خیبرپختونخوا میں تبادلوں کی بے فیض مشق

خیبرپختونخوا میں تبادلوں کی بے فیض مشق
خیبرپختونخوا میں تبادلوں کی بے فیض مشق

  

عام انتخابات کی مہم کے دوران جہازی سائز کے پینا فلیکس،ہولڈنگ اور پوسٹرز کی بہار جمہوی عمل میں شہریوں کی پُرجوش تلویث اور زندگی کی بوقلمونی کا پتہ دیتی ہے،اگرچہ نت نئے قوانین و ضوابط کے ذریعے جمہوری آزادیوں کو پابہ زنجیر بنانے کی شعوری کوششیں اور انتخابی سرگرمیوں کے اردگرد منڈلاتے دہشت گردانہ حملوں کے خطرات کم نہیں ہوئے، لیکن اس کے باوجود پچھلے دس سال میں معاشرے کا سیاسی شعور بڑھا اور جمہوری روایات کی جڑیں گہری ہوئی ہیں،چنانچہ تمام تر خرابیوں کے باوجود دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے انعقادکا تاریخی مرحلہ سماج کے اجتماعی نظم کو توانا و فعال بنانے کا وسیلہ بنے گا،تاہم انتخابی سرگرمیوں کے ریگولیٹ کرنے میں خیبر پختون خوا کی عبوری حکومت نے اپنے مینڈیٹ اور دائرہ عمل کو سمجھے بغیر معمول کے ان کاموں کو بھی پیچیدہ بنا دیا جنہیں سکشن افیسرکی سطح کا اہلکار بھی بخوبی سرانجام دے سکتا تھا،ول ڈیورانٹ کہتے ہیں کہ ، قواعد و ضوابط کے پردوں میں جدید انسان کی جہالت چھپی ہے،اس لئے یہ دیانت کم اور جرات زیادہ استعمال کرتا ہے‘‘۔ہماری عبوری حکومت نے بظاہر انتخابی عمل کو غیر جانبدارانہ، منصفانہ اورشفاف بنانے کی خاطر بیورو کریسی اور پولیس میں تبادلوں کا جو سوانگ رچایا وہ خود فریبی کا دلچسپ نمونہ ثابت ہوا کیونکہ اسی پیش دستی نے کارپردازوں کی نااہلی اور نیت کے فتورکا پردہ چاک کر دیا، صوبائی حکومت نے اہم پوسٹوں پر تعینات پچھلی حکومت کے منظور نظر افسران کو نہیں چھیڑا ،لیکن جن پولیس اور انتظامی افسران کے تبادلوں کا ہنگامہ کھڑا کیا، انہیں بھی محض ری ایڈجسٹمنٹ تک محدود رکھا،گویا یہاں تحریک انصاف حکومت کی وفادار انتظامیہ ہی الیکشن کا انعقادکرائے گی،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ نگراں حکومت نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے چہیتے افسران کو تبدیل کرنے کی بجائے صرف ری ایڈجسٹمنٹ کرنے پر اکتفا کر کے اس حساس صوبہ میں نئی روایت قائم کر ڈالی۔

