ماتحت عدلیہ سے بلاخوف و خطر فیصلوں کی توقع

ماتحت عدلیہ سے بلاخوف و خطر فیصلوں کی توقع

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یاور علی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ماتحت عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ججوں کو انصاف کی فراہمی کے لئے بلاخوف و خطر آئین کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے 21نئے سول ججوں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ انصاف کی فراہمی مقدس فریضہ ہے۔ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ججوں کے فرائض کا بنیادی حصہ ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جن 21 نئے سول ججوں سے حلف لیا، ان کا انتخاب چھ ہزار امیدواروں میں سے کیا گیا، ان میں ایک سول جج نابینا بھی ہے۔ پہلی مرتبہ کسی نابینا جج نے شرکت کر کے امتحان پاس کیا اور انٹرویو میں بھی پورے نمبر حاصل کئے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماتحت عدلیہ میں سول ججوں کی تعیناتی کے لئے کس قدر سختی سے میرٹ کا خیال رکھا گیا۔ سول ججوں کو نظامِ انصاف میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ہمارے ہاں مقدمات کی بھرمار رہتی ہے۔ ججوں کی کمی کا مسئلہ بھی درپیش رہتا ہے، اس لئے عدالتوں میں بڑی تعداد میں مقدمات زیر التواء رہتے ہیں۔ یہ مسئلہ حل کرنے کے لئے ماتحت عدلیہ میں ججوں کی تعداد کو ترجیحی بنیادوں پر بتدریج بڑھاتے رہنا چاہیے۔ وکلاء کی صلاحیتوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ماضی میں یہ شکایت رہی کہ سول ججوں میں مقدمات کی سماعت کرنے اور فیصلے لکھنے کی صلاحیتوں میں کمی سے دشواریاں ہوتی تھیں چنانچہ سیشن کورٹ میں مقدمات کا دباؤ برداشت کیا جاتا رہا۔ اب صورت حال خاصی مختلف ہے کہ گزشتہ آٹھ دس سال کے دوران ماتحت عدلیہ کے ججوں کا معیار نسبتاً بہتر ہو گیا ہے۔ جوڈیشل اکیڈمی میں نئے ججوں کی تربیت پر بھی زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت کا دورانیہ بڑھا کر چھ ماہ کر دیا گیا ہے ، اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔جہاں تک ماتحت عدلیہ کے ججوں کے بلاخوف و خطر فیصلے دینے کی بات ہے، اس کی تلقین سے ججوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ توقعات پر پورا اترنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، تاہم پچھلے چار پانچ سال کے دوران بعض وکلاء کی جانب سے ماتحت عدلیہ میں ججوں پر دباؤ کے لئے جو طرزعمل اختیار کیا جاتا رہا، اس کے لئے لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو مداخلت کرنا پڑی۔ ضروری ہے کہ ججوں کی عزت نفس اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے وکلاء قیادت سے افہام و تفہیم کے ذریعے بنیادی اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، تاکہ نہ تو کسی کورٹ روم یا ریٹائرنگ روم میں کسی وکیل کے جذباتی ہونے کا واقعہ پیش آئے اور نہ ہی کورٹ روم کو تالا لگانے کی نوبت آئے۔ اس کے جواب میں جب غلط طرزعمل کے ذمے دار وکلاء کے خلاف ایکشن ہوتا ہے تو بعض اوقات صورت حال الجھ کر سنگین ہو جاتی ہے۔ سول ججوں،سیشن ججوں اور وکلاء کا باہمی احترام، بار اور بنچ کے طے شدہ اور مروجہ اصولوں کے مطابق معمول بنانے کی ضرورت ہے۔ ججوں کو یہ شکایت درپیش رہی ہے کہ بعض وکلاء اپنی مرضی کے مطابق مقدمے کی سماعت اور اپنے موکل کے حق میں فیصلوں کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں۔اس سے وکلاء کاامیج خراب ہوتا ہے۔ دباؤ کے تحت لئے گئے فیصلوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اگرچہ ایسی شکایات کی شرح بہت کم ہے مگر اس کا خاتمہ ہونے سے ججوں کو آزادانہ اور بلاخوف و خطر فیصلے دینے کا موقع ملے گا۔ ان مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دینے اور اطمینان بخش ماحول کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