ڈی سی او نورالامین مینگل صبح سویرے سبزی منڈی میں

ڈی سی او نورالامین مینگل صبح سویرے سبزی منڈی میں
ڈی سی او نورالامین مینگل صبح سویرے سبزی منڈی میں

  



دن بھر کی تھکن کے بعد روزانہ تقریباً نصب شب بھی گزر جانے کے بعد سونے کیلئے بستر پر جانے والے وہ لوگ جو علی الصبح نیند سے بیدار ہونے ٗ جاگ کر بستر چھوڑ دینے اور بغیر ناشتہ کئے گھر سے باہر کام پر جانے کی عادت نہیں رکھتے ان کے لئے صبح سویرے منہ اندھیرے اپنے ان معمولات زندگی سے ہٹ کر کسی قسم کی چیکنگ اور پڑتال کے پریشر کے بغیر بستر چھوڑ کر باقاعدہ ناشتہ کئے بغیر ٗ ٹریک سوٹ میں ہی سبزی منڈی میں فروخت ہونے والی سبزیوں ٗ فروٹس اور دیگر اجناس کی نیلامیوں پر نظر رکھنا ٗان کے ریٹس کو کنٹرول میں رکھنا ٗجس علاقے میں جہاں جہاں بھی جس جس چیز کی کمی ہو اس کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کرنا ٗ رمضان بازار وں اور سہولت بازاروں پر نظر رکھنا ٗ پھر اپنے آفس کے کھلے دروازے سے اپنے اپنے مسائل لے کر آنے والوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا ٗ ناجائز کام لے کر آنے والوں کی اندر کی نیتوں کو سمجھ کر ان کو قانونی اور جائز طریقے اختیار کرنے پر قائل ومائل کرنا ٗ تعمیروترقی کے منصوبوں کو ایک انجینئر کی نگاہ سے چیک کرنا ٗ بحث و مباحثہ کے مراحل سے گزر کر نگرانی کرنا ٗ ضلع بھر میں امن و امان کے مسائل ٗ سیکورٹی کے معاملات ٗ تعلیم وصحت کے کٹھن معاملات سے عہدہ برآ ہونا ٗ ضلع میں سپورٹس کو فروغ دینا ٗ مزدوروں کے مسائل ٗ وکلاء کے معاملات ٗ تاجروں صنعتکاروں ٗسرکاری وغیرسرکاری اداروں کے ملازمین کی مشکلات کا ازالہ کرنا ٗ میڈیا سے خوشگوار تعلقات کو نبھانا ٗ اوپر سے آنے والے سرکاری احکامات اور پالیسیز پر عملدرآمد کرنا ٗ کچھ’’ انہونیوں کو ہونیاں‘ ٗ کرنا عام لوگوں کے گلے شکوے سننا ٗ ان کی تندوتیز و سخت باتوں کو برداشت کرنا ٗ ہر تنقید پر لبوں پر مسکراہٹیں قائم رکھنا ٗ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ خاص طور پر حکومتی ایم این ایز ٗ ایم پی ایز کو ناراض نہ ہونے دینا ٗ حکومت اور عوام کے درمیان تعلقات کو خوشگوار اور اعتماد کو برقراررکھنے کیلئے اقدامات کرنا ضلع بھر کے سرکاری محکموں کی ڈاک پر دستخط کرنے کی ذمہ داریاں نبھانا ٗ باقاعدہ عدالت لگا کر لوگوں کو ذاتی طور پر سننا اور ان پر احکامات جاری کرنا ٗ ان تمام امور کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ان کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے فنڈز کے انتظامات کرنا ٗ اپنے تمام اقدامات و انتظامات بارے اپنے اوپر والوں کو نہ صرف آگاہ کرنا بلکہ انہیں مطمئن کرنا اور نا گہانی آفات میں مشکلات میں گھرے لوگوں کو ریلیف دینا ٗ تب کہیں جا کر اگرلنچ کیلئے کچھ وقت مل جائے تو ٹھیک ورنہ چھوٹی موٹی ریفریشمنٹ کے ساتھ لنچ کو ڈنر تک لے جانا اور خاص طور پر رمضان شریف میں اگر روزہ نہ بھی رکھ سکیں تو محتاط رہنا ٗان تمام معمولات زندگی کے دوران کہیں نہ کہیں سے کچھ وقت اپنی فیملی کیلئے کچھ اپنی ذات کے لئے نکالنا کتنا مشکل کام ہے اور اس مشکل بلکہ نا ممکن حد تک مشکل کام نبھانے والے کو فیصل آباد کے لوگ ڈی سی او فیصل آباد نورالامین مینگل کے نام سے جانتے ہیں پہنچانتے ہیں۔ ایک روز ان کے ساتھ رمضان بازاروں میں جانے کا اتفاق ہوا ٗ مدینہ ٹاؤن رمضان بازار میں پہنچے تو تقریباًڈیڑھ بجا تھا سبزیوں ٗ فروٹس ٗ گوشت ٗ کریانہ غرضیکہ ضرورت کی تمام اشیاء بڑے سلیقے سے سجائی گئی تھیں ٗ فروخت ہونے والی ہر چیز کے اوپر نمایاں جگہ پر اس شے کی قیمت نمایاں طور پر لکھی ہوئی تھی آلوؤں کے سٹال پر لگے نرخنامے پر نظر پڑی تو اس پر لکھا تھا 12 روپے ٗ ابھی دو روز پہلے میں نے بازار سے آلو 40 روپے فی کلو کے حساب سے خریدے تھے ٗ پہلی نظر میں 12 روپے پر نظر پڑی میں سمجھا ریٹس 12 روپے فی آلو ہوں گے ٗ دریافت کیا تو 12 روپے فی کلو بتایا گیا۔ دو روز پہلے خریدے گئے آلو کی قیمت بتائی گئی۔ موازنہ کیا گیا۔ سبب پوچھا تو بتایا گیا 12 روپے میں پرانے آلو فروخت ہو رہے ہیں ٗ بات سمجھ میں آئی کہ آلو کھانے والے اگر رمضان شریف میں چپس اور پکوڑوں میں آلو استعمال کرنا چاہیں تو وہ 12 روپے فی کلو میں بھی مل سکتے ہیں ٹماٹر کے نرخ بازار میں 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہے تھے مگر رمضان بازار میں 42 روپے میں بک رہے تھے۔ ریٹس کا فرق ممکن ہے معیار کی وجہ سے بھی ہو لیکن ایک بات یہ ضرور سامنے آئی کہ عام مارکیٹ میں بھی معیار کی شرط نہیں لگائی جا سکتی۔ پھر بھی رمضان بازار میں سستی اشیاء مل رہی تھیں ٗ اس طوفانی چیکنگ کے سلسلے میں بٹالہ کالونی رمضان بازاراور سمن آباد رمضان بازار بھی جانے کا اتفاق ہوا ٗتقریباً وہی صورتحال تھی جو مدینہ ٹاؤن میں تھی البتہ ایک حیرت انگیز تبدیلی سمن آباد رمضان بازار میں ضرور نظر آئی۔ رمضان بازار کے آخر میں بازار کی انتظامیہ نے ایک بینر لگایا ہوا تھا جس پر دو تصویریں بلا عنوان بنی ہوئی تھیں بینر اگرچہ زیادہ بڑا نہیں تھا مگر اس پر ایک تصویر چوہدری عابد شیر علی اور دوسری رانا ثناء اللہ خاں کی تھی اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ چوہدری عابد شیر علی اس حلقہ سے ایم این اے اور رانا ثناء اللہ خاں اس حلقہ سے ایم پی اے ہیں۔ بظاہر دونوں کی آپس میں نبھتی نہیں اس لئے لوگ اسے غیر معمولی انداز میں دیکھ اور محسوس کر رہے تھے ڈی سی او صاحب نے اس بینر کو بازار کے آخری حصے سے اتروا کر رمضان بازار کے داخلی گیٹ پر لگانے کا حکم دیا اور اس کے سائز کو بھی بڑھانے کا کہا تا کہ یہ تاثر پیدا ہو کہ یہ رمضان بازار دونوں رہنماؤں کی طرف سے اس حلقہ کے عوام کیلئے ایک تحفہ ہے وہاں آنے والے اکثر لوگ اس بینر کو حیرت اور مسکرا ہٹوں کے ساتھ دیکھتے ہوئے گزرتے ہیں کچھ دوستوں نے تجویز کیا کہ اس کاعنوان ہونا چاہئے ٗ عابد ٗ ثناء اللہ بھائی بھائی ٗ ٗ

مزید : کالم