پاکستانی امیگریشن حکام نے قومی ٹیم کو واہگہ بارڈر پر روک لیا

پاکستانی امیگریشن حکام نے قومی ٹیم کو واہگہ بارڈر پر روک لیا

لاہور(کرائم رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)شطرنج کے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لیے بھارت جانے والی 14 رکنی ٹیم کو پاکستان اسپورٹس بورڈ سے این او سی نہ ملنے کو جواز بنا کر واہگہ بارڈرپرروک لیاگیا جس پرپاکستان چیس فیڈریشن نے شدیداحتجاج کیاہے۔ 14 رکنی ٹیم بھارت جانے کے لیے دوستی بس کے ذریعے لاہورسے واہگہ بارڈرپہنچی تو امیگریشن حکام نے چیس ٹیم کوکلیئرنس دینے سے انکارکردیا، ٹیم میں انٹرنیشنل و گرینڈ چیس ماسٹر محمود لودھی، عالمی سطح پر کم عمر ترین شطرنج چیمپئن مہک گل اورچیس فیڈریشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل وقار احمد مدنی اور دیگر آفیشل شامل ہیں۔وقاراحمد مدنی نے بتایا کہ سینیٹر کلثوم پروین نے شطرنج ٹیم کو کامن ویلتھ چیس چیمپئن شپ میں شرکت سے روکنے کے لیے ایف آئی اے کو خط لکھا ہے، سینیٹر کلثوم پروین کے دباؤ پر امیگریشن حکام نے بغیر وجہ کے پاکستان چیس فیڈریشن کی سربراہی میں بھارت جانے والی پاکستانی ٹیم کو واہگہ بارڈر پر روک لیا ہے۔وقاراحمد مدنی نے بتایا کہ سینیٹر کلثوم پروین کے خط پر امیگریشن حکام نے چھان بین اور تحقیق کے بغیر ہی قومی شطرنج ٹیم کے آئینی حقوق سلب کر لیے ہیں، ہمارے پاسپورٹ، ویزے اور دستاویزات ٹھیک ہیں، دعوت نامہ ہمارے پاس ہے پھر کیوں روکا گیا ہے سمجھ سے بالاترہے ، ہمارے اپنے یہ سلوک کریں گے امید نہیں تھی۔ سینیٹر کلثوم پروین اور ایف آئی اے کے اس عمل سے پاکستان کی دنیا میں سبکی ہو رہی ہے، کسی بھی شہری کو اس طرح ٹریول کرنے سے روکنا بنیادی انسانی حقوق اور آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے۔ سینیٹر کلثوم پروین خود ساختہ چیس فیڈریشن بنا کر اپنی ٹیم بھارت لے کر جانا چاہتی ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی