اقتدار کیلئے کیوں، عوام کے مسائل کا سوچیں!

اقتدار کیلئے کیوں، عوام کے مسائل کا سوچیں!
اقتدار کیلئے کیوں، عوام کے مسائل کا سوچیں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

الیکشن کمیشن کے فیصلوں، عبوری حکومت کی یقین دہانی اور چیف آف آرمی سٹاف کی طرف سے تعاون کے اعلان اور انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں کی سرگرمیوں سے تویہی واضح ہوتا ہے کہ ملک میں عام انتخابات مقررہ وقت پر ضرور ہوں گے، اس کے باوجود اب بھی بعض حلقے شک کا اظہار کرتے اور چند لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انتخابات کا تو منصوبہ ہی نہیں ہے، عبوری دور طویل ہو جائے گا، ان حالات میں عوام کی سوچ میں بتدریج تبدیلی آتی جارہی ہے اور اکثر لوگ اب انتخابات سے زیادہ پیٹ کی فکر میں ہیں، کیونکہ معاشی اور اقتصادی میدان میں جو ہورہا ہے اس نے عوام کی درگت بنادی ہے، مہنگائی کا طوفان ہے جو تھمتا ہی نہیں، اب تو زیادہ اثرات کھانے پینے کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ پر مرتب ہورہے ہیں، یہاں دالیں، گھی وغیرہ تو پہلے ہی گراں تھے اب پھل اور سبزیاں بھی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں، اس کا اندازہ یوں لگالیں کہ گھیا جیسی سبزی علاقائی دوکانوں پر اسی روپے کلو فروخت ہورہی ہے، برائلر مرغی کے نرخ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، آٹے کے نرخ اعلانیہ طور پر بڑھا دیئے گئے ہیں، پٹرولیم کی قیمتیں تو گزشتہ چھ سات ماہ سے بڑھتی چلی جارہی ہیں اور اب تک 40روپے فی لیٹر تک کا مجموعی اضافہ ہوچکا ہے۔

ان تمام حالات کے ساتھ ہی ملک کو درپیش اندرونی تخریب کاری اور بیرونی مداخلت کے واضح اور سنگین خطرات موجود ہیں، مغربی اور مشرقی سرحدوں پر صورت حال سنگین اور اندرون ملک دہشت گردی میں اضافہ ہوا، تخریب کاروں نے بلوچستان میں سرگرمیاں تیز کیں تو وزیرستان میں سیاسی انداز سے بے چینی پیدا کرنے کی مسلسل کوشش ہورہی ہے، انہی حالات میں ملک کے بڑے اور چھوٹے شہروں میں راہزنی، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، پولیس ان جرائم پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے، دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ لاہور میں تربیت اور مراعات یافتہ ڈولفن فورس نے اب شراب کی بوتلیں برآمد کرنا شروع کردی ہیں، ان سے کوئی ڈاکو، قاتل اور راہزن تو پکڑا نہیں گیا البتہ عام شہری ان کے تشدد کا ضرور شکار ہورہے ہیں۔

انہی حالات میں انتخابی مہم جاری ہے، بڑی جماعتیں اقتدار کا دعویٰ کررہی ہیں، ہر کوئی اپنی جماعت کے حوالے سے یہی بات کرتا ہے کہ ان کی جماعت برسر اقتدار آ کر دودھ اور شہد کی نہریں بہادے گی، یہ حضرات تنقید ضرور کرتے ہیں لیکن بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت حال کا تجزیہ اور اس پر تبصرہ نہیں کرتے، حتیٰ کہ اب تک ان جماعتوں کی طرف سے نکات کا ذکر کیا جاتا ہے تاہم مکمل منشور سامنے نہیں آئے۔

ان حالات میں امیدوار حضرات کے مالی گوشوارے سامنے آئے تو بحث کے کئی دروازے کھل گئے کہ ان میں سے بھاری اکثریت پرانے حضرات کی ہے جو پارلیمنٹ میں رکن رہے اور اب پھر امیدوار ہیں، کہا یہ جاتا ہے کہ ایک ایم، این، اے کی نشست کا خرچ اب کروڑوں تک پہنچ گیا ہے،

