ٹاسک فورسز کے چھاپوں سے گیس چوری کے واقعات میں کمی آئی : قیصر مسعود

ٹاسک فورسز کے چھاپوں سے گیس چوری کے واقعات میں کمی آئی : قیصر مسعود

لاہور ( لیاقت کھرل ) صوبائی درالحکومت میں جولائی 2017 سے 27جون 2018 تک گیس چوری کے سب سے زیادہ جعلی نیٹ ورکس کے خلاف چھاپے مارے گئے جبکہ دوسرے نمبر پر گھریلوگیس میٹروں سے کارخانوں اور فیکٹریوں میں گیس چوری کی شکایات پائی گئیں ۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی لاہورریجن سے ملنے والی معلومات کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں گیس چوری کی شکایات پر 875 مقامات پر چھاپے مارے گئے ۔جس میں سب سے زیادہ جعلی نیٹ ورک کے ذریعے چوری ہونے والی گیس پکڑی گئی ۔سب سے بڑاجعلی نیٹ ورک کاہنہ میں پکڑا جبکہ جعلی نیٹ ور کس کے خلاف لکھوڈئیر،مناواں ،جلواور بھائی پھیرو میں کارروائی کی گئی ۔جہاں بڑے گروہ کے ارکان گیس چوری میں ملوث پائے گئے اور ان کے خلاف مقدمات درج کروانے پر جعلی نیٹ ورک کاخاتمہ ہواہے جس میں گیس کی مین پائپ لائن سے کٹ لگاکر پچاس گھروں کو جعلی طریقے سے گیس سپلائی کی جاری رہی تھی اسی طرح دوسری کاروائی کے دوران کمرشل مقامات پر کارخانوں اور فیکٹریوں میں گھریلو میڑوں سے گیس چوری پکڑی گئی جس میں گیس کمپنی نے 105گھریلو میٹر ز قبضے میں لئے گیس کمپنی لاہور ریجن کے جی ایم قیصر مسعود کے مطابق گیس چوری کے خلاف سال بھر کریک ڈاؤن جاری رکھنے سے فیکٹریوں اور کارخانوں میں بڑے پیمانے پر گیس کی سپلائی لائنوں کوکٹ لگاکریافیک لائنیں ڈال کر گیس چوری کے واقعات میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال کی نسبت مالی سال 2017-2018 میں جعلی نیٹ ورک کے واقعات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ گیس چوروں کے خلاف جولائی 2017 سے اب تک گیس چوروں کے خلاف 150 مقدمات درج کروائے گئے ہیں جبکہ دوکروڑ سے زائد کے گیس چوروں کوجرمانے کیے گئے ہیں جس سے گیس چوری شرح میں کمی اور یوایف جی کی شرح بھی کافی حد تک کم ہوئی ہے ۔

گیس ،چھاپے

مزید : میٹروپولیٹن 1