آپریشن ضرب عضب ۔ اہداف کا حصول

آپریشن ضرب عضب ۔ اہداف کا حصول
آپریشن ضرب عضب ۔ اہداف کا حصول

  

آپریشن ضرب عضب ایک دلیرانہ فیصلہ تھا جس نے کامیابی کے ساتھ سو فیصد اہداف حاصل کیے اور وطن عزیز سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے اہم کردار ادا کیا ۔ اس آپریشن کو شروع کرنے کیلئے افواج پاکستان کو پوری قوم اور سیاسی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل تھی ۔جو فیصلے متفقہ طور پر کیے جاتے ہیں ان کے نتائج بھی بہت حوصلہ افزا نکلتے ہیں ۔

2013ء تک دہشت گردی اور انتہا پسندی نے ایک خطرناک صورت اختیار کر لی تھی اور کوئی دن ایسا نہ تھا جب بے گناہ قیمتی جانیں دھماکوں کی نذرنہ ہورہی ہوں اور اس کی بڑی وجہ وہ جنگ جو تھے جنہوں نے شمالی وزیرستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے اور اس علاقہ کو نو گو ایریا کی شکل دے رکھی تھی یہ صورتحال پاکستانی قوم سیاسی قیادت اور افواج پاکستان کے لئے نا قابل برداشت تھی یہی وہ حالات تھے جن کے پیش نظر آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن میں افواج پاکستان کو پوری قوم کی مکمل تائید حاصل ہے اور جب تک یہ آپریشن جاری رہے گا یہ تائید حاصل رہے گی۔ گزشتہ دو سالوں میں آپریشن ضرب عضب کو شر وع کرنے کے سو فیصد اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں یہ آپریشن صرف شمالی وزیرستان میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں شروع کیا گیاہے ۔پاک فوج کے ترجمان میجر لیفٹیننٹ عاصم سلیم باجوہ نے اس اپریشن کے مقاصد کے حصول کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک آپریشن نہیں بلکہ ایک سوچ کا نام ہے اس کا مقصد پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنا اور اس دہشت گردی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا قلع قمع کرنا ہے یہ دہشت گرد اب حد سے بڑھ رہے تھے اورایک برابر کا فریق بن کر سٹیٹ کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ شمالی وزیرستان پوری دنیا میں مشہور تھا اور دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کو یہاں سے کنٹرول کیا جارہا تھا یہ ایسا نوگو ایریا تھا کہ پورے ملک سے وہاں کوئی نہیں جا سکتا تھا ۔ جس بھی دہشت گرد تنظیم کا نام لیں اُس کایہاں دہشت گردوں اور طالبان کے نیٹ ورک سے رابطہ تھا۔ 8 جون 2014 کو کراچی ائرپورٹ پر حملہ ہوا اس کے بعد اس علاقہ میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے پہلے کے پی کے میں عارضی کیمپ بنا کر اس علاقہ سے عارضی طو رپر نقل مکانی کرنے والوں کو منتقل کیا گیا اور پھر یہ آپریشن شروع ہوا سب سے پہلے وزیرستان کا 3600مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر کروایا گیااُ س کے بعد شمالی وزیرستان میں دتہ خیل اور مضافات کا چار ہزار تین سو چار مربع کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کروایا گیا۔ شوال ویلی میں جہاں جنگل بھی تھے ایک مشکل آپریشن کر کے کلیئر کیا گیا ان علاقوں کو کلیئر کرواتے وقت دہشت گردوں سے اسلحہ، آلات اور جدید ہتھیار جو انہوں نے امریکی فوجی دستوں سے چھینے ہوئے تھے برآمد کیے گئے۔ آپریشن میں 992 دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ان کارروائیوں میں 253 ٹن دھماکہ خیز مواد جو 15 سال تک استعمال ہوسکتا تھاپکڑا گیا 2841 بارودی سرنگیں 35310 مارٹر بم اور بہت سا ایسا اسلحہ پکڑا جو پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال ہو رہا تھا ۔ آپریشن کے ان دو سالوں میں افواج پاکستان کے 500اہلکار شہید ہوئے اور 3500دہشت گر د مارے گئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک پاکستان 107 بلین ڈالر کا نقصان کر چکا ہے اسی طرح خیبر ایجنسی میں منتقل ہونے والے جو دہشت گر د افغانستان کے راستے وہا ں گئے تھے ان کے خلاف بھی آپریشن ہوا اور پاک فوج نے اس علاقہ میں خیبر 1اور 2 کے نام سے آپریشن کیا۔ خیبر ایجنسی میں 2400 مربع کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کروایا گیا اور یہاں پر 900 دہشت گردوں کو مارا گیا اس آپریشن میں بھی افواج پاکستان کے 108 جوان شہید اور 385 زخمی ہوئے اس آپریشن میں مجموعی طور پر 490 جوانوں اور 16 آفیسرز نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 2108 زخمی ہوئے۔ افواج پاکستان دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے اور انہیں جہنم رسید کرتے ہوئے افغانستان کے بارڈر تک پہنچ چکی ہیں لیکن اب افغانستان کی سر حد کے ساتھ2600 کلومیٹر کی بارڈر مینجمٹ ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کراسنگ پوائٹس کی نشاندہی کے بعد یہاں ایف سی اور دیگر فورسز کو لگایا جا رہا ہے تاکہ غیر قانونی بارڈر کر اسنگ کو روکا جا سکے ۔دہشت گردوں کا افغانستان سے پاکستان میں داخلہ روکنے کے لئے طورخم پر پاکستانی سرحد کے اندر گیٹ کی تعمیر بھی جاری ہے ۔ایسے سات گیٹ تعمیر کئے جائیں گے تاکہ کوئی شحص غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل نا ہو سکے۔

