’’ قبل از تقسیم پنجاب کی یا د میں‘‘

’’ قبل از تقسیم پنجاب کی یا د میں‘‘

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے زیرِ اہتمام بھارت سے آئے مہمانوں کے اعزاز میں  کے عنوان سے ‘‘ سیمینار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پروفیسر روچی رام ساہنی قیامِ پاکستان سے قبل متحدہ پنجاب کے پہلے سائنسدان اور کیمیا دان سمجھے جاتے ہیں مع جہ۔ ان کی پیدائش 1863ء میں ہوئی اور انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں وہ یہیں پر معلم کے طور پر کیمیا پڑھانے لگے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ انگریز دور میں گورنمنٹ کالج کے شعبہِ کیمیا کے پہلے ہندوستانی سربراہ لگائے گئے۔ وہ یہاں لاہور میں گلبرگ کے علاقہ میں رہتے تھے۔ خیر جب پاکستان بنا اور پنجاب کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تو انہیں مجبوراً لاہور چھوڑنا پڑا، اس کے ساتھ ہی بے تحاشا یادیں اور لافانی محبت کو چھوڑ جانا پڑا۔ انہیں اس بات کا بڑا گزند پہنچا اور اسی وجہ سے بھارت جا کر انہوں نے ایک کتاب بعنوان In the Memoir of Pre-Partition Punjab لکھی جس میں انہوں نے گورنمنٹ کالج اور لاہور سے وابستہ اپنی یادداشتوں کو محفوظ کیا۔ یہ کتاب تقریباً سات جلدوں پر مشتمل تھی جس میں انہوں نے اپنی جدوجہد اور حالات و واقعات کا بخوبی تذکرہ کیا۔ اس کتاب کو کچھ خاص پذیرائی نہ مل سکی اور یوں یہ نایاب کتاب چندی گڑھ کی ایک لائبریری میں یادِ گم گشتہ کا حصہ بن گئی۔

کافی عرصہ بعد ڈاکٹر نیرا بْرَّاہ جو کہ پروفیسر روچی رام ساہنی جی کی بیٹی ہیں، نے اپنے والد کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کی کاوشوں کا آغاز کیا۔ وہ چندی گڑھ کی اسی لائبریری میں گئیں جہاں ان کی لکھی گئی کتاب پڑی تھی۔ وہاں کے آرکائیو کو کھنگالا مگر کتاب نہ ملی۔ ڈاکٹر نیرا براہ کے مطابق انہوں نے لائبریرین سے کسی ایسے مقفل کمرے کا پتہ لگوایا جہاں تک پہلے کبھی کسی کو رسائی نہ تھی اور اس کے تالے کی چابیاں بھی گم ہو چکی تھیں، وہیں انہیں روچی رام ساہنی جی کی وہ کتاب ملی جو زمانوں کے تغیر کا شکار ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر نیرا براہ نے بہت محنت سے اس پر مزید تحقیق کی اور اسے ایڈٹ کیا، یوں وہ سات جلدوں والی کتاب چودہ ضخیم جلدوں پر پھیل گئی۔

لاہور میں ایک ادبی میلے کے موقع پر ڈاکٹر نیرا براہ تشریف لائیں تو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی انتظامیہ نے پروفیسر روچی رام ساہنی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور انہیں خصوصی طور پر مدعو کیا۔ سیمینار میں ان کی گفتگو تقسیم پنجاب سے پہلے کے واقعات اور روچی رام ساہنی کی اسی کتاب کے حوالہ سے رکھی گئی۔ جب انہوں نے اپنی بات کا آغاز کیا تو اس کتاب کو اکٹھا کرنے اور اس پر تحقیق کے دوران پیش آنے والے کٹھن حالات کا ہلکا پھلکا تذکرہ کیا۔ وہ یہ بات بتاتے ہوئے بہت جذباتی ہو گئیں کہ جب ان کے والد نے لاہور سے دلی ہجرت کی تو گویا یہ امیری سے غریبی کا سفر تھا جس نے ان کے والد کی باقی ماندہ زندگی پر دوررَس اثرات مرتب کیے اور انہیں حالات کے زیرِ اثر انہوں نے یہ کتاب لکھی۔ وہ کچھ تصاویر بھی ساتھ لائی تھیں جو انہوں نے دورانِ گفتگو طلباء و اساتذہ کو دکھائیں اور ساتھ ساتھ ان کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد لندن میں اس وقت کے مایہ ناز سائنسدانوں نیلز بوہر اور ردرفورڈ کے ساتھ بھی کام کرتے رہے جنہوں نے ایٹم کی ساخت کے حوالے سے پہلی دفعہ تھیوریز پیش کی تھیں۔ جب روچی رام ساہنی جی گورنمنٹ کالج کے شعبہِ کیمیا کے سربراہ بنے تو اس وقت انہیں کچھ انگریز اساتذہ کی مخالفت بھی برداشت کرنا پڑی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ روچی رام ساہنی تو ہندوستانی ہیں، اور اگر وہ سربراہِ شعبہ بنائے گئے تو انگریز اساتذہ کو ان کے ماتحت کام کرنا پڑے گا، بہرحال وہ کسی طور سربراہِ شعبہ مقرر کر دیے گئے مگر ان کی تنخواہ دوسو روپے ماہوار رکھی گئی جبکہ ان کے ماتحت کام کرنے والے انگریز اساتذہ چھ سو روپے ماہوار لیتے تھے۔ ڈاکٹر نیرا براہ کے بقول روچی رام ساہنی جی ہمیشہ سائنسی علوم کے فروغ کے لیے کوشاں رہے، ان کا نظریہ یہ تھا کہ ہمیں بنیادی سطح پر اپنے عوام کو سائنسی شعور دینا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں مادری زبان یعنی پنجابی کو بطور میڈیم استعمال کرنا چاہیے کیونکہ مادری زبان میں کسی بھی علم کو حاصل کرنا بہت آسان اور منطقی ہے۔ پروفیسر روچی رام ساہنی کو ان کی سائنس کے شعبہ میں خدمات کی وجہ سے سرکار کی طرف سے "رائے صاحب" کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ وہ 1918ء تک شعبہِ کیمیا کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ۔سیاسی طور پر وہ نیشنل کانگریس کے ساتھ وابستہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ 1919ء میں جب خلافت تحریک کا آغاز ہوا تو مولانا محمد شوکت علی نے انہیں نیشنلسٹ ہونے کی وجہ سے سرکار کی طرف سے دیا گیا خطاب واپس کرنے کا کہا اور انہوں نے وہ خطاب واپس کر دیا جس پر گورنمنٹ کالج کے انگریز پرنسپل سٹیفنسن نے شعبہِ کیمیا کے دفتر سے ان کی تصویر اتروا دی جسے بعد ازاں طلباء کے پرزور احتجاج پر دوبارہ لگانا پڑا۔اکٹر نیرا براہ نے مزید بتایا کہ جون 1947ء میں جب روچی رام ساہنی جی کو لاہور چھوڑنا پڑا تو ان کا لکھا گیا بے تحاشا غیر شائع شدہ مواد پبلشرز کے پاس پڑا ہوا تھا جسے ان حالات میں محفوظ رکھنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ علاوہ ازیں ان کی بہت ساری کتابیں بھی یہیں لاہور ہی رہ گئی تھیں۔ 2014ء میں جب ملیحہ لودھی نے ڈاکٹر نیرا براہ کو روچی رام ساہنی جی کے لاہور والے گھر کا دورہ کرایا تو اس کی حالت نہایت فرسودہ تھی یہاں تک کہ وہاں کسی قسم کی کوئی کتاب یا زندگی کے آثار نہیں تھے۔

پاکستان کے دورِ حاضر کے نامور مورخ اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں شعبہِ تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر طاہر کامران نے بھی اس کتاب پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور بتایا کہ جب یہ کتاب شائع ہوئی تھی تو انہوں نے ڈیلی ٹائمز میں اس پر ایک ریویو بھی لکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر روچی رام ساہنی واقعی طور پر ایک عظیم سائنسدان تھے اور شعبہ کیمیا سے وابستہ اساتذہ و طلباء کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ان کے شعبہ میں ایسے لوگ بھی رہ کر گئے ہیں۔

ان کے بعد آرکیٹیکچر کے پروفیسر پرویز ہوواند کو سٹیج پر بلایا گیا۔ انہوں نے کافی دیر روچی رام ساہنی جی کی خدمات اور ان کے حالات و واقعات کا ذکر کیا۔وہ کہنے لگے کہ ایک دفعہ جب روچی رام ساہنی امرتسر میں ہوا کرتے تھے تو لاہور کے انگریز کمشنر کی بیوی کے کیمرہ کا لکڑی کا سٹینڈ ٹوٹ گیا۔ کمشنر نے اعلان کروایا کہ کوئی بڑھئی یہ سٹینڈ دوبارہ بنا دے مگر چونکہ کمشنر بہت سخت آدمی تھا اس لیے کوئی بھی شخص وہ کام کرنے سے گھبراتا تھا مگر روچی رام ساہنی جو کہ اس وقت سترہ سال کے تھے، نے وہ سٹینڈ بنا دیا چونکہ تب وہ یہی کام کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ روچی رام ساہنی اور سر گنگا رام نے مل کر کئی جگہوں پر کام کیا۔ انہوں نے روچی رام ساہنی کی ابتدائی تعلیم اور میٹرک کے کچھ واقعات بھی سنائے۔

اس کے ساتھ ہی نشست برخواست کر دی گئی اور اختتام پر شعبہ فائن آرٹس کے سربراہ عرفان اللہ بابر کی طرف سے بنایا گیا روچی رام ساہنی کا پورٹریٹ ان کی بیٹی ڈاکٹر نیرا براہ کو پیش کیا گیا، پھر وائس چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ صاحب کی طرف سے انہیں سووینئیر اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا۔

***

Back to

مزید : ایڈیشن 1