البتہ ایک مقتدر شخصیت نے جس کا بیٹا لیبر ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہے،اپنی ذاتی رنجش کی بنا پر صرف لیبر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ماحولیات کے سیکریٹریز کو تبدیل کرا دیا، لیکن داخلہ،خزانہ،پی اینڈ ڈی، تعلیم، بلدیات،سپورٹس اینڈ کلچر،سی اینڈ ڈبلیو، ٹرانسپورٹ اور اوقاف جیسے اہم محکموں کے سیکریٹریز اور پشاور سمیت سنٹرل ڈویژنز کے کمشنر بدستور اپنے عہدوں پر براجماں ہیں۔حیرت انگیز طورپر کمشنر ڈیرہ کو کمشنر بنوں،آر پی او بنوں کو آر پی او ڈیرہ اور آر پی او ڈیرہ اسماعیل خان کو آر پی او بنوں،آر پی او ہزارہ کو آر پی او مالاکنڈ اور آر پی او مالاکنڈ کو آر پی او مردان اورآر پی او مردان کو آر پی او ہزارہ تعینات کر کے انتظامی ڈھانچہ کو بدلنے کی بجائے عملاً صرف 30 افسران کی ری ایڈجسٹمنٹ کی گئی،اگر متذکرہ بالا افسران کو ایک سے دوسرے ریجن میں ایڈجسٹ ہی کرنا تھا تو پھر تبادلوں کی اس بے فیض مشق کی ضرورت کیا تھی؟اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق حالیہ تبادلوں میں صرف انیس پولیس آفیسرز، آٹھ کمشنر اور تین ڈپٹی کمشنرز کو ری ایڈجسٹ کیا گیا،صوبہ میں تعیناتی کے منتظر سینکڑوں افسران آج بھی اسی طرح نظرانداز کئے گئے، جس طرح پی ٹی آئی عہد حکومت میں انہیں کھڈے لائن لگایا گیا تھا،اس مہمل مساعی کے بعد سول بیوروکریسی میں اضطراب بڑھ گیا اور صوبائی حکومت کی ساکھ پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔

اس کے برعکس پنجاب میں جس بے رحمی کے ساتھ سیکرٹریز سے لے کر ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنرز اور اور آئی جی پی سے لے کر انسپکٹرز تک کے اہلکاروں کے بلاتفریق تبادلے ہوئے اس سے چند دنوں کے اندر مسلم لیگی دور کا پورا انتظامی ڈھانچہ معدوم ہو گیا،پنجاب کی عبوری حکومت نے چونتیس سے زیادہ افیسرز وفاق کو سرنڈر کئے جن میں اٹھارہ سینئر پولیس افسران بھی شامل تھے، لیکن خیبر پختون خوا سے کسی ایک ڈی ایم جی یا پولیس آفیسر کو وفاق کے حوالے نہیں کیا گیا۔بہرحال! ان ساری لن ترانیوں کے علی الرغم انتخابی سرگرمیوں کی طاقتور لہر اپنی پوری توانائی کے ساتھ اجتماعی زندگی کے فطری رجحانات کو حرکت کناں کرکے معاشرتی تضادات میں توازن پیدا کرنے میں سرگرداں نظر آتی ہے،اس دفعہ خیبرپختون خوا کے (15.32 Millions) ڈیڑھ کروڑ ووٹوں میں 25 فیصد نوجوان ووٹرز کا اضافہ ٹرن آوٹ بڑھانے اور انتخابی مہم کے خروش میں اضافہ کا سبب بنے گا،انتخابی عمل کی مانیٹرنگ کرنے والی تنظیموں کے سروے کے مطابق قوانین سے آگاہی اور سیاسی شعور بڑھنے سے الیکشن میں دھاندلی کے امکانات کم اور شخصیت پسندی کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوئی،ووٹرز کی قابل لحاظ تعداد اب سیاسی ہیروز کی بجائے مملکت کی تعمیر و ترقی اور معاشرتی فلاح کے پروگرام پیش کرنے والی جماعتوں کی پیروی کرتی ہے۔

تازہ ترین سروے کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے مابین کم و بیش ون آن ون مقابلہ کی توقع ہے، لیکن سندھ، خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں منقسم مینڈیٹ مخلوط حکومتوں کے قیام کی راہ ہموار بنائے گا، خیبرپختون خوا کی 99 صوبائی نشستوں میں سے، کوہاٹ سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے سات جنوبی اضلاع کے21 حلقوں میں ایم ایم اے کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا ہے، تاہم وسطی خیبرپختون خوا کے پانچ گنجان آباد شہروں، پشاور، چارسدہ، مردان، صوابی اور نوشہرہ کی 38 نشستیں، حکومت سازی میں بنیادی کردار ادا کریں گی، پشاور ویلی میں پی ٹی آئی اور ایم ایم اے میں گھمسان کا رن پڑنے کا امکان ہے ،لیکن یہاں اے این پی،قومی وطن پارٹی،مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے محدود ووٹ طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں،متحدہ مجلس عمل نے اگر وسطی اضلاع میں مسلم لیگ (ن) اور اے این پی سے سیٹ ایڈجسمنٹ کر لی تو نتائج حیران کن بھی ہو سکتے ہیں،تاہم تحریک انصاف انہی پانچ وسطی اضلاع سے زیادہ نشستیں ملنے کی امید لگائے بیٹھی ہے ،لیکن داخلی خلفشار اور ناقص انتخابی حکمت عملی کی بدولت پی ٹی آئی تاحال وسطی اضلاع کے آزاد ووٹرز کی توجہ حاصل کر پائی نہ انتخابی مہم کو مومنٹم دینے میں کامیاب ہو سکی۔

