کرپشن کی دیمک: مسئلہ نمبرایک

کرپشن کی دیمک: مسئلہ نمبرایک
کرپشن کی دیمک: مسئلہ نمبرایک

  

تمام دوسرے پاکستانیوں کی طرح میری خواہش بھی یہی ہے کہ پاکستان سے لوٹا گیا پیسہ واپس خزانے میں آئے۔ چیف جسٹس نے قرضہ معافی کیس کی سماعت کے دوران بھی یہی ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستان کو قرضے ادا کرنے کے لئے پیسے کی اشد ضرورت ہے۔

اس لئے ہم اس سے غافل نہیں رہ سکتے۔ اُدھر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ہم نے اب تک 14 ارب روپے لٹیروں سے واپس نکلوائے ہیں۔

یہاں جتنے بھی امیدوار انتخابات میں حصہ لینے کے لئے میدان عمل میں آئے ہیں ان میں سے شاید ہی کوئی کروڑ پتی سے کم ہو، ابھی یہ کروڑ پتی وہ ہیں جنہوں نے اپنی جائیدادوں کی قیمت کوڑیوں برابر لگائی ہے۔

اصل میں یہ سب ارب پتی ہیں، مولانا فضل الرحمن کے اثاثوں کی تفصیل دیکھ کر ان کی سادگی پر رحم آتا ہے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ وہ بھی ارب پتی نکلیں گے، مگر انہوں نے تو خود کو تقریباً لکھ پتی ظاہر کیا ہے۔ ان کے پاس گاڑی تک نہیں، حالانکہ وہ پراڈو سے کم پر سفر نہیں کرتے۔۔۔ تو صاحبو! بیان حلفی میں دیئے گئے اعداد و شمار کا بھید تو بعد میں کھلے گا لیکن عملاً یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان غریب ہے،مگر اس کے عوامی نمائندے بہت امیر ہیں۔ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اس کے نام پر سیاست کرنے والے یا تو قرضے لے کر کھا گئے ہیں یا پھر اتنے مالدار ہیں کہ مل کر پاکستان کا قرضہ آسانی سے اتار سکتے ہیں۔ مجھے ایک معاصر میں یہ خبر پڑھ کر بڑی خوشی ہوئی کہ نیب اگلے ہفتے سے اپنی کاررورائیاں جیٹ کی رفتار سے تیز کرنے والا ہے۔

مَیں تو پہلے بھی اپنے کالموں میں بار ہا کہہ چکا ہوں کہ احتساب کچھوے کی رفتار سے چل رہا ہے اور لوٹ مار ایف 16 کی رفتار سے ہو رہی ہے، ان دونوں میں جب تک تال میل نہیں ہوگا، کوئی مثبت نتیجہ کیسے نکلے گا۔

عوام روزانہ نیب کے بورڈ آف ایگزیکٹو کے اجلاسوں کی روداد پڑھتے ہیں کہ فلاں فلاں کیسوں کی تیز رفتار تفتیش کا حکم دیا گیا یا فلاں شخصیات کے بارے میں تحقیقات کی اجازت دی گئی۔ کنویں کے رہٹ کی طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے اور نتیجہ کچھ نہیں نکل رہا ۔

دس دس بار لوگوں کو نیب کے دفتر بلایا جاتا ہے۔ وہ اکثر آتے نہیں، آتے ہیں تو سوال جواب کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ کیا نیب نے ہوم ورک نہیں کر رکھا ہوتا یا پھر ملزمان ہی اتنے شاطر ہوتے ہیں کہ قابو میں نہیں آتے۔

حالات تو ایسے ہیں کہ نیب کے پاس بیان حلفی کی شکل میں پکی پکائی دیگیں آ گئی ہیں، جنہیں کھولا بھی جا سکتا ہے اور ان میں سے جو اشتہا انگیز خوشبو آ رہی ہے اس سے اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کیا پکا ہے، سب نے اپنا کچا چٹھہ کھول کر رکھ دیا ہے۔ کوئی نہ اس سے مکر سکتا ہے اور نہ اپنے ہی دیئے گئے حقائق کو جھٹلا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن جیسے سیانے تو خود کو بچا گئے ہیں لیکن ان کے غلط اثاثوں پر بھی اعتراضات ہو سکتے ہیں اور معاملہ نا اہلی تک جا سکتا ہے، تاہم جنہوں نے اس نا اہلی کے خوف سے سب کچھ کھول کر بیان کر دیا ہے ان سے تو پوچھ گچھ ہونی چاہئے کہ وہ اپنے اثاثوں کی منی ٹریل دیں، اپنے ارب پتی ہونے کی کہانی بیان کریں۔ اب کئی تو ایسے ہیں کہ انہوں نے زندگی میں صرف چند لاکھ روپے ٹیکس دیا ہے، مگر ان کے اثاثوں کی مالیت ہوش ربا ہے۔

