امیدواراچھی کارکردگی سے ووٹروں کو متاثر کریں

امیدواراچھی کارکردگی سے ووٹروں کو متاثر کریں
امیدواراچھی کارکردگی سے ووٹروں کو متاثر کریں

  

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کے معزز اور محترم مقام و مرتبے سے نوازا ہے، اس برتر اور اعلیٰ صفت سے بلاشبہ انسان کو بتایا گیا ہے کہ کائنات میں اس سے بہتر اور بڑھ کر دیگر کوئی مخلوق، ترجیحی اوصاف کی حامل نہیں، لہٰذا حضرتِ انسان سے فطری طور پر یہ امیدوابستہ ہے کہ وہ اپنے خالق، مالک اور رازق کے احکامات کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا پابند ہے، لیکن ساتھ ہی انسان کو اتنی آزادی بھی عطا کی گئی ہے کہ وہ اپنی عقل و دانش اور فہم و فراست کے استعمال سے اچھے اور بُرے کاموں میں تمیز کرکے راہ راست پر چلنے کو فوقیت دے۔ قرآنِ حکیم اللہ تعالیٰ کی انسانوں پرنازل کردہ سب سے مقدس کتاب ہدایت ہے، جو رسول کریمؐ کی ذات پاک پر تقریباً 23سال کے دوران خالقِ کائنات نے نازل فرمائی۔

اس میں دنیا بھر میں موجود انسانوں کو ہمیشہ کے لئے ہر شعبہ زندگی کے بارے میں رہنمائی کی تلقین و تاکید کی گئی ہے۔ یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ بہت سے انسان مذکورہ بالا بیشتر حقائق کا علم وادراک رکھنے کے باوجود اسلامی تعلیمات پر عمل داری سے گریز کرنے کی روش پر چلنے کی ڈگر کو ترجیح دینے میں نہ صرف فخرمحسوس کرتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے واضح ارشادات اور تنبیہات پر مبنی احکامات کو بھی نظر انداز کرکے اپنی مرضی اور من مانی کے تحت سہل اور آسان راستوں کو ہی اختیار کرنے پر مائل اور راغب ہوتا ہے۔

اسی طرح ہمارے دنیاوی معاملات میں جھوٹ، فریب، گمراہی، بددیانتی، مالی حرص و ہوس، خیانت ، چوری، لوٹ مار، تصنع اور ظاہری چمک دمک کے طور طریقوں کے رجحانات غالب رکھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی امور میں بھی ظلم و تشدد قانون کے احترام اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھنے کی بجائے اکثر اوقات پامال اور بے توقیر کرنا لوگ اپنی روز مرہ زندگی کا لائحہ عمل بنائے رکھتے ہیں۔ یوں راہِ راست کے عمل و کردار سے پہلو تہی اور روگردانی، انسانی طبع کا بین الاقوامی وطیرہ اور طرز عمل بن گیا ہے۔

ابھی انسانی اقدار، مہذب اطوار و شائستہ اصولوں کو ترقی پذیر ممالک میں وہ احترام دینے کے بارے میں اطلاعات پڑھنے اور سننے میں کم آتی ہیں، جیسا کہ ترقی یافتہ اقوام میں ایک معمول حیات بنی ہوئی ہیں، اب تو وطن عزیز میں شرح خواندگی بھی بڑھ کر 50 فیصد کے قریب ہوگئی ہے، اس لئے ہمیں بھی اپنی روایتی غفلت، سست روی اور ذاتی مفادات کو ترجیح دینے کی عادات کا جائزہ لینے کی طرف توجہ دے کر اصلاحِ احوال کی سمت مثبت پیش رفت کو عملی زندگی میں جلد اختیار کرنے کے فیصلے کرنا ہوں گے، بصورت دیگر ہماری جہالت، معاشی بدحالی، تعلیمی اور دفاعی کوتاہیاں دشمن قوتوں کے حملوں کے لئے آئندہ بھی آسان اہداف بننے کے امکانات پیدا سکتے ہیں۔

اہلِ وطن ،بالخصوص سیاسی رہنماؤں کو جوش کی بجائے اپنے ذاتی کردار میں اسلامی آئینی و قانونی اور انصاف کے مروجہ اصولوں کے تحت موجودہ آسان اور سہل زندگی کی بجائے محنت اور سادگی کو ترجیح دینے کی جانب گامزن ہونا چاہیے۔بالخصوص جھوٹ بولنے اور حریف لوگوں یا امیدواروں پر بے بنیاد الزام تراشی کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دینا ہوگا۔

وہ کسی سٹیج پر کھڑے ہوکر اپنی پارٹی اور اتحاد کی عوامی خدمت کے حوالے سے کارکردگی لوگوں کو بتائیں، تاکہ لوگ خلوص نیت کے اقدامات کے معترف ہو کر آئندہ انتخابات میں اچھے کردار کے حامل امیدواروں کو حتی المقدور زیادہ تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب بنائیں، اسی طرح محض خیالی پلاؤ پکانے اورحقائق سے دور دعوے کرنے والے لوگوں کی چالبازیوں اور عیاریوں سے بھی خبردار رہنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ غلط کار اور دھوکے باز امیدوار اپنے ووٹروں کو بے وقوف نہ بنا سکیں۔ انتخابی مہم اب آخری چند ہفتوں میں داخل ہورہی ہے، بیشتر بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے حتمی امیدواروں کو نظرثانی کے بعد تبدیلیاں کرکے میدان سیاست میں اتار دیا ہے۔

اب بیشتر امیدواروں سے توقع ہے کہ وہ عوام سے رابطوں اور خطابات کے دوران سابقہ توہین آمیز کلمات اور الزامات سے اپنے حریف امیدواروں اور کارکنوں کو اشتعال دلانے سے گریز کریں گے۔ اس طرح ان کو ووٹ دینے والے لوگوں کی تعداد میں تو اضافہ نہیں ہوتا، لیکن باہمی تلخی، کشیدگی اور محاذ آرائی ضرور بڑھ جاتی ہے، ایسے حالات پیدا کرنے اور ان کو دانستہ طور پربگاڑنے سے بہرصورت گریزکرنا چاہئے۔

سیاست سے دلچسپی رکھنے والے بیشتر لوگ جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں غیر ممالک سے کئی ایسے وفود آرہے ہیں، جو انتخابی مہم اور انتخابات کے انعقاد کے بارے میں کئی امور کا بغور جائزہ لے کر اپنی رپورٹیں تیار کرتے ہیں یا بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو برائے تشہیر فراہم کرتے ہیں۔ان کی ترویج و اشاعت سے ہمارے انتخابی عمل پر عوام کی کارکردگی کا پتہ چل سکے گا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر کس حد تک عمل کرکے دینی اقدار و اطوار کو پیش نظر رکھنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے،اس بارے میں ہماری کارکردگی بہتر ہونی چاہیے۔

مزید : رائے /کالم