اب راج کرے گی خلق خدا

اب راج کرے گی خلق خدا
اب راج کرے گی خلق خدا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسان کی زندگی گوناگوں مسائل سے بھری پڑی ہے اگر وہ ان مسائل کو نظرانداز کرتاہے تو یاد رکھیے کہ کبوتر کے آنکھیں بند کرنے سے بلی کہیں نہیں جاتی، خطرہ توموجود رہتاہے، مگر موصوف انسان بھی عجیب ہے وہ ان مسائل کے چھوٹے چھوٹے سوراخوں کو بند کرنے کی بجائے ان کو اتنا طویل وقت دیتاہے کہ وہ سوراخ شگاف کی صورت اختیار کرلیتے ہیں پھر ان سے زندگی کو مشکل تر بنانے کیلئے چمگادڑیں، گدھیں، سانپ اور کئی طوفان در آتے ہیں، پاکستان کے ستر سالہ دور میں کسی بھی شخصیت کو اس بات کا خیال نہیں آیا کہ ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں اور ایسے لوگوں کو آگے لانا چاہیے جو ملک کے مسائل کو حل کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور ان پالیسیوں پر عملدرآمد کراسکتے ہوں جو ترقی کا باعث بن سکیں، کچھ عرصے سے تناؤ اس حد تک بڑھ گیاہے کہ پاکستان کی سرزمین تماشاگاہ بن چکی ہے اس کے مزے نہ صرف ملک کے اندر ہمارے آستین کے سانپ لے رہے ہیں بلکہ بیرون ملک بھی لئے جارہے ہیں جس طرح گالی اپنی مادری زبان میں ہی مزا دیتی ہے اسی طرح دوسرے کے گھر میں لگی آگ سے محلے دار اپنے گھر کا چولہا جلانے کے عادی ہورہے ہیں۔ کوئی تویہ سوچے کہ آخر کب تک؟مگر اب امید کی دو کرنیں نظر آتی ہیں۔ قانون کا شکنجہ بہت تنگ ہوتاہے اور اس میں پھنس جانے والی گردن کم وبیش ہی نکل پاتی ہے، شطرنج کی بساط میں بات چاہے وزیر کی ہو ،بادشاہ کی یا سپاہی کی ہو ایک کو جیتنا اور ایک کو ہارناہی ہوتاہے، ہمارے ملک میں چالیں چلنے والے یہ بھول گئے تھے کہ عوام کا خون پسینہ نچوڑ کر وہ جو اپنی جائیدادیں اور بینک بیلنس بنارہے ہیں جب بساط الٹے گی تو سب تہس نہس ہوجائے گا۔ مگریہاں تو مال کی ضرب اور تقسیم ایسے تھی جیسے بندر بانٹ!

بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی؟ ہمارے قانون اور نیب کے افسران نے مل کر غوروفکرکیااور ان سب کو اپنے کٹہرے میں لے آئے۔ چنگچی کے ڈرائیور کی طرح’’ تسی وی آ جاؤ، تسی وی آجاؤ تے تسی وی آجاؤ‘‘، کہتے کہتے آج قانون اور نیب نے مل کر بنائی گئی اورنج لائن پہ چلنے والی میٹروبس میں سب کو سوار کرلیا۔ بوجا(جیب) وی خالی تے ٹیشن وی دور تے کیہہ کراں حضور‘‘ تو جناب اب تو گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے نیب کا کڑا اب تو پاؤں میں پڑ چکا اور قانون نے تو ناز برداریاں اٹھانے سے صاف انکار کردیا اور اعلان کیا کہ’’ ہن دودھ دا دودھ تے پانی دا پانی ہو کے رَوے گا۔

قومی احتساب بیورو نیب کی ایک پریس ریلیز ملاحظہ ہوکہ کس طرح شفافیت سے جن پر جرم ثابت ہوا انہیں سزائیں دی گئیں اور جن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکا ان کو باعزت طور پر بری کردیاگیا۔قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی جانب سے کرپشن کے مختلف کیسز میں تحقیقات مکمل کرتے ہوئے قانون کے مطابق احتساب عدالتوں میں ریفرنس داخل کئے جاتے ہیں اس ضمن میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی جانب سے تمام ریجنل بیوروز کو دس ماہ کے دورانیہ میں تحقیقات مکمل کرتے ہوئے کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنیکی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔احتساب عدالت لاہور کے معزز جج صاحبان کی جانب سے زیرسماعت کرپشن کے چھ مختلف کیسز میں انصاف پرمبنی فیصلے صادر کئے گئے۔

مزید : رائے /کالم