فلسطینیوں سے انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

فلسطینیوں سے انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں

پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے جامع حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بنیاد فلسطینیوں کے ساتھ انصاف پر ہونی چاہئے۔ انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں ہے،اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے عالمی ادارے میں ایک مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حقیر مفادات اور غلط مفروضوں پر مبنی یک طرفہ اقدامات نے خطے کے عوام کو صرف مصائب میں مبتلا کیا ہے،انہوں نے کہا دو ریاستی حل دُنیا کے سامنے روندا جا رہا ہے۔

امریکہ کے بہت سے سابق صدور بالآخر اِس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ فلسطینیوں کی آزاد، خود مختار ریاست کے بغیر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی فلسطینیوں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔سابق صدر جمی کارٹر نے بہت سے عالمی فورموں پر اور اپنے تحریر کردہ مضامین میں اپنی اِس رائے کا اظہار کیا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر آزاد خود مختار ریاست کا قیام ناگزیر ہے،لیکن موجودہ صدر ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی اسرائیلی خوشنودی کے لئے دو ریاستی حل کو خیر باد کہہ کر یہ حکمتِ عملی اپنا لی ہے کہ اس کے بغیر بھی امن کا قیام ممکن ہے، اِس مقصد کے لئے وہ اپنی طے کردہ ڈپلومیسی کو آگے بڑھا رہے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں اُردن میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے جو ملاقاتیں کی ہیںیہ بھی فلسطینیوں پر امریکہ اور اسرائیل کا تیار کردہ کوئی حل ٹھونسنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اِس مقصد کے لئے امریکہ نے سعودی عرب کو قائل کر لیا ہے یا سعودی ولی عہد خود ہی اِس جال میں پھنس کر امریکہ کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ ہفتوں میں فلسطین،فلسطینیوں اور اسرائیل کے بارے میں جو خیالات سامنے آئے ہیں وہ سعودی عرب اور عالم اسلام کے اب تک کے معلوم موقف کے برعکس اور متضاد ہیں، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں میں درشت لہجہ بھی اختیار کیا،جس کا مقصد بظاہر یہ لگتا ہے کہ فلسطین کے رہنما وہ حل قبول کر لیں،جس کی راہ امریکہ اور اسرائیل ہموار کر رہے ہیں اور جس کو بظاہر سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے حامی ممالک بھی اس میں سعودی عرب کے ہم آواز ہیں،یہ حل جو بھی ہو اس میں آزاد فلسطینی ریاست کا کوئی تصور موجود نہیں ہے اور ستر سال سے دربدر فلسطینیوں کو کوئی نیا لالی پاپ دے کر اس حل کو قبول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عجیب منطق ہے کہ اسرائیل کا ناجائز وجود تو فلسطین کی سرزمین پر قائم کیا جائے اور زمین کے اصل وارثوں کو اُن کے حقوق سے محروم رکھ کر عشروں تک اذیت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے، فلسطینیوں نے ان برسوں میں لاکھوں شہدا کی جو قربانیاں دی ہیں اور جو عذاب جھیلے ہیں ان سب کو بالائے طاق رکھ کر اگر کوئی انہیں یہ سبق پڑھانے کی کوشش کرے کہ اسرائیل کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے تو یہ فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہو گا۔خاکِ فلسطین پر اسرائیل کو اگر حق حاصل ہے تو ہسپانیہ پر اہلِ عرب کا حق کیوں نہیں ہے؟لیکن اگر کوئی اِس پس منظر میں ہسپانیہ کی بات کرے گا تو کیا منطق و فلسفے کا راگ الاپنے والے اسے قبول کر لیں گے؟طویل بحث و تمحیص اور اپنے تھنک ٹینکوں کی سالہا سال کی تحقیق و جستجو کے بعد بہت سے امریکی صدور اگر دو ریاستی حل پر متفق ہو گئے تھے تو عالمی طاقت کی حیثیت سے امریکہ کا فرض تھا کہ وہ اسرائیلی قیادت کو اس پر قائل کرتا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی ریاست کا حق بھی تسلیم کر لے،کیونکہ اسرائیل اگر اِن فلسطینیوں کو اپنی ریاست کا شہری ماننے کے لئے تیار نہیں ہے تو پھر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔سابق صدر اوباما اِس معاملے پر پیش رفت کا ارادہ رکھتے تھے، لیکن جب ٹرمپ صدر منتخب ہو گئے تو انہوں نے برسوں کی عرق ریزی سے تیار کردہ اِس سکیم کو ریورس کر دیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے حامی یا زیر اثر ممالک کے تعاون سے فلسطینیوں کو اُن کے حقوق سے محروم کرنے کے لئے ایک نئی سازش تیار کرنا شروع کر دی، جس پر آج کل کام ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ متحرک سعودی ولی عہد ہیں،جن کی مملکت کے اندر سرگرمیوں کو بھی تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا اور کئی عرب ممالک اُن کی اسرائیل کے حق میں نرم گوئی کو بھی پسند نہیں کر رہے،لیکن وہ امریکہ کو خوش رکھنے کے لئے اس کے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں کچھ ممالک اور اُن کے حکمرانوں کو ساتھ ملا کر اگر یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دُنیا میں انصاف کے پیمانے بدل گئے ہیں اور وہ اب اُن کی چالوں میں آ کر ظلم کو انصاف کا نام دینے پر تیار ہو جائیں گے تو یہ اُن کی بھول ہے۔ فلسطینیوں نے اگر اپنی ہی سرزمین پر اسرائیل کا وجود اِس شرط سے گوارا کرنا منظور کر لیا ہے کہ جارح اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی ریاست بھی قائم کر دی جائے، تو اسرائیل اور امریکہ کو اسے غنیمت سمجھنا چاہئے تھا اور کوشش کرنی چاہئے تھی کہ اس پر عملدرآمد ہو جائے،کیونکہ اس طرح فلسطینیوں کی اشک شوئی کر کے ان کو اپنے حصے سے بہت کم پر آمادہ کیا جا سکتا تھا،لیکن امریکہ نے اسرائیل کی محبت میں یہ سمجھ لیا کہ فلسطینی نسلوں کی دربدری سے تنگ آ کر امریکہ کے انتہائی غیر منصفانہ فارمولے کو بھی قبول کر لیں گے،تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ پاکستانی مندوب نے بالکل درست کہاہے کہ انصاف کے بغیر کوئی امن نہیں،اگر امریکہ سمجھتا ہے کہ ظلم کے ساتھ بھی امن قائم کیا جا سکتا ہے تو اس نے دُنیا کی تاریخ کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے، زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ کیا امریکہ نے عراق اور شام پر حملہ کر کے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کر دیا۔ امریکہ اور نیٹو ممالک سولہ سال سے افغانستان میں پتھروں سے سر پھوڑ رہے ہیں اور ابھی تک وہاں امن کا قیام ممکن نہیں ہو سکا، اگر انصاف کے بغیر ایسا ہو سکتا تو امریکہ بزورِ قوت وہاں امن قائم کر چکا ہوتا۔مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں روٹھا ہوا امن واپس لا سکتا ہے۔اگر سعودی عرب کے جواں سال شہزادے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ڈرا دھمکا کر امریکی منصوبہ منوا لیں گے تو وہ بھی سع�ئ نامسعود کر کے دیکھ لیں، انہیں ناکامی کا مُنہ ہی دیکھنا پڑے گا۔

مزید : رائے /اداریہ