا ہوا تو امریکہ نے شفع کا حق استعمال کرتے ہوئے مداخلت کی۔

چین کے پاس اس وقت امریکہ اور روس کے بعد تیسری بڑی فوج چوکس کھڑی ہے۔ 2000ءمیں دفاع پر خرچ صرف 30 ارب امریکی ڈالر تھا جو 2012ءمیں 160ارب امریکی ڈالر ہو چکا ہے۔ 1927ءمیں پیپلز لبریشن آرمی کا قیام عمل میں آیا جس کی تعداد 2.3 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ چینی قیادت نے اپنی قوم کو مشکل وقت کے لئے اس طرح تیار کیا ہوا ہے کہ آج بھی ناگہانی صورت حال میں 600 ملین مرد و زن اس قابل ہیں کہ وہ فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکتے ہیں اور اس کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ بری، بحری اور ہوائی فورس کے علاوہ ریاستی پولیس اور میزائل فورس بھی موجود ہے۔ 4000 ائر کرافٹ،600 بحری جہاز اور 23000 ہتھیاروں سے چینی فوج لیس ہے۔

تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کس طرح چینی قیادت نے ایک افیونی قوم کو دنیا کی طاقتور قوم میں بدل دیا۔ پچاس کی دہائی میں روس ہی ایک واحد طاقت تھی، جس نے کمیونسٹ چین کی نوزائیدہ ریاست کو سہارا دیا۔ یہ پہلافیز تھا۔ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں ماو¿زے تنگ کے ثقافتی انقلاب کے ساتھ ہی یہ دور ختم ہو گیا۔ اس دوران چین ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا۔ اس کے بعد سرحدوں کے جھگڑے اور نظریاتی اختلاف کی وجہ سے روس کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ چین کی تعمیر و ترقی کا دوسرا دور ڈنگ ژیاو¿ پنگ نے اَسّی کی دہائی میں شروع کیا۔ اس کے سامنے ایک ہی ہدف تھا.... ”چین کی اقتصادی خوشحالی“۔ اس نے جرنیلوں کو صاف بتا دیا کہ وہ جی ڈی پی کے 1.5 فیصد پر ہی اکتفا کریں۔

چین کی ترقی کا تیسرا دور نوے کی دہائی سے شروع ہوتا ہے جو آج بھی جاری ہے۔ اس کا آغاز امریکی امداد اور حکمت عملیوں سے ہوا۔ اس عرصے کو دفاعی انقلاب کا نام دیا گیا۔ اب امریکی تھنک ٹینک چینی فوج کو انفراسٹرکچر اور جدید اوزاروں سے مسلح کرنے میں مصروف ہو گئے۔ جنرل چن زاو¿ کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا اینڈی مارشل ہمارا ہیرو ہے۔ اس کے بعد ایک واضح تبدیلی 2002-04ءمیں رونما ہوئی، جب دنیا میں کمپیوٹر کے ذریعے خود کاری نظام میں انقلاب برپا ہوا۔ چینی فوج نے بھی پینٹاگون کے زیر سایہ اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ اب آخری دور چل رہا ہے، جسے میکانائزیشن کا نام دیا گیا ہے۔ اس دور میں ایڈوانسڈ ملٹری پلیٹ فارم نیٹ ورکنگ سے فوج کو لیس کیا جائے گا۔ یہ کام 2020ءتک پایہ¿ تکمیل پہنچ جائے گا۔

چینیوں کا دفاع کے بارے میں مشہور قول ہے کہ ان کا مضبوط نکتہ دشمن کے کمزور حصے پر حملہ کرنا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو خطے میں موجود مدمقابل طاقتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے:

مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ

مزید :

کالم -