تجارتی وکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کی واحد امیدٹیکس ایمنسٹی سکیم‘ پیاف

تجارتی وکرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پورا کرنے کی واحد امیدٹیکس ایمنسٹی سکیم‘ پیاف

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ ملکی معیشت مالی بحران کا شکار ہے گزشستہ چھ ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں یکے بعد دیگرے تین مرتبہ کمی واقع ہونا اسکے ساتھ ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں درپیش 40 فیصد کمی اور اس تناظر میں عالمی مالیاتی کریڈٹ ایجنسی موڈیز کا پاکستان کی کرنسی ریٹنگ بی تھری مستحکم سے بی تھری منفی کئے جانا تشویش ناک ہے تاہم موڈیز نے پاکستان کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے رحجان کا سراہا ہے اور توانائی کی فراہمی میں بہتری اور انفراسٹرکچر کے جاری منصوبوں کی حمایت کی ہے۔ تاہم پاکستان کے ایکسٹرنل اکاؤنٹ کا مسئلہ بھی گزشستہ سال سے کرنٹ اکاؤنٹ کو متاثر کر رہا ہے۔موڈیز کی طرف سے ریٹنگ کے منفی ہونے اور روپے کی قیمت میں کمی اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں میں مزید500 ارب وپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔

چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ نے سیئنر وائس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو پورا کرنے کی واحد امیدٹیکس ایمنسٹی سکیم کی شکل میں نظر آ رہی ہے جس کی وجہ سے مالیاتی شعبہ میں بہتری آ سکتی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے حالیہ نتائج سے پر امید ہے اس حوالے سے گیارہ سو افراد کا135 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کرنا جس سے حکومت کو 4 ارب کی آمدنی ہوئی ہے ۔درآمدات کی حوصلہ شکنی اور برآمدات بڑھنے سے بھی حالات میں بہتری آ سکتی ہے ۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیلئے برآمدات میں اضافہ کیلئے موثر اقدامات کیے جائیں جن میں صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائیں کیونکہ ملکی مصنوعات کی مہنگی پیداواری لاگت سے قیمتوں میں اضافہ اور بیرون ملک منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں کمی اور برآمدات میں مسلسل کمی سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کمی کا شکار ہیں ۔سیئنروائس چیئرمین پیاف تنویر احمد صوفی اور وائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے اقتصادی ادارے خصوصاٰ وزارت خزانہ اور تجارت جاری معاشی پالیسیوں پر کڑی نظر رکھتے ہوئے برآمدات بڑھانے اور ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کی بھرپور کو شیش کریں۔اس تناظر میں بہت ضروری ہے کہ ٹیکس دہندگان اور برآمد کننگان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

مزید : کامرس