سوات ،مالاکنڈ اور چترال کی24 نشستوں پر ایم ایم اے اور پی ٹی آئی کے علاوہ مسلم لیگ(ن) کے کئی امیدواروں کی پوزیشن بھی مضبوط ہے۔ ہزارہ ڈویژن کی 16 صوبائی نشستوں پر اگرچہ مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری سمجھا جاتا ہے ،لیکن اس بار ہزارہ میں بھی مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں سخت مقابلہ ہو گا۔2013ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے35،جے یو آئی نے 13،جماعت اسلامی نے 7 اور مسلم لیگ (ن) نے 13 نشستیں حاصل کیں، اسی طرح قومی وطن پارٹی نے 7، اے این پی نے4، پیپلزپارٹی نے 3،جنرل مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ نے 1 اور 12 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے جن کی اکثریت نے حکمراں جماعت کو جوائین کر لیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی تبدیلی مفید فریب کے سوا کچھ نہیں تھا کیونکہ سیاسی طاقت فقط شکل بدلتی ہے اپنی فطرت نہیں بدلتی(جیمز سٹیفن)، اس لئے تحریک انصاف کی قیادت، جس نے اپنی پیٹھ پر جمہوری نظام کے زخم نہیں کھائے،باغیانہ مسرت کی تلاش میں سرگراں رہی، بلاشبہ واقعات کا پس منظر ہی حقائق کے ادراک کا واحد طریقہ ہے،پی ٹی آئی نے اپنی فطری حلیف،جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کو نظرانداز کر کے تنہا میدان میں اترنے کا فیصلہ کر کے اس صوبہ کی سیاست کو سمجھنے میں اپنی کم مائیگی کا تاثر گہرا کیا۔ کہنہ مشق تجزیہ کاروں کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مخالف سیاسی قوتوں کے غیراعلانیہ اشتراک کے باعث اس بار تحریک انصاف کی سیٹیں کم اور ایم ایم اے کی نشستیں بڑھ سکتی ہیں۔کیا ایم ایم اے ایک بار پھر سیاسی قوت بن کے ابھرنے والی ہے؟ جی ہاں،اس پرزور اور پیچیدہ عہد میں اگرچہ مذہبی جماعتیں سیاسی محرکات پر پردہ ڈالنے کی خاطر مذہب کو استعمال کرتی رہیں، لیکن ایم ایم اے نے عملاً مذہبی نعروں کو ترک کر کے انسانی دکھوں کے مداوا،سماجی انصاف اور معاشرتی فلاح کو اپنے منشور کا حصہ بنا کے خود کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر لیا،مولانا فضل الرحمٰن جیسے عملیت پسند سیاستدان جو مذہبی جماعتوں کو سایوں کا تعاقب کرنے والی مزاحمتی تحریکوں کی وادی پُرخارسے نکال کے اقتدار کے گلستانوں تک لے آئے،وہ اب طاقت کے مراکز کے قریب اور اقتدار کی حرکیات کو سمجھے والے سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔چنانچہ قوی امکان ہے کہ ایم ایم اے خیبر پختون خوا کے علاوہ بلوچستان اور سندھ میں بھی بہتر نتائج لائے۔

مزید : رائے /کالم