گزشتہ 35 سالوں سے مقیم ساڑھے پینتیس لاکھ افغان مہاجرین کو بھی افغانستان واپس بھیجنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ مہاجرین کیمپو ں کے علاوہ بھی پورے ملک میں پھیل چکے اور امن امان کی خراب صورت حال کے یہ بھی ذمہ دار ہیں۔ اسی طرح انٹیلی جنس بیسڈ معلومات کی بنا پر کراچی میں آپریشن جاری ہے اور نہ صرف دہشت گردوں بلکہ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں۔ افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے سوفیصد نتائج حاصل کر لئے ہیں اور یہ آپریشن اب آخر ی مراحل میں ہے اس آپریشن کی کامیابی پر افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہیے کہ یہ دہشت گر د پھر سے پاکستان کو نشانہ نہ بنا سکیں ۔آپریشن کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان نے ان علاقوں میں بحالی کاکام بھی شروع کر دیا ہے جو اس آپریشن کے نتیجہ میں متاثر ہوئے ہیں ان علاقوں میں سکول ہسپتال اور سٹرکوں کی تعمیر جاری ہے مارکیٹیں بھی بنائی جارہی ہیں۔ان علاقوں کے رہنے والے بھی بہت خوش ہیں جنہیں دہشت گردوں نے کئی دہائیوں سے یرغمال بنا رکھا تھا اور اب یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جارہے ہیں اور ایک آزاد اور پر امن زندگی گزاریں گے۔

افغانستان کے راستے بھارت پھر سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ہمیں افغانستان کو واضح پیغام دینا چاہیے کہ بہت کچھ ہو چکا اب مزید برداشت کی گنجائش نہیں ۔ پاکستان میں امن کے قیام کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ہر قیمت پر پاکستان کے مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ افغانستان اگر امن چاہتا ہے تو اُسے پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی روک تھام کے لئے اقدامات کرنا ہونگے۔پاکستان مخالف گروپوں کی حمایت کر کے افغانستان اپنا خود نقصان کرئے گا۔

مزید :

کالم -