آخر یہ ماجرا کیا ہے کہ اتنا دھن برسا رکھنے کو جگہ نہیں رہی لیکن ٹیکس کے معاملے میں غریب کے غریب ہی رہے ذرا ایف بی آر کو بھی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔ اب تو یہ سارے بیان حلفی ویب سائٹ پر پڑے ہیں۔ لگائیں نا نئی چیئرمین ایف بی آر ایک ٹیم ملک میں چھپے ٹیکس چوروں کا کھوج لگانے پر۔ پوچھیں ناں خواجہ سعد رفیق سے کہ ایک سال میں چار کروڑ کے اثاثے تو بڑھ گئے، اُس تناسب سے ٹیکس کیوں نہیں دیا؟نکالیں ناں ہر سیاستدان کے پچھلے دس برسوں کی تفصیلات اور پوچھیں کہ کیش جائیداد اور زیورات کی مد میں یہ جو کئی سوگنا اضافہ ہوا ہے، اس کی منی ٹریل کیا ہے۔ کہاں سے آیا یہ پیسہ، کون لایا یہ پیسہ؟ آج کل ایف بی آر نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم شروع کررکھی ہے،اُسے اسی سکیم کے تحت بیان حلفی میں کروڑروں روپے کے اثاثے ظاہر کرنے والوں کو نوٹس بھیجنے چاہئیں کہ یا تو وہ انہیں مجوزہ ٹیکس بھر کر قانونی بنالیں یا پھر منی ٹریل ویں کیوں نہ اُن سے اثاثے بڑھنے کے ساتھ ساتھ واجب الا ادا ٹیکس بھی وصول کیا جائے۔

یہ عجیب دلیل بھی ہمارے ہاں ہی استعمال ہوتی ہے کہ الیکشن تک ہر قسم کا احتساب روک دیا جائے، ہر قسم کے قرضے موخر کردیئے جائیں، ہر قسم کی کارروائی معطل کردی جائے، یعنی دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ چوروں، لٹیروں کو انتخابات میں حصہ لینے دیا جائے، اگر وہ منتخب ہوگئے تو اسے عوام کا فیصلہ سمجھ کر قبول کرلیا جائے، نہ ہوں تو اُن کے خلاف دوبارہ کیسزکھول دیئے جائیں۔

راجہ قمر الاسلام کی گرفتاری پر بھی یہی دلیل دی جارہی ہے کہ جب اُن کے کاغذات منظور ہوگئے تھے، تو پھر انہیں نیب نے گرفتار کیوں کیا؟ کیا کاغذات کی منظوری اس بات کا سرٹیفکیٹ ہے کہ اُس کے بعد ہر قسم کی کارروائی روک دی جائے گی، کیا نیب مختلف مواقع اور موسم دیکھ کر کارروائی کیا کرے؟ اُسے احتساب کے موسم کا انتظار کرنا چاہیے۔ چیئرمین نیب نے جب سے یہ انکشاف کیا ہے کہ نیب ہیڈ کوارٹر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے، معاملہ اور زیادہ سنگین اور سنجیدہ ہوگیا ہے، وہ اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائے کہ دھمکی کس نے دی، کس ذریعے سے آئی اور اس کے لئے خفیہ ایجنسیوں کو ملزموں تک پہنچنے کا ٹاسک دیا گیا ہے یا نہیں؟ لیکن یہ بات طے ہے کہ اگر نیب نے واقعی جرأت مندی اور سنجیدگی سے احتساب کا عمل جاری رکھا تو اسے بہت سے چیلنجوں کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا، کیونکہ جس مافیا نے قومی خزانے کو لوٹا ہے، وہ آسانی سے سرنڈر نہیں کرے گا۔ اُس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اور جڑیں بہت گہری ہیں، اُس نے ہمیشہ احتساب کے عمل کو ناکام بنایا ہے اور نیب کو ایک ایسے ادارے کی صورت میں زندہ رکھا جس کے پر کٹے ہوئے تھے، اب نیب نے پر نکالے ہیں تو اسے مزاحمت کا سامنا تو کرنا پڑے گا۔

آج بھی یہ کہنے والے ہر جگہ مل جائیں گے کہ پاکستان میں طاقتوروں اور دولت والوں کا احتساب نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک فضول خواہش ہے جو قوم نے پال رکھی ہے۔ اس خواہش کا سر ہے نہ پیر۔ بس ایک خواہش ہے جو ہر دو چار سال بعد قوم کے اندر بیدار ہوتی ہے، چند سرکاری ادارے تھوڑی بہت پھرتی دکھاتے ہیں، پھر سب لسی پی کر سو جاتے ہیں۔

آج سپریم کورٹ کو میاں ثاقب نثار جیسے چیف جسٹس ملے ہیں تو کرپشن میں لتھڑے اور قرضہ معاف کرانے والے مافیا میں خوف کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔ گزری ہوئی کل میں یہی سپریم کورٹ تھی، جہاں سے ایسے لوگوں کو حکم امتناعی بھی مل جاتے تھے اور ضمانتیں بھی ہو جاتی تھیں، اب ثاقب نثار تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا، بعد میں نجانے کیا ہو۔

آج نیب بھی بہت تگڑی نظر آتی ہے، اتنی تگڑی کہ اسے بم سے اڑا دینے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، مگر وہ کرپٹ عناصر کے خلاف شکنجہ کسنے کے لئے پُرعزم ہے۔جب نیب آرڈیننس بنایا گیا تھا تو اس میں بطور خاص اس بات کا خیال رکھا گیا تھا کہ نیب کی کارروائی جلد سے جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔تفتیش اور مقدمے کی کارروائی کو ایک ماہ میں نمٹانے کی شق اس لئے رکھی گئی تھی کہ جب یہ معاملہ طویل ہوتا ہے تو ملزموں کو کیس بگاڑنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ویسے بھی کرپشن کے معاملے میں دنیا بھر کے ممالک نے فوری فیصلے کی روایات قائم کر رکھی ہیں۔ چین میں سمری ٹرائل کے بعد کرپشن کیسوں کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔ سزائے موت تک دی جاتی ہے۔اس کے برعکس یہاں کیا ہوتا رہا ہے؟

نیب پندرہ پندرہ سال مقدمات کو لٹکاتا رہا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، ملزم حکمران بنتے رہے، مگر کیس ختم نہ ہوئے۔ آج آصف علی زرداری بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ انہوں نے 9سال قید کاٹی، لیکن ان کے خلاف کوئی ایک کیس بھی ثابت نہ ہو سکا۔ ایک دوسرے کو چور کہنے والے بھی نہ تو ایک دوسرے کو سزا دلوا سکے نہ مال ہی واپس آیا۔ احتساب کو جب سیاست کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا تو نتیجہ یہی نکلے گا۔ احتساب کو تو سارا سال جاری رہنا چاہیے، انتخابات میں جو حصہ لے رہا ہو، اس کے خلاف کارروائی روکنے کا مطالبہ انتہائی بھونڈہ ہے۔

اس کارروائی کا اس کی سیاست سے کیا تعلق ہے! چیئرمین نیب نے کئی بار یہ کہا تو ہے کہ نیب کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں، لیکن وہ نیب کو اتنا سرگرم کردار ادا کرنے کے قابل نہیں بنا سکے، جتنا قوم توقع کر رہی ہے۔ صرف شریف فیملی کے خلاف کیسوں پر ساری توجہ مرکوز کرنے کی بجائے نیب کو تمام بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا چاہیے۔ تفتیش کے عمل کو تیز کئے بغیر بات نہیں بن سکتی۔

پھر نیب کو یکساں پالیسی بھی اختیار کرنی چاہیے۔ پہلے بھی یہ اعتراض ہوتا رہا ہے کہ نیب کی سندھ کے لئے پالیسی اور ہے اور پنجاب کے لئے اور۔۔۔ اگر احتساب کو شفاف بنانا ہے تو یکساں پالیسی رائج کرنا ہوگی۔ شخصیات کو دیکھ کر فیصلے نہیں کرنے ہوں گے، بلکہ میرٹ پر فیصلوں کو یقینی بنانا پڑے گا۔ کرپشن نے دیمک کی طرح پاکستان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔

اس کے خاتمے کو قومی ترجیح بنائے بغیر نہ تو ہم شفاف جمہوریت لا سکتے ہیں اور نہ ہی مستحکم سیاسی نظام، یہ سب سے بڑی حقیقت ہے جس سے نظریں چرانا قومی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

مزید : رائے /کالم