اتنی سی کہانی

اتنی سی کہانی
اتنی سی کہانی

  

ہجرت

کوئی زیادہ پیسے کمانے کے لئے ترک وطن کرتا ہے

کوئی صحت اور تعلیم کے باعث

پروفیسر راجر تارکینِ وطن کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے،

’’کوئی خوراک، پانی اور بجلی کی وجہ سے مُلک چھوڑ دیتا ہے

کوئی دہشت گردی اور جنگ کی وجہ سے

کوئی موت کے خوف سے یا اولاد کے بہتر مستقبل کی خاطر‘‘

وہ چُپ ہو گئے

سوزن نے فوراً سوال داغا

کوئی ایسا مُلک جہاں کے لوگ ہجرت نہ کرتے ہوں؟

جو مصیبتوں سے مسلسل لڑتے رہیں،جنہیں مرنا پسند ہو، مگر مٹی چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں؟

پروفیسر راجر مسکرائے اور بولے

’’ہاں۔۔۔۔۔۔ فلسطین‘‘

***

مزید : رائے /کالم