اسی لئے سوال کیا جاتا ہے کہ جو حضرات اتنا خرچ کرکے قومی یا صوبائی اسمبلی میں جائیں گے وہ یہ اخراجات کہاں سے پورے کریں گے؟ لہٰذا کرپشن کی غضب کہانیاں تو انہی وجوہ کی بناء پر سامنے آتی ہیں۔بہرحال یہ عمومی حالات ہیں، جن کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ عام شہری اب بجلی کی لوڈ شیڈنگ اورٹرپنگ کے ساتھ ساتھ گیس کے کم تر دباؤ کا بھی سامنا کررہے ہیں، بجلی کے ترسیلی نظام کا یہ حال ہے کہ گزشتہ روز بارش ہوئی تو مصطفیٰ ٹاؤن اور نواحی علاقوں کی برقی رو ٹمٹما کر بند ہوگئی اور پھر سات گھنٹوں تک واپس نہ آئی، جبکہ بار بار کی شکائتوں کے باوجود گیس کے دباؤ میں اضافہ نہیں ہوا اور خواتین کو کھانا پکانا محال ہوگیا ہے۔ان حالات میں سیاسی جماعتوں کو تو اقتدار کی سوجھتی ہے اور وہ دعوے بھی کرتی ہیں لیکن عمل میں محاذ آرائی پر کمربستہ ہیں اور ٹکٹوں کی تقسیم اس انداز سے کی کہ ان کے دیانت والے نعروں کی نفی ہو جاتی ہے، ایسے میں بات جمہوریت کی کی جاتی ہے، سینئر سیاست دان کہتے ہیں دو بار اقتدار مکمل ہوا، مزید چلنے دیں تو یقیناً جمہوری کلچر پیدا ہو جائے گا، ایسے میں ہمیں بابائے اتحاد اور جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان یاد آجاتے ہیں جن کا فلسفہ حیات یہ تھا کہ جمہوریت کو چلنے نہیں دیا جاتا اگر ایسا نہ ہو اور انتخابات ہوتے رہیں تو نظام مستحکم ہو جائے گا اور ووٹر اپنا حق رائے دہی درست طور پر استعمال کریں گے، اللہ ان کی قبر ٹھنڈی کرے اگر ایسا ہوگیا تو ان کی آخری آرام گاہ یقیناًمزار بن جائے گی اور پھر سالانہ عرس ہوا کرے گا تاہم حالات حاضرہ سے ایسا یقین ذرا مشکل ہے اگرچہ بعض حلقے کے نوجوانوں نے سابقہ اراکین اور پھر سے امیدواروں کے لتے بھی لئے ہیں۔

یہ سب تو دل جلانے کی باتیں ہیں اور سینے کا غبار ہی ہلکا کیا ہے، معروضی حالات میں سوال تو یہ ہے کہ انتخابات ہوں گے؟(یقیناً ہونا چاہئیں) ہوں گے تو نتائج کس قسم کے برآمد ہوں گے، اس سلسلے میں قیاس کے گھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں،جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو معلومات اور حالات کے تجزیئے کے بعد یہی اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ سازوں نے اپنا کام کردیا، حالات بنادیئے کہ پارلیمان معلق ہو، کسی کو واضح اکثریت نہ ملے، مخلوط حکومت بنے اور مسلسل غیر مستحکم رہے، ایسے میں اب بھی خدشات ہی کا اظہار کیا جارہا ہے کہ گیند الیکٹ ایبلز( جیت کے اہل) کی کورٹ میں پھینک دی گئی ہے اور بڑے بڑے نظریاتی دعوؤں والے بھی اس رو میں بہہ گئے ہیں، خصوصی طور پر تحریک انصاف کا تو اب دارومدار ہی ان حضرات پر ہے، یہ صنف تو ذوالفقار علی بھٹو کو بیچ منجد ھار چھوڑنے کا ریکارڈ رکھتے ہوئے، محمد نواز شریف سے بھی بے رخی کا مظاہرہ کرچکی ہو ہے اور اب پھر انہی پر ’’تبدیلی‘‘ کے لئے انحصار کیا جارہا ہے۔(اللہ رحم کرے) تاہم عوامی رائے ذرا مختلف انداز میں ترتیب پارہی ہے، خصوصی طور پر شہروں میں ان ’’جیت کے اہل‘‘ والوں کے خلاف رد عمل ہے، تو دیہات میں پڑھ لکھ گئے نوجوان بھی ’’بغاوت‘‘ پر آمادہ ہیں اس لئے ہمارا اندازہ ہے کہ ان انتخابات میں ان ’’الیکٹ ایبلز( جیت کے اہل) کی اہمیت میں بہت واضح کمی دیکھنے میں آئے گی جو مستقبل کے انتخابات کے لئے مفید ہوگی، بہرحال محمد شہباز شریف کی یہ رائے درست نظر آئی کہ انتخابات کے بعد کوئی بھی جیتے، قومی حکومت بننا چاہئے ہم تو ان سطور میں عرصہ سے مسلسل یہی درخواست کرتے چلے آرہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم