’’پیر کو پیرنی نہ مارے تو پیر نہیں مرتا‘‘

’’پیر کو پیرنی نہ مارے تو پیر نہیں مرتا‘‘
’’پیر کو پیرنی نہ مارے تو پیر نہیں مرتا‘‘

  

لیکشن کے حوالے سے ’’بدگمانی‘‘ بھی موجود ہے۔۔۔ خود سیاست دان بھی مطمئن نظر نہیں آتے، اوپر سے ہمارے نگران بھی بعض ایسے فیصلے کر رہے ہیں،جو اُن کے اختیار میں نہیں ہیں، کہیں بھی الیکشن کے حوالے سے کوئی حرکت نظر نہیں آئی،سیاسی جماعتیں بھی کچھ زیادہ متحرک نظر نہیں آتیں، البتہ سوشل میڈیا اور عام گپ شپ میں بہت زور دار گفتگو ہوتی نظر آتی ہے۔

ہم بھی دوستوں کے ساتھ سیاسی گفتگو کرتے رہتے ہیں۔۔۔ سو بعض دوستوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو بہت مزیدار ہوتی ہے۔ کل تحریک انصاف کے ایک جوشیلے دوست نے فون کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ ’’آپ بہت متعصب ہو‘‘۔ مَیں نے کہا، وہ کیسے، کہنے لگے کہ آپ نے مبارک باد نہیں دی۔

مَیں نے کہا کس حوالے سے، کہنے لگے، پی ٹی وی نے عمران خان کا انٹرویو کیا۔ مَیں نے کہا انٹرویو تو ہر روز روز دیتے رہتے ہیں،اس میں مبارک باد کیسی؟ کہنے لگے، پی ٹی وی پر انٹرویو کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان مستقبل کے وزیراعظم ہیں۔۔۔مَیں نے کہا،اگر ایسی بات ہے تو آپ کو مبارک ہو۔۔۔مگر اِس میں ایک گڑ بڑ بھی ہے؟ کہنے لگے کیا گڑ بڑ ہے۔

مَیں نے کہا بقول آپ کے پی ٹی وی نے عمران خان کا انٹرویو کیا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ عمران خان وزیراعظم ہیں۔انہوں نے کہا بالکل مَیں نے یہی کہا ہے۔

مَیں نے کہا گڑ بڑ یہ ہے کہ اگر کل پی ٹی وی والوں نے مولانا فضل الرحمن کو انٹرویو کے لئے بُلا لیا تو پھر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ مستقبل کے صدر ہوں گے؟کہنے لگے، مَیں نے اِس حوالے سے تو سوچا ہی نہیں،مَیں نے کہا یہی تو آپ لوگوں کی کمزوری ہے کہ آپ سوچتے کم ہو۔

ابھی گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک دوست کا فون آیا تو ابتدائی گفتگو کے دوران ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ موصوف کچھ پریشان پریشان سے ہیں، سو مَیں نے پوچھا تو فرمانے لگے۔۔۔ اسلام آباد کے لوگوں کو اچھی خاصی مصیبت پڑی ہوئی ہے۔مَیں نے کہا وہ کیسے؟ تو کہنے لگے صبح اُٹھو تو آنگن میں کالے دھاگے اور گوشت کے چیتھڑے بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔اب تو صفائی کر کر کے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔مجھے تو الیکشن تک یہ سلسلہ رکنے والا نہیں لگتا۔ مَیں نے کہا، خدا کے بندے، کالے دھاگوں اور گوشت کے چیتھڑوں سے الیکشن کا کیا تعلق؟فرمانے لگے بہت گہرا تعلق ہے،بہت سے لوگ ایم پی اے، ایم این اے بننے کے لئے روحانی طریقے بھی استعمال کر رہے ہیں، سو یہ لوگ اسلام آباد کے ہر درخت پر کالے دھاگے باندھنے اور گوشت کے ٹکڑے پھینکنے پر لگے ہوئے ہیں۔ مَیں نے کہا انہیں تو ووٹروں سے رجوع کرنا چاہئے،کالے دھاگوں اور گوشت کے ٹکڑوں سے کیا ہو گا؟ کہنے لگے، اب یہ تو ’’وہی‘‘ جانتے ہیں جو کر رہے ہیں۔

مَیں تو آپ کو ’’نئی تازی‘‘ سُنا رہا ہوں۔ میرے یہ دوست چونکہ تھوڑے بہت باتونی قسم کے ہیں، سو مَیں نے اپنے ایک سنجیدہ دوست کو فون کر کے صورتِ حال جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا،بالکل ایسی ہی بات ہے۔ صبح اُٹھو تو واقعی آنگن میں کالے دھاگے اور گوشت کے چیتھڑے پڑے ملتے ہیں،بلکہ ادھر ’’بنی گالہ‘‘ کے علاقے میں تو ایک صاحب ایک درخت کے ساتھ الٹے لٹکے بھی پائے گئے ہیں۔

انہیں کسی ’’پیر‘‘ یا ’’پیرنی‘‘ نے بتایاہے کہ آپ کالے دھاگے کے ساتھ گوشت کے چیتھڑے اور پارٹ ٹائم درختوں کے ساتھ اُلٹا لٹکنے کا بھی ’’توڑ‘‘ کریں، تاکہ آپ کی کرسی تک رسائی آسان ہو۔۔۔مَیں نے کہا یار اگر درخت سے ساتھ اُلٹا لٹکنے سے بندہ وزیراعظم بن سکتا تو پھر اسلام آباد کے جنگلوں کے تمام بندر وزیراعظم نہ بن گئے ہوتے؟

میری اس بات پر دوست نے قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا: تم ذرا رائیونڈ والوں کا حال سناؤ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان کی بھی درختوں سے لٹکنے کی کوئی خبر ہے کہ نہیں؟مَیں نے کہا ان کو درختوں سے لٹکنے کی کیا ضرورت ہے، انہیں تو ویسے ہی لٹکانے کی پوری تیاریاں کی جا چکی ہیں، بلکہ ان کے تو بہت سے دوستوں کو بھی ایک ایک کر کے لٹکایا جا رہا ہے۔

تم نے سُنا نہیں ہے کہ چودھری نثار علی خان کے مدمقابل امیدوار کو ٹکٹ ملتے ہی لٹکا دیا گیا ہے؟اس نے کہا ہاں یہ تو ہے،پھر پوچھا:اچھا سندھ والوں کا کوئی حال سناؤ۔۔۔مَیں نے کہا خدا کے بندے کچھ رحم کرو۔۔۔ ان بچاروں کے اور کتنے لٹکاؤ گے۔ بھٹو، بے نظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، شاہنواز سب کو تو لٹکا چکے ہو، اب ان کا پیچھے بچا ہی کیا ہے۔ دوستوں کے ساتھ گفتگو کا یہ لطف تقریباً روزانہ ہی نصیب ہو رہا ہے۔۔۔ کل ایک دوست نے خوشی خوشی فون کیا اور کہا مبارک ہو، پی ٹی آئی پنجاب سے سو کے قریب نشستیں جیت لے گی۔۔۔ مَیں نے کہا خیر مبارک۔

ہمارے پی ٹی آئی کے دوست آج کل بہت پُرجوش ہیں کہ پاکستان بھر میں ہماری جماعت ہی کلین سویپ کرے گی،مگر جب مَیں انہیں بتا تا ہوں کہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی سو کے قریب نشستیں جیت لے،مگر ایک خطرہ بھی ہے،وہ پوچھتے ہیں تو مَیں انہیں بتاتا ہوں کہ دن رات دُعا کرو کہ پی ٹی آئی اگر قومی اسمبلی کی سو نشستیں جیت لے تو صوبائی اسمبلی کی ہار جائے۔

میری اِس بات پر پی ٹی آئی کے دوست ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں، ہم تو پنجاب میں بھی حکومت بنائیں گے، مَیں انہیں کہتا ہوں کہ یہی تو ’’گڑ بڑ‘‘ ہے،کیونکہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی اِس بات پر تومتفق ہیں کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانا ہے، مگر جہانگیر ترین شاہ محمود قریشی کو اول تو قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے ناکام دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر شاہ محمود قریشی کامیاب ہو گئے تو جہانگیر ترین شاہ محمود قریشی کو وزیراعلیٰ پنجاب تو کسی قیمت پر نہیں بننے دیں گے،چاہے انہیں اپنا جہاز’’گروی‘‘ ہی کیوں نہ رکھنا پڑے۔

پھر مَیں نے دوست کو بتایا کہ اس وقت جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے درمیان سیاسی مخالفت اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ ان کے مقابلے میں عمران خان اور نواز شریف تو آپس میں بھائی بھائی نظر آتے ہیں،اور دونوں بالخصوص جنوبی پنجاب میں پوری طرح کوشش کر رہے ہیں کہ ’’کالا چور‘‘ بن جائے، مگر شاہ محمود قریشی کی کوشش ہے کہ جہانگیر ترین کا بندہ نہ بن پائے اور جہانگیر ترین کی کوشش ہے کہ شاہ محمود قریشی کا بندہ نہ بن پائے۔

دونوں کے درمیان سیاسی لڑائی ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، پارٹی کارکن ہی نہیں خود عمران خان بھی بہت پریشان ہیں۔۔۔ اور اسی پریشانی کی وجہ سے وہ روحانی تدارک کے لئے کچھ اضافی گوشت صدقہ کرتے ہیں اور درختوں پر لٹکنے کی اضافی ’’مشقت‘‘ علیحدہ اٹھاتے ہیں۔میری اس گفتگو کے بعد میرا دوست کچھ پریشان سا ہو گیا۔

مَیں نے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا۔ان دونوں کی لڑائی سے ایک عدد ’’فارورڈ بلاک‘‘ بن جائے گا۔ تو اسے توڑنے کے لئے زلفی بخاری جیسے لوگ موجود ہیں۔ ہاں اگر شاہ محمود قریشی ’’آڑے‘‘ آ گئے تو پھر ان کے توڑ کے لئے ’’پیرنی‘‘ کو کچھ کرنا پڑے گا،کیونکہ پیر کو پیرنی نہ مارے تو پیر نہیں مرتا۔

مزید : رائے /کالم