گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور بی ایس آنرز پروگرام کے سلسلے میں ضروریات

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور بی ایس آنرز پروگرام کے سلسلے میں ضروریات

گورنمنٹ کالج لاہور جسے گزشتہ 18سال سے یونیورسٹی کا درجہ دیا جا چکا ہے، اس لحاظ سے ایک اعلیٰ معیار کا خوش قسمت ادارہ ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور پنجاب کے موجودہ نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر سید حسن عسکری رضوی سمیت بیورو کریسی ، عدلیہ اور دیگر تمام شعبوں میں اولڈ راوینز نہ صرف بلند و بالا مقامات پر موجود ہیں بلکہ اپنی مادر علمی کی ضروریات پوری کرنے اور اس کے تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے ہر طرح کے اختیارات اور وسائل کے حامل بھی ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی جو بذات خود ایک استاد اور دانشور ہیں انہوں نے چارج سنبھالتے ہی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے انڈومنٹ فنڈ کے لئے مبلغ 5لاکھ روپیہ کا عطیہ دیا ہے۔

اولڈ راوینز یونین بھی انڈومنٹ فنڈ کے عطیات کے سلسلے میں سرگرم عمل رہتی ہے، لیکن آیئے ذرا اس امر کا جائزہ لیں کہ جب گورنمنٹ کالج کو ابھی نہ تو خود مختاری ملی تھی اور نہ ہی اسے یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس ادارے نے علامہ اقبال، فیض احمد فیض، پطرس بخاری اور صوفی تبسم جیسی شخصیات کو جنم دیا۔ اس زمانے میں تعلیمی اخراجات اور فیسیں برائے نام ہوتی تھیں اور میرٹ پر آنے والے تمام طلباء و طالبات کو بآسانی داخلہ مل جاتا تھا جبکہ ان کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات بھی برداشت کر سکتے تھے۔ جب ادارے کو خود مختاری ملی تو فیسوں اور اخراجات میں اضافہ کر دیا گیا اور غریب و مستحق طلباء گورنمنٹ کالج کی بجائے نجی شعبے کے اداروں کا رخ کرنے لگے۔ جس دور میں یہ ادارہ خود مختار نہیں ہوا تھا تو یہاں سینئر فیکلٹی میں ایک سو سے زائد اساتذہ موجود تھے جنہیں بتدریج دیگر سرکاری کالجوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ پرنسپل کی گریڈ بیس کی اسامی بھی گورنمنٹ کالج گلبرگ کو منتقل کر دی گئی۔ خود مختاری کے دور میں جونیئر اساتذہ سے کام چلایا جاتا رہا۔سابق پرنسپل اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد آفتاب جو سیاسی بنیادوں پر طویل عرصہ اس ادارے کے سربراہ رہے ان کے دور میں یہاں سینئر فیکلٹی کو ختم کر دیا گیا۔ ان کے بعد پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن اور موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے یونیورسٹی کے سیکشن بورڈ کو متحرک کیا اور اب یہاں مختلف شعبوں میں پروفیسر اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خلیق الرحمن نے ابتدائی طور پر طلباء و طالبات کی آسمانوں تک پہچی ہوئی فیسوں میں کچھ کمی کی تھی لیکن اب بجائے فیسوں اور اخراجات میں کمی کرنے کے انڈومنٹ فنڈ کے لئے عطیات اکٹھے کئے جاتے ہیں جو مستحق اور ضرورت مند طلباء و طالبات کی بہت کم تعداد تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لائق اور مستحق طلباء نجی اداروں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ہوسٹلوں میں داخلے اور رہائش کے اخراجات بھی کچھ کم نہیں ہیں اور کم وسائل رکھنے والے طلباء و طالبات ہوسٹل میں داخلے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہوسٹلوں کے وارڈن صاحبان کو انتظامی لحاظ سے وہ اختیارات بھی حاصل نہیں ہیں کہ وہ ان ہوسٹلز کے معاملات پر گہری توجہ مرکوز کرکے معاملات کو بہتر بنا سکیں جبکہ ہوسٹل سپرنٹنڈنٹس کے اختیارات بہت وسیع ہیں۔

بی ایس آنرز پروگرام

دیگر یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طرح گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں بھی بی ایس آنرز اور بی ایس سی آنرز پروگرام کا اجرا کیا گیا ہے لیکن اس کے لئے سینئر فیکلٹی اور قابل اساتذہ کی کمی ہے طلباء و طالبات کو کتابوں کے حصول کے لئے بھی بے پناہ جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ یونیورسٹی میں نہ تو کوئی بک بینک ہے اور نہ ہی لائبریری میں بی ایس آنرز کے لئے کتابوں کا کوئی خطیر اضافہ کیا گیا ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لائبریری جہاں محترمہ فرخندہ لودھی اور عبدالوحید جیسے چیف لائبریرین تعینات رہ چکے ہیں ایک طویل عرصے سے یہاں چیف لائبریرین کا عہدہ خالی چلا آ رہا ہے اور اس عہدے پر موزوں تقرر یا سلیکشن کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا یونیورسٹی لائبریری میں چار لاکھ سے زیادہ کتابوں کا گرانقدر ذخیرہ موجود ہے لیکن اس کے معاملات کو دیکھنے کے لئے چیف لائبریرین اور دیگر سینئرافسران موجود نہیں ہیں۔ لائبریری کے ملازمین کو نہ تو پروموشن دی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے عہدوں کو اپ گریڈ یا Redesignateکیا جاتا ہے جو ملازمین تندہی اور دیانتداری سے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔ ان پر کام کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے جن ملازمین کے پاس کوئی بڑی سفارش یا کسی افسر کی اشیرباد نہیں ہے وہ بس کام، کام اور کام ہی کرتے رہتے ہیں۔

ملازمین کی ریگولرازیشن

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی مختلف اقامت گاہوں اور دفاتر میں بے شمار ایسے ملازمین ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عارضی بنیادوں پر کام کررہے ہیں۔نہ صرف یہ کہ ان ملازمین کو ریگولرائز کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا بلکہ جب بھی موقع ملتا ہے کسی نہ کسی ملازم کو اس کی طویل خدمات، اہل و عیال اور تعلیمی قابلیت کو دیکھے بغیر ملازمت سے جواب دے دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسن امیر شاہ ایک شفیق اور انسان دوست شخصیت ہیں اگر وہ ان ملازمین کو سپریم کورٹ اور دیگر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں ریگولراز کرنے کے لئے اقدامات کریں تو یہ ملازمین ان کے اقبال کی بلندی کے لئے ہمیشہ دعاگو رہیں گے۔

اقامت گاہوں کی ضرورت

جی سی یونیورسٹی میں انٹرمیڈیٹ سے پوسٹ گریجویشن تک طلباء کے لئے تین پرانے ہوسٹل اور طالبات کے لئے ایک ہوسٹل موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ اقامتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مزید ہوسٹلوں کے قیام کی پلاننگ کی جائے۔ نیز ہوسٹلوں میں داخلے کے اخراجات پر بھی کچھ نظرثانی کی جائے تاکہ مستحق طلباء بھی ہوسٹل میں داخلہ لے سکیں اور پرائیویٹ شعبے کے ہوسٹلز کا رخ نہ کریں۔

یونیورسٹی کا نیا کیمپس کالاشاہ کاکو اور اس میں آغاز کارکی ضرورت

طلباء و طالبات کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے لئے کالاشاہ کاکو میں یونیورسٹی کا نیا کیمپس شروع ہوتا تھا۔ ان معاملات کو بھی آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

مزید : ایڈیشن 1