پاکستان کا پہلا مشاہداتی سیارہ!

پاکستان کا پہلا مشاہداتی سیارہ!
پاکستان کا پہلا مشاہداتی سیارہ!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ویسے تو ہم پاکستانیوں کے لئے یہ خبر بڑی خوش آئند ہے کہ پاکستان اگلے ماہ (جولائی 2018ء میں) اپنا پہلا خانہ ساز مشاہداتی سیارہ فضا میں چھوڑ رہا ہے، لیکن اس کا کیا علاج کہ آج کل الیکشنوں کا بخار پوری قوم کو چڑھا ہوا ہے اور ایسے میں اگر کوئی خبر انتخابی حوالوں سے بھٹک کر اِدھر اُدھر ہوجاتی ہے تو اس کو میڈیا میں پذیرائی نہیں ملتی۔

اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا کہ جے ایف 17تھنڈر طیارے کی خانہ ساز پروڈکشن کے بعد اگر کوئی خبر پاکستان کے لئے دوررس اور امید افزا ہے تو وہ اس مشاہداتی (Observatory) سیارے کی خانہ ساز پروڈکشن اور اس کا خلا میں چھوڑا جانا ہے۔

یہ کارنامہ بھی جے ایف 17کی طرح چین کی مدد اور اس کے تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ اس کی تیاری میں جو حساس پرزہ جات استعمال ہوتے ہیں، وہ کمیاب بھی ہیں اور گراں قیمت بھی ہیں۔ انڈیا اس فیلڈ میں ہم سے تقریباً نصف صدی آگے ہے۔ اس نے 1970ء کے عشرے ہی میں اس فیلڈ پر کام کا آغاز کر دیا تھا۔

لیکن بدقسمتی سے خلائی سائنس کا مضمون ہمارے اعلیٰ تدریسی اداروں میں زیادہ بار نہیں پا سکا۔ ہمارے مقابلے میں بھارت سے اگلے روز یہ خبر آ چکی ہے کہ وہاں کالج کے چار پانچ طلباء نے ایک سال کی کوششوں کے بعد اپنے اساتذہ کی زیر نگرانی ایک ایسا سیارہ بنا لیا ہے جس کا حجم بہت ہی کم ہے۔

اگر آپ نے کبھی چائے میں شوگر کیوب استعمال کی ہو تو اس کے حجم کو ذہن میں لائیں اور اگر اس کو دگنا کر دیں تو اس کا سائز پھر بھی ایک بڑی شوگر کیوب سے زیادہ نہیں ہوگا۔

انڈیا میں چنائی (مدراس) کے کالج سٹوڈنٹس نے جو یہ سیارہ تیار کیا ہے اس کا وزن صرف 33.39گرام ہے۔ اگر اس کو کلوگرام میں تبدیل کیا جائے تو یہ وزن صرف 0.03کلوگرام ہوگا! ۔۔۔کہا جا رہا ہے کہ اتنے چھوٹے سائز کا سیارہ بنا کر انڈیا نے ایک عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔اسے اسی سال اگست میں امریکہ میں کسی مقام سے خلاء میں بھیجا جائے گا۔

اس کی تیاری کے مراحل پر ایک طویل مقالہ لکھا جا سکتا ہے۔ میں تو آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انڈیا میں خلائی سائنس کے موضوع کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔ لیکن اس کی پشت پر ان کی حکومت ہے جو کئی عشروں سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے موضوعات کو عالمی سطح پر اپنے ہاں فروغ دے رہی ہے۔

اس کا نتیجہ ہے کہ انڈیا سری ہاری کوٹا میں اپنے لانچنگ سٹیشنوں سے ترقی یافتہ ممالک کے سیارے خلاء میں بھیج رہا ہے اور زرِ مبادلہ کما رہا ہے۔۔۔ چلیں اس موضوع کو یہیں چھوڑتے ہیں اور اپنے اس سیٹلائٹ کی بات کرتے ہیں۔

دو روز پہلے وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سوشل میڈیا پر یہ خبر بریک کی ہے کہ پاکستان اس سال ماہِ جولائی میں اپنا ایک ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ (RSS)خلاء میں بھیج رہا ہے جس کا نام Pak TES-IA ہوگا۔ اسے پاکستان ہی میں تیار کیا گیا ہے۔

اس کا وزن 285کلوگرام (سات من سے کچھ زیادہ) ہے اور یہ زمین سے 610کلومیٹر کے بلندی پر مدارِ ارضی میں گردش کرے گا۔لیکن سورج کے مقابلے میں زمین کے اوپر ایک ہی زاویئے پر ساکن رہے گا۔

اس سے پہلے چین نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ اسی سال کے شروع میں پاکستان کے لئے دو سیارے خلاء میں بھیجے گا جو چین اور پاکستان کی مشترکہ کاوش ہوں گے۔ اس پر پاکستان کا سپارکو (Suparco) ’’سپیس اینڈ اَپر ایٹما سفیئرریسرچ کمیشن‘‘ اور چین کی ’’چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل‘‘ (CALVT) مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

ان سیاروں کا مقصد جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، مشاہداتی یعنی خلاء سے زمین کی مانیٹرنگ کرنا اور سطحِ مدارِ ارضی سے مختلف زمینی علاقوں کی تصاویر لینا ہے۔ 2016ء میں بھی چین اور پاکستان نے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کا مقصد ایک ایسا سیارہ بنانا تھا جس سے CPECکی مانیٹرنگ کی جا سکے اور اس کی تدریجی تعمیر و تشکیل کی تصویرکشی کی جا سکے۔

جیسا کہ آپ کو معلوم ہوگا 1957ء میں روس نے اپنا پہلا خلائی سیارہ ’’سپتنک ون ‘‘ خلاء میں بھیجا تھا۔ یہ ایک بڑی خبر تھی جس کو امریکہ نے نہائت سنجیدگی سے لیا اور شدید رقابت کے زیرِ اثر اپنی خلائی ٹیکنالوجی کی استعداد کو اتنا آگے بڑھایا کہ 1969ء میں نیل آرمسٹرانگ وہ پہلا امریکی خلانورد بن گیا جس نے چاند پر اتر کر زمین کو پیغام دیا تھا کہ یہ انسان کی پہلی بڑی جست ہے!۔۔۔ اس کے بعد کی تاریخ آپ کو معلوم ہے۔ خلائی شٹلوں کی آمد و رفت اور خلائی اسٹیشنوں کا قیام ایک معمول بن گیا۔ بعد میں چین بھی اس دوڑ میں شامل ہو گیا اور اس نے تو زمین پر سے ایک میزائل خلاء میں بھیج کر اپنے ہی ایک سیارے کو مار گرایا اور روس اور امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ وہ ان کی خلائی گاڑیوں،خلائی سٹیشنوں اور خلائی شٹلوں کو مار گرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے بعد ویسے تو ’’چپ چپاں‘‘ ہے لیکن امریکہ، روس اور چین خلائی سائنس میں کہاں تک پہنچ چکے ہیں اس کی خبر صرف ان تینوں ہی کو ہے۔ زمین کے باقی باسیوں کو معلوم نہیں کہ خلاء میں کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں اور نظامِ شمسی کے کن سیاروں پر اترنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کہکشاؤں اور کالے سوراخوں (Black Holes) کا کیف و کم کیا ہے، اس کی بھی کوئی خبر سوائے ان تین خلائی طاقتوں کے کسی اور کو نہیں۔

پاکستان اب تک اپنے جغرافیائی علاقوں کی خلائی تصاویر دوسرے ملکوں سے خریدتا رہا ہے جو بڑے مہنگے داموں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ ہمارے بعض دانشور اور مذہبی رہنما تو ان خلائی پیش رفتوں کو مذاق سمجھتے ہیں اور’’خدائی راز‘‘ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں اور اقبال کویاد کرتے ہیں:

چشمِ مسلماں میں ہے پھر سے وہی اضطراب

رازِ خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباں

لیکن اسی اقبال نے یہ بھی تو کہا تھا:

کاررواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا

مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

عشق کی اک جَست نے طے کر دیا قصہ تمام

اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں

میڈیا پر سپارکو ذرائع نے اتنا ہی بتایا ہے کہ چین کے اشتراک سے سیاروں کے تین ڈیزائنوں پر کام جاری ہے۔ پاکستان کو چونکہ خلائی تصاویر اور خلائی معلومات کی ضروت تھی اور ہے اور اس پر کثیر زرِ مبادلہ صرف ہو رہا تھا اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ سپارکو کا سالانہ بجٹ بڑھایا جائے۔ یہ خبر بھی ہم پاکستانیوں کے لئے خوش آئند ہے کہ پاکستان نے غیر ملکی سیٹلائٹوں سے سول اور ملٹری مقاصد کے لئے معلومات خریدنے پر انحصار کم کرنے پر از بس توجہ دی ہے۔

اور مالی سال 2018-19ء کے لئے سپارکو کا بجٹ 4.75ارب کردیا گیا ہے۔ اس رقم میں سے اڑھائی ارب روپے تین نئے منصوبوں کے لئے منظور کئے گئے ہیں۔

ان میں ایک منصوبہ ایک ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ایک ایک خلائی مرکزقائم کرنے کا ہے، دوسرا منصوبہ 1.35ارب روپے سے ملٹی مشن سیٹلائٹ بنانے کا ہے اور تیسرا منصوبہ کراچی میں ایک خلائی تحقیقی مرکز قائم کرنے کا ہے جس کے لئے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

یہ تینوں منصوبے پانچ سات برس میں بتدریج مکمل کئے جائیں گے اور ان پر کل لاگت کا تخمینہ تقریباً 54ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں 27ارب روپے ملٹی مشن سیٹلائٹ پر اور 27ارب خلائی مرکزوں کی تعمیر پر خرچ ہوں گے۔

گزشتہ چار پانچ عشروں سے پاکستان، امریکہ اور فرانس سے خلائی معلومات خریدتا آرہا ہے۔ یہ معلومات سول اور فوجی مقاصد کے لئے درکار ہوتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ گزشتہ چند برسوں سے پاکستان انٹرنیٹ، GPS اور موبائل ٹیلی فونوں سے زیادہ استفادہ کرنے پر مجبور ہے۔

گزشتہ پانچ سات برسوں میں جس قدر فروغ موبائل فونوں کو ملا ہے اور جن خلائی معلومات کی رسائی کے لئے پاکستان کو ان غیر ملکی سیاروں سے مدد لینی پڑی ہے اس کے بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں۔ انڈیانے بہت سے مواصلاتی خلائی سیارے فضا میں چھوڑ رکھے ہیں جو دن رات ’’خلائی آنکھوں‘‘ کا کام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے سدباب کے لئے بھی ہمیں خلائی سیاروں سے حاصل ہونے والی رئیل ٹائم انٹلی جنس کی ضرورت ہے۔

ماضئ قریب میں پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر ان دہشت گردوں کو ملک بدر کیا ہے جن کو جدید مواصلاتی سہولیات میسر تھیں۔ یہ سہولیات ،را اور CIA کے تعاون سے ان کو مل رہی تھیں (اور اب بھی مل رہی ہیں) ہر گزرنے والا دن مشاہداتی اور مواصلاتی سیاروں کی اہمیت کا گویا ڈھنڈورہ پیٹ رہا ہے۔

ان مواصلاتی اورمشاہداتی سیاروں نے اس خطے (ریجن) میں سٹرٹیجک اہمیت کی جو تبدیلیاں پیدا کردی ہیں ان سے عہدہ برآ ہونا بہت ضروری ہے۔ ہمارے مشرق میں انڈیا ہے جس کی مواصلاتی خلائی رسائی کی تفصیل، ایک الگ اور وسیع مضمون ہے۔ انڈیا اب اپنے ہاں مشاہداتی سیارے بناکر بھی لانچ کررہا ہے۔ اپنے سمارٹ ٹی وی پر آپ دیکھ رہے ہیں کہ سارے غیر ملکی چینل انڈیا کے تصرف میں ہیں۔

اس نے ان پر پانی کی طرح پیسہ بہایا ہے۔ بی بی سی، سی این این، الجزیرہ، اسکائی نیوز، اینمل ورلڈ، نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری چینل سب کے سب انڈیا نے خرید رکھے ہیں اور ان کی نشریات انڈین رسائی میں ہیں۔ ان پر دن رات انڈیا کے پراپیگنڈہ کمرشل چلتے رہتے ہیں۔ انڈیا اور امریکہ اب نہ صرف پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کر چکے ہیں بلکہ اسرائیل بھی ساتھ مل گیا ہے جس کی خبریں بہت کم آتی ہیں، آپ کسی اسرائیلی چینل کی APP کو اپنے موبائل پر اپ لوڈ کرنے کی کوشش کریں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان تینوں نے (امریکہ، اسرائیل اور انڈیا) پاکستان کو بالخصوص ٹارگٹ کررکھاہے۔ اپنی معلومات ہم سے چھپانا اور ہماری معلومات کو اچک لے جانا ان کی پہلی ترجیح ہے۔

میرے خیال میں پاکستان کو آنے والے برسوں میں سپارکو کا بجٹ دگنا تگنا کرنا پڑے گا۔۔۔۔لیکن فی الحال تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارا یہ پہلا مواصلاتی/ مشاہداتی سیارہ جو جولائی میں چھوڑا جائے گا، اس سے ہمیں کس حد تک فائدہ پہنچتا ہے اور یہ منصوبہ کتنا کامیاب رہتا ہے۔

مزید : رائے